*جھنگ(جاوید اعوان سے)03 دسمبر کو دنیا پھر میں معذور افراد کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ھے*
*لیکن ہمارا ہر دن ایک امتحان ہوتا ہے*—
*صرف بیماری کا نہیں،*
*بلکہ معاشرے کے رویّوں کا بھی۔*
*ہم جسمانی تکلیف تو برداشت کر لیتے ہیں،*
*مگر لوگوں کی نظر میں کمتر سمجھے جانا،*
*ترس، طنز، بے اعتباری، اور بےحسی…*
*یہ وہ زخم ہیں جو اندر سے توڑ دیتے ہیں۔*
*ہم بھی انسان ہیں،*
*احساس رکھتے ہیں، عزت چاہتے ہیں،*
*اور عزت سے جینے کا حق رکھتے ہیں۔*
*اسی درد کے ساتھ ہم حکومتِ پاکستان اور خصوصاً*
*وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ سے چند بنیادی مطالبات کرتے ہیں:*
*مطالبات*
*ہر ضلع میں معذور افراد کے لیے ٹیکنیکل ادارہ ہونا چاہیے تا کہ یہ ہنر سیکھ کر باعزت طریقے سے روزگار حاصل کر سکے*
👈 *ہمت کارڈ کا وظیفہ ہر ماہ 10,500 روپے کیا جائے۔*
*3 ماہ بعد ملنے والی رقم ہماری ضروریات پوری نہیں کرتی۔*
👈 *محکمہ سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ سے جاری کردہ معزوری سرٹیفکیٹ کے حامل تمام معذور افراد کو بلا تفریق فوری ہمت کارڈ جاری کیے جائیں۔*
*کوئی مستحق محروم نہ رہے۔*
👈 *نوکریوں میں معذور افراد کا کوٹہ 3٪ سے بڑھا کر 5٪ کیا جائے*
*اور اس پر سختی سے عمل کروایا جائے،*
*تاکہ ہم بھی خودداری کے ساتھ روزگار حاصل کر سکیں۔*
👈 *سرکاری محکموں اور ہسپتالوں میں معذور افراد کے لیے الگ فعال ہیلپ ڈیسک قائم کی جائے،*
*تاکہ علاج اور ڈاکٹر تک رسائی آسان ہو سکے۔*
*ہم خیرات نہیں مانگتے… ہم عزت، سہولت اور اپنا حق مانگتے ہیں۔*
*معذور افراد کو ترس نہیں—سہارا، احترام اور برابر کا مقام چاہیے۔*
*Regards ‘* 🤲
*Qaisar Abbas Special Person*
*فلاحی گروپ فار سپیشل پرسنز ضلع جھنگ*









