*روشنیاں بانٹنے والے سکندر*
میں جناب علامہ عبدالستارعاصم صاحب سے کبھی نہیں ملا۔ میری اُن سے کبھی ملاقات نہیں ھوئی۔ ایک دوبار میل ملاقات کی بات ضرور ھوئی، لیکن کوئی ناں کوئی ہیر پھیر ایسا ہوجاتا کہ ملاقات نہ ہو پائی، اُن سے رابطہ صرف فون، واٹس ایپ کی حد تک رہا ہے۔ یہ رابطہ بھی ،،کاکولیات،،پیچ و تاب زندگی، اور،، غیر فوجی کالم،، کے مصنف بریگیڈئر ریٹائرڈ جناب صولت رضا صاحب کے توسط سے ہوا، جو کام حکومت اور سرکاری اداروں کے کرنے والے ہیں وہ آپ کی طرح اکیلا شخص کر رہا ہوتا ہے۔ اللہ پاک ان کو استقامت، ہمت حوصلہ دے کہ اس اندھے اندھیر میں آپ کتاب،علم،ادب اورعمل کی شمع فروزاں کئے ہوئے ہیں،خدا نے چاہا تو آپ روشنیاں بانٹیں گے اور بے حساب بانٹیں گے۔اس قحط الرجال اور کتاب کی قحط سالی کے زمانے میں علامہ صاحب قلم فاونڈیشن انٹرنیشنل کے نام سے یثرب کالونی، بینک سٹاپ والٹن روڑ لاہور میں پبلیکیشن کا ادارہ بنا کر کتابوں کی اشاعت کے ذریعے علم کی روشنی تقسیم کرنے کا پیڑا اٹھائے ہوئے ہیں۔ علامہ صاحب دورِ حاضر کے مبلغ،علم وادب،قول و عمل سے انسانی اصلاح وتربیت کرنے والے موٹیویشنل سپیکرجناب محترم قاسم علی شاہ صاحب کے ساتھ ملک کے ہر شہر میں کالجز،یونیورسٹییز،جیلوں میں لائبریری پراجیکٹ چلا رہے ہیں ۔اِس نفسا نفسی اور کسمپرسی کے دور میں کتاب کے ذریعے علم جیسا خیر تقسیم کر رہے ہیں بلکہ گھر،گھر علم کی شمع روشن کرنے کی سعی کر رہے ہیں ۔ میں علامہ صاحب کو دیکھ رہا ہوں ایک عرصہ سے گھاٹے کا سودا کئے بیٹھے ہیں،مہنگائی کے اِس زمانے میں نہ صرف معیاری کتابیں چھاپ رہے ہیں بلکہ جیب سے خرچ کرکے ہر اس شخص کو مفت بھجواتے ہیں جو علم و ادب سے، کتاب سے محبت کرتا ہے۔ علامہ صاحب خود بھی صاحب کتاب، صاحب علم و دانش ہیں۔ اِن کی حال میں ہی کتاب ،، ماں،، عظمتوں کی داستاں،، شائع ہوئی ہے۔جو اِن کو تاقیامت زندہ رکھے گئی بلکہ میں سمجھتا ہوں روز محشر ان کی بخشش کا ذریعہ بھی بنے گی۔ خدا ان کو استقامت، ہمت، حوصلہ، طاقت عطا فرمائے تاکہ وہ علم کی شمع کو فروزاں کئے رکھیں۔ اور ہم جیسے علم کے طالب راہنمائی لیتے رہیں ۔ علامہ صاحب خود بھی صاحب قلم و تحریر ہیں۔ اَب تک اُن کی بیس کے قریب کتابیں چھپ چکی ہیں۔ میں نے پہلا شخص دیکھا ہے جو پاگل پن کی حد تک کتاب سے محبت کرتا ہے۔ ہر روز ان کی کوئی ناں کوئی تحریر میری نظر سے گزرتی ہے۔ وہ چاہے فیسبک ہو یا واٹس ایپ،مسینجر ہو یا ای الیکٹرک اخبار،میگزین ہو یا اخبار وہ جدید و قدیم ذریعہ تحریر اُن کے زیر استعمال ہوتا ہے۔ میں روز دیکھتا ہوں کہیں کتاب رونمائی کی تقریب ہو رہی ہے تو کہیں بابائے صحافت جناب الطاف حسن قریشی صاحب سے ،،ملاقاتیں کئی،، ہو رہی ہیں، ان کو کتاب پیش کر رہے ہیں تو اگلے ہی دن ،،روزن دیوار،، شوق آوارگی، اور ،،ملاقاتیں آدھوری،، والے جناب عطا الحق قاسمی صاحب کے پاس ہیں۔ بس تھوڑی دیر میں، روزنامہ پاکستان والے جناب مجیب الرحمن شامی صاحب کو گلدستہ کتاب پیش کر رہے ہیں،تو کہیں وقت کے امام اور صاحب تصوف شاعر دانشور جناب اوریا مقبول جان کی کتابوں،،قامت،، اور اک دیا جل رہا تھا حوالات میں،، کی اشاعت ہورہی ہے۔ کسی دن ذوالفقار چیمہ صاحب کی ،،پس پردا،، اور،،دو ٹوک باتیں،، چل رہی ہیں، تو دوسرے دن محسن پاکستان جناب ڈاکٹر عبدالقدیر خاں کی سوانح عمری,عزم کی داستاں،، کی اشاعت کی تقریب سجائے ہوئے ہیں۔ پھر چند روز بعد دیکھتا ہوں تو جناب جبار مرزا کی سیرت النبی پر لازوال تصنیف ،،محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، کی تقریب رونمائی کی، شاندار تقریب سجائے بیٹھے ہیں۔ عرصہ پہلے پاکستان کی تاریخ پر ایک ضخیم کتاب،،تاریخ مخزن پاکستان،،نہ صرف شائع کی بلکہ ملک بھر میں پاکستان سے محبت کرنے والوں کو مفت تقسیم کیں۔ میں سوچتا ہوں یہ کسی اور زمانے کے لوگ تھے جو اس زمانے میں بھٹک رہے ہیں، یہ تو سرسید احمد خاں،حسرت موہانی،مرزا غالب، الطاف حسین حالی، شبلی نعمانی،علامہ اقبال کے وقت کے لوگ ہیں جو خود میں ایک تحریک ہوا کرتے تھے۔ جنہوں نے ایک دنیا کو دیکھا،پرکھا،بدل کر رکھ دیا، یہ کس بے قدرے اور کم مایہ لوگوں کے دور میں آگئے ہیں جو خود اپنی حالت زار کو بدلنا نہیں چاہتے یہ ان کے لئے در بدر ہو رہے ہیں۔میری جب بھی فون پر واٹس ایپ پر ان سے بات ہوتی ہے،بڑی محبت،شفقت سے پیش آتے ہیں۔ بڑے بھائی کی محبت،خلوص،پیار، بے لوث مخلصانہ راہنمائی ان کی باتوں اور الفاظ سے چھلکتی ہے۔ ایک بڑے بھائی کی جو چھوٹے بھائیوں سے محبت اور خلوص ہوتا ہے اس طرح کی چاہت ہے۔ میں اپنے آپ کو اس دنیا کا امیر ترین شخص سمجھتا ہوں کہ ایسے لازوال، نایاب اور ہیروں جیسے لوگ مجھ سے بے لوث محبت کرتے ہیں۔ خدا ایسے لوگوں کو ہمیشہ سلامت رکھے۔ میں نے ان کی کتاب ماں، عظمتوں کی داستاں بار بار پڑھی ہے علامہ صاحب نے کتاب کو بھی ماں کا سا درجہ دیا ہوا ہے۔ دنیا بھر کے دانشور ماں کی آغوش کو انسانی تربیت کی پہلی درسگاہ کہتے ہیں۔ بلکل ایسے ہی ہے میری آنکھوں میں ہر وقت میری ماں گھر کا کام کرتے میرے والد کے ساتھ کیتھی باڑھی کا کام کرتے نظر آتی ہے، اللہ پاک انہیں غریق رحمت کرے، اپنی جواں عمری میں ہی ہمیں چھوڑ کر اللہ پاک کے حضور چلی گئیں تھیں۔ جس طرح ماں بچوں کی پرورش،تعلیم وتربیت کرکے معاشرے اور سوسائٹی کے لئے اچھا فرد تیار کرتی ہے، وہی ماں کا جذبہ لے کر،کتاب کو لے کر معاشرے کے لئے مفید اور اچھے شہری پیدا ہوں ان کی تعلیم و تربیت کا بیڑا اٹھائے ہوئے ہیں۔انٹرنیٹ،سوشل میڈیا، کمپیوٹر،موبائل فون ترقی نے انسان کو کتاب سے دور کردیا ہے۔ ماہرین تعلیم کہتے ہیں کہ یہ کتابوں سے محبت کی آخری صدی ہے۔ میں سمجھتا ہوں یہ ایسا نہیں ہے جب تک علامہ عبدالستار عاصم جیسا انسان دوست،کتاب دوست ہم میں موجود ہے ۔ پاکستان میں کتاب کی محبت، مانگ اور طلب میں کبھی کمی نہیں ہوگی۔میں جب جب علامہ صاحب کو کتابوں کی تدوین،اشاعت وترسیل میں مصروف عمل دیکھتا ہوں تو اُن کو مبارک باد پیش کرتا ہوں ۔جس طرح انہوں نے کتاب اور قاری کا رستہ و رشتہ مضبوط کیا ہوا ہے، مجھے زمانہ طالب علمی کا دور اور اپنے لاء کالج کے پرنسپل جناب نفیر اے ملک یاد آجاتے ہیں۔ جو فرماتے تھے کہ وقت کا سکندر ہے وہ شخص، وہ استاد، جس نے کتاب سے محبت کی اور محبت کے اِس رشتہ کو اپنے طلباء میں پیدا و پیوست کر دیا تو وہ وقت کا حقیقی سکندر ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ علامہ صاحب ہمارے وقت کے روشنیاں بانٹتے والے سکندر ہیں۔ان کو دیکھ کر یہ خیال آتا ہے کہ جانے کس جہاں سے آتے ہیں یہ لوگ،محبت کرنے والے، بے لوث محبت کرنے والے، علم و ادب کی روشنی تقسیم کرنے والے، علم جیسا خیر بانٹنے والے، یہ لوگ بھی نہ ہوں تو اِس گئے گزرے معاشرے میں اور اندھیرا ہو جائے،صدا دائم و آباد رہے گی دنیا ایسے ہی کوہ گراں اور وقت کے سکندر لوگوں کے دم قدم سے، ان کو دیکھ کر مجھے ہر دلعزیز ،انسان دوست شاعر جناب احمد فراز کا شعر یاد آ جاتا ہے۔
شکوہ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر ہے فراز
تم اپنے حصے کی شمع جلاتے جاتے
جب اُن کی شہرہ آفاق تصنیف ،، ماں،عظمتوں کی داستاں،، کا مطالعہ کریں تو معلوم پڑتا ھے کہ انہوں نے دنیا بھر میں ماں کی تربیت اور تربیت کے نتیجہ میں پیدا ھونے والے نابغہ روزگار کے کام اور نام کو سراہا ہے جس کے نتیجے میں اتنا ضرور کہنا چاہوں گا کہ وہ ماں بھی دنیا کی عظیم ماں ہے جس کے بطن سےعلامہ عبدالستارعاصم جیسے صاحبِ علم کا جنم ہوا ہے جو سماج میں علم جیسا خیر بانٹ رہا ہے۔
شاہد محمود سیالکوٹ
04/12/2025
112









