128

*جھنگ(جاوید اعوان سے)جھنگ میں ‘سہولت کاری’ کا نیا ریکارڈ! سی ای او ایجوکیشن کا ‘کماؤ پوت’ اطہر جونیئر کلرک نامعلوم مقام پر ‘تعینات’، کوئی پوچھنے والا نہیں!*

*جھنگ(جاوید اعوان سے)جھنگ میں ‘سہولت کاری’ کا نیا ریکارڈ! سی ای او ایجوکیشن کا ‘کماؤ پوت’ اطہر جونیئر کلرک نامعلوم مقام پر ‘تعینات’، کوئی پوچھنے والا نہیں!*
*اطہر جونیئر کلرک تقریباً چار ماہ سے زائد عرصہ سے ڈیوٹی سے غائب یا پھر سی ای او کی ذاتی ‘سکیورٹی’ پر مامور؟*
*اخبارات کی خبریں ‘میرا کیا بگاڑ سکتی ہیں’، سی ای او ایجوکیشن کا دھمکی آمیز بیان! ڈپٹی کمشنر اور وزیر تعلیم سے ‘سیدھی لائن’ کا دعویٰ!*
*ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ جھنگ میں اقربا پروری اور حکومتی احکامات کی سرعام خلاف ورزی کا ایک سنسی خیز اسکینڈل سامنے آیا ہے جس نے انتظامیہ کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے*۔ *جونیئر کلرک اطہر کی “سرکاری سرپرستی” کا یہ عالم ہے کہ حکومتی تبادلوں کے باوجود، یہ کلرک آج تک اپنی اصل جائے تعیناتی پر پہنچنے سے انکاری ہے*۔
*ذرائع کے مطابق، اطہر نامی یہ کلرک، جسے محکمے میں سی ای او ایجوکیشن کا ‘کماؤ پوت’ یا ‘فرنٹ مین’ سمجھا جاتا ہے، اس کا اصل مقام تعیناتی آج تک ایک ‘سرکاری راز’ بنا ہوا ہے۔ کچھ عرصہ قبل، گورنمنٹ آف پنجاب کی ہدایت پر، ڈی ای او ایجوکیشن اتھارٹی نے تین سال سے زائد ایک ہی سیٹ پر تعینات جونیئر کلرکس کے لازمی تبادلے کیے تھے*، *مگر اطہر جونیئر کلرک نے اپنی نئی ڈیوٹی پر جانے سے صاف جواب دے دیا*۔
*ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ جونیئر کلرک اطہر اپنے سرکاری فرائض سرانجام دینے کے بجائے، ہر وقت سی ای او ایجوکیشن کے ذاتی عملے کے طور پر ان کے ارد گرد رہتا ہے! وہ نہ صرف سی ای او کے ذاتی کاموں کا بیڑا اٹھائے ہوئے ہے، بلکہ سرکاری گاڑی میں سی ای او کے ذاتی گارڈ کی طرح بیٹھا نظر آتا ہے، جس سے سرکاری وسائل کا اندھا دھند ذاتی استعمال واضح ہوتا ہے*۔
*سی ای او کا ‘مختار کل’ ہونے کا دعویٰ اور صحافی کو دھمکی!*
*جب اس غیر معمولی صورتحال پر اخبارات میں خبریں چھپنا شروع ہوئیں، تو ذرائع کے مطابق اطہر کلرک نے سی ای او سے درخواست کی کہ میڈیا کی خبروں کی وجہ سے اسے سکول جانے کی اجازت دی جائے۔ اس پر سی ای او ایجوکیشن کا جواب انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور دھمکی آمیز تھا*
“*اخبارات کی خبریں میرا کیا بگاڑ سکتی ہیں؟ میں مختار کل ہوں۔ میرا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا* *کیونکہ ڈپٹی کمشنر جھنگ اور وزیر تعلیم پنجاب کے ساتھ میری لائن سیدھی ہے!”*
*سی ای او کے اس غرور پر مبنی بیان نے محکمہ اور ضلعی انتظامیہ کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ کی طرف واضح اشارہ دیا ہے، جو سرکاری مشینری کے اختیارات کے ناجائز استعمال کی ایک خوفناک مثال ہے*۔
*شدید عوامی مطالبہ: وزیراعلیٰ نوٹس لیں اور ‘سہولت کاروں’ کا احتساب کریں!*
*عوامی، سیاسی، اور سماجی حلقوں نے اس انتظامی بدحالی پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، چیف سیکریٹری پنجاب، صوبائی وزیر تعلیم اور صوبائی سیکرٹری ایجوکیشن سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ*:
*مسٹر اطہر اور دیگر جونیئر کلرکس کو فوری طور پر ان کی قانونی جائے تعیناتی پر بھیجا جائے*۔
*ان کی ‘سہولت کاری’ کرنے والے سی ای او ایجوکیشن اور ان کے معاونین کے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال اور سرکاری احکامات کی خلاف ورزی پر فوری طور پر سخت ترین قانونی کارروائی کی جائے*۔
*یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا پنجاب کی نئی حکومت بیوروکریسی کے اس ‘مختار کل’ رویے کو لگام ڈالے گی یا یہ مافیا یونہی سرکاری محکموں پر راج کرتا رہے گا؟ جب موقف کے لیے سی ای او ایجوکیشن اتھارٹی جھنگ کے ذاتی موبائل نمبر پر رابطہ کیا گیا تو انکا نمبر پاور آف تھا جب میڈیا ٹیم نے موقف کے لیے دفتر کا وزٹ کیا تو وہ اپنے موجود نہیں تھیں عملے نے بتایا کہ وہ فیلڈ میں ہیں*

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں