136

نیلم کے موڑ پر

نیلم کے موڑ پر
ھم کھانا کھا کے نکلے تو دن ڈھل رھا تھا ہر سو پھیلی ہریالی آنکھوں کو خیرہ کر رھی تھی۔ ہماری گاڑی سدھن گلی چنار ھوٹل سے نکل کرچڑھائی چڑھنے لگی، دور نزدیک پہاڑوں پر نظر آنے والے رنگ برنگے گھر بہت ہی خوبصورت لگ رھے تھے ۔ یہ کوہ قاف کا ھی سلسلہ لگ رہا تھا۔ کشمیر کی عظیم شاعرہ حبہ خاتون نے کشمیری زبان میں خوبصورت شاعری کی ہے۔ جس کو بلبل کشمیر کا خطاب بھی دیا گیا ہے، وہ کہتی ہیں کہ سرد موسموں میں کشمیر کے سونامرگ، بارمولا،نیلم ویلی میں پریاں اترتی ہیں۔ محمد خالد اختر نے بھی ایک شاندار لازوال ناول کیپواڑہ میں وصال بھی اسی تناظر میں لکھا ہے۔ ہماری گاڑی پہاڑ کی دوسری جانب سانپ کی طرح بل کھاتی ہوئی سڑک پراُترائیوں میں اُتر رہی تھی۔ جنت نظیر کی یہ دلفریب وادیاں دیکھ کر عزیز احمد کا ناول آگ اور شمس الرحمان فاروقی کا کئی چاند تھے سر آسمان یاد آرہے تھے۔ ان دونوں ناولوں میں کشمیر کے شہروں وادیوں کے دلفریب مناظر کے لینڈ اسکیپ کو بیان کیا ہے۔ میرے دل میں ہمیشہ ایک کسک سی رہی ہے کہ کبھی کوہ قاف کے دیس جاوں گا۔ ہم سنتے رھے کہ دنیا میں اگر کہیں پریاں اترتی ہیں تو وہ روس میں کوہ قاف کے پہاڑوں میں اترتی ہیں۔وہ مناظر دیکھوں گا۔ لازوال روسی ناول نگار میسکم گورکی کا شہرہ آفاق ناول ،ماں،عظیم ناول نگار لیو ٹالسٹائی کا،،وار اینڈ پیس،، دوستو فسکی کا، کرائم اینڈ پنشمنٹ،،محبت کا لازوال داستانی ناول،،روڈرین،،لکھنے والے ایوان ترگنیف، نیچرل کہانیاں بیان کرنے والے آنٹن چیفوف، اپنے گاوں کی علاقائی خوبصورتیاں لکھنے والے، میرا داغستان، والے حمزہ رسول طوف، کے دیس کو دیکھوں گا۔ جس کے خوبصورت شہر آدھی دنیا پر پھیلے ہوئے ہیں۔ لیکن کشمیر کی یہ طلسماتی وادیاں دیکھ کر میرا سپنا یہاں پر ہی پورا ہوگیا تھا۔ مجھے یقین ہے رشین ادب لکھنے والے ان عظیم لوگوں نے اگر کشمیر دیکھ لیا ہوتا تو ان پرستانی وادیوں پر بھی ایسے ہی ضخیم ناول لکھتے۔ ہم ان سر سبز پہاڑوں کی اترائیوں،چڑھائیوں سے اترتے گزرتے ہوئے سڑک سے دور ایک وادی میں پہنچ گئے تھے۔ یہ سڑک بہت تنگ تھی۔ ایک جگہ لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے راستہ بند تھا۔ وہاں ہمیں کچھ دیر رکنا پڑا ایک کرین اور ڈرلنگ مشین سے پہاڑ کو کاٹ کرراستہ بنایا جا رہا تھا۔ تھوڑا سا راستہ بننے پر ہم وہاں سے نکل کر دوسری جانب وادی میں اتر گئےتھے۔ چنار، چیڑ، دیا، آسمان کو چھوتے ہوئے صدیوں پرانے ان چھتناور درختوں نے جنت الزمیں است بنایا ہوا تھا۔ جس سڑک پر ہماری گاڑی دوڑ رہی تھی اس پر دور دور تک کوئی گاڑی نظر نہ آرہی تھی ایک مقام پر تھوڑی کھلی جگہ پر گاڑی روک کر کچھ یادگاری تصویریں اور ویڈیو کلپ بنائے۔ کوئی بندہ بشر نظر نہیں آرہا تھا۔ جس سے پوچھ لیتے یہ کون سی جگہ ہے ۔ ہم نے سفر جاری رکھا۔ جب کسی پہاڑ کی چوٹی سے گاڑی اترائیوں میں اترتی تو نیچے گہری کھائیاں دیکھ کر دل سہم سا جاتا تھا۔میرے دوست عقیل اور یاسین موبائل پر گوگل میپ سے راستہ بتائے جا رہے تھے۔ جس پر وحید بھائی اپنی ڈرائیونگ کا کمال دکھا رہے تھے۔ایک لمبا سفر کرکے ہم خوبصورت شہر چکار پہنچ گئے تھے۔ میرا عزیز دوست راجہ سہیل سہالہ کالج کا کلاس فیلو بیج میٹ یہاں کے رہنے والے ہیں۔ قسمت کی یاوری دیکھئے یہاں ان سے بھی ملاقات نہ ہوسکی۔ چکار، جہلم ویلی میں واقع ضلع ہٹیاں بالا کی ایک تحصیل ہے۔ یہ وہی ہٹیاں بالا ہے جو تقسیم سے قبل انڈین مقبوضہ کشمیر کے ضلع بارہ مولا کی تحصیل اوری کا حصہ تھا۔ چکار ایک ایسے سنگم پر واقع ہے جہاں سے ایک سڑک سدھن ویلی کو جاتی ہے اور ایک لیپا ویلی کو جو مظفرآباد سری نگر کشمیر ہائی وے کے ساتھ واقع ہے۔ یہ کشمیر ہائی وے روڑ بارڈر کی طرف چکوٹھی سیکٹر سے ہوتا ہوا سری نگر اور بارہ مولا شہر تک جاتا ہے۔ یہ کشمیر کا جی ٹی روڈ ہی ہے۔ کشمیر ہائی وے دریائے جہلم کے کنارے کے ساتھ ساتھ چلتا ہے یہ وہی دریائے جہلم ہے جوایک طرف ویرناگ، ویڑنگ،وولرجھیل،ڈل جھیل کے پانیوں کو لیتا ہوا، دوسری طرف سوپور، سونامرگ پیر پنجال کے پہاڑوں کے چھوٹے چھوٹے ندی نالوں کے پانیوں اور برف کو بہا کر لاتا ہے۔ سری نگر اور بارہ مولا شہر اس دریا کے کنارے پر واقع ہیں۔ جہلم لفظ سنسکرت زبان کا ہے جو دو لفظوں جل اور ہم سے ملکر بنا ہے،جل کا مطلب پانی، اور ہم کا مطلب پہاڑوں کی برف ہے، کشمیر سری نگر ہای وے ایک خوبصورت کھلا روڑ ہے، یہاں پہنچ کر ہمیں سکون کا سانس آیا۔ ہماری گاڑی دریائے جہلم کے کنارے مظفرآباد کی طرف دوڑ رہی تھی۔ اس سڑک کے ایک کنارے کے ساتھ دریائے جہلم جبکہ دوسرے کنارے پر آسمان کو چھوتے پہاڑ ہیں۔ ایک لمبا سفر کر پرخوبصورت شہر گڑھی دوپٹہ آتا ہے۔یہ شہر مظفرآباد سے قریب بیس کلومیٹر چکوٹھی سیکٹر واقع ہے۔ جہاں پر ایک پیٹرول پمپ سے گاڑی میں فیول ڈلوایا اور ساتھ ہی پولیس اسٹیشن کے پاس ایک چھوٹے سے ہوٹل سے کڑک چائے پی، تصویریں بنائیں۔ یہ وہی کڑھی دوپٹہ شہر ہے جہاں پر شاہ ولی اللہ دہلوی کے پیروکاروں کی انگریزوں کے ساتھ آزادی کی تحریک کے لئے جھڑپیں ہوئیں تھیں۔ یہ ایک خوبصورت تجارتی شہر ہے۔ ان وادیوں میں شہروں اور دیہاتوں میں لوگوں کا ذریعہ معاش زراعت، فارسٹری، اور تجارت ہے۔ یہاں وسیع رقبہ پر سرسبز جنگلات پہاڑوں پر پھیلے ہوئے ہیں۔ کئی فارسٹ ٹورسٹ ہٹ بنے ہوئے ہیں۔ ایک فارسٹ انسٹیٹیوٹ بھی واقع ہے۔ کسی زمانے میں یہاں قالین بافی اور کشمیری شال کا کاروبار چمکتا تھا۔ کشمیر کی بنی ہوئی یہ دونوں چیزیں ساری دنیا میں مشہور تھیں۔ شام ہورہی تھی جب ہم نے مظفرآباد کی طرف اپنا سفر جاری رکھا۔اب چونکہ سڑک کافی کشادہ اور ون وے تھی۔ ہم جلد ہی مظفرآباد شہر کے وسط میں پہنچ گئے۔ یہاں پر دو بڑے بڑے پل بنے ہوئے ہیں جہاں پر دو دریا آپس میں گلے ملتے ہیں۔ جس کو دومیل بولتے ہیں۔ ایک دریا جہلم جس کے کنارے ہم سفرکرتے آرہے تھے یہ مشرق سے جنوب مغرب کی طرف بہتا ہے۔ جبکہ دوسرا نیلے پانیوں والا دریائے نیلم ہے۔ جو شمال سے نیلم ویلی، تاو بٹ، منی مرگ، کی نیلی سبز وادیوں سے آتا ہے اور مظفرآباد شہر کے درمیاں پہنچ کر موڑ کاٹتے ہوئے جہلم کے پانیوں میں مل جاتا ہے ۔ یہ دریا سات سو پچیس کلومیٹر کا سفر کرتے ہوئے جھنگ سے اگے آٹھارہ ہزاری کے پاس ہیڈ تریموں کے مقام پر دریائے چناب سے ہم آغوش ہو جاتا ہے۔ یہاں پر مظفرآباد آباد شہر دونوں دریاوں کے چاروں اطراف صدیوں سے آباد ہے۔ سردار مظفر خاں نے سترہویں صدی کے وسط میں اس شہر کو آباد کیا تھا۔ جس کے نام پر اس شہر کا نام مظفرآباد پڑ گیا تھا۔ مغلوں کی فوجوں سے بچاو کے لیئے سردار مظفر خاں نے یہاں ایک ریڈ فورٹ بھی تعمیر کروایا تھا، یہ یہاں پر مقامی سرداروں اور سکھ حملہ آوروں کے درمیان جنگیں لڑی گئیں تھیں۔ یہ شہر آزاد جموں اینڈ کشمیر کا دارالخلافہ بھی ہے۔ یہاں پہنچ کر بڑے پل کے سامنے ہم نے ایک پٹھان ہوٹل پر گاڑی روک لی کھانے کا آرڈر دیا اور پل پر کھڑے ہو کر تصویریں اور ویڈیو بنانے لگے۔ راولا کوٹ شہر سے لمبا سفر کرکے باغ شہر پہنچے تھے اور وہاں سے سدھن ویلی اور چکار ویلی کے پرپیچ راستوں کا سفر کرتے شام ہوگی تھی بلکہ اندھیرا پھیل گیا تھا۔ لہذا کھانا کھا کر چائے سے دل بہلا کر تازہ دم ہوگئے۔ پھر مظفرآباد سپریم کورٹ کے سامنے پہنچ کر بجلی کے جگمگاتے قمقموں کی روشنیوں میں اپنی یادوں کو یاد رکھنے کے لئے تصویریں بنائیں ۔ رات کافی بیت چکی تھی۔ ہماری گاڑی ایبٹ آباد شہر کے ایک چھوٹے شہر بیروٹ کی طرف دوڑنے لگی۔ میرے دوست آپس میں باتیں کرنے لگے۔ میں دن بھر کے مناظر کے پس منطر میں سوچنے لگا کہ انسان کتنا عظیم ھے، خطرناک پہاڑوں کی چوٹیوں پر گہری کھائیوں، اُترائیوں، میں پھیلی وادیوں کو آباد کیا ھوا ھے۔ ان جگہوں پر بسے گھروں کو دیکھ کر انسان کی عظمت اور حوصلے کو سلام ھے۔ شاہد محمود سیالکوٹ
30/11/2025

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں