132

>*اٹھارہ ہزاری(جاوید اعوان سے)مبینہ اتائی حنیف کا غیر قانونی نیٹ ورک، انسانی زندگیوں سے کھیلنے کا انکشاف.ہیلتھ اتھارٹی کو چکمہ دینے میں ’ماسٹر مائنڈ‘ قرار؛ صبح سویرے اور شام کے اوقات میں کلینک اور میڈیکل سٹور فعال، عوامی حلقوں کا وزیراعلیٰ پنجاب سے نوٹس لینے کا مطالبہ*

*اٹھارہ ہزاری(جاوید اعوان سے)مبینہ اتائی حنیف کا غیر قانونی نیٹ ورک، انسانی زندگیوں سے کھیلنے کا انکشاف.ہیلتھ اتھارٹی کو چکمہ دینے میں ’ماسٹر مائنڈ‘ قرار؛ صبح سویرے اور شام کے اوقات میں کلینک اور میڈیکل سٹور فعال، عوامی حلقوں کا وزیراعلیٰ پنجاب سے نوٹس لینے کا مطالبہ*
تحصیل اٹھارہ ہزاری میں اتائیت کا راج، خود ساختہ آئی اسپیشلسٹ حنیف نے انسانی بصارت اور زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا۔ ذرائع کے مطابق مذکورہ شخص نہ صرف غیر قانونی طور پر آنکھوں کا علاج کر رہا ہے بلکہ بغیر لائسنس کے میڈیکل سٹور بھی چلا رہا ہے، جبکہ محکمہ صحت کے افسران کو چکمہ دینے کے لیے انتہائی شاطرانہ طریقے اپنائے جا رہے ہیں۔
چیکنگ سے بچنے کے لیے ’ٹائم ٹیبل‘ کا سہارا
ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ مبینہ اتائی حنیف ہیلتھ اتھارٹی کی گرفت سے بچنے کے لیے دفاتر کے اوقاتِ کار کا فائدہ اٹھاتا ہے۔ موصوف اپنی غیر قانونی دکان اور کلینک صبح دفاتر کھلنے سے پہلے کھول لیتے ہیں، جبکہ دن بھر سرکاری اوقات کے دوران کاروبار بند رکھا جاتا ہے۔ جوں ہی شام 4 بجے دفاتر بند ہوتے ہیں، یہ غیر قانونی سرگرمیاں دوبارہ عروج پر پہنچ جاتی ہیں۔
عوامی حلقوں کا شدید ردِعمل۔علاقے کے سماجی اور عوامی حلقوں نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اتائیت کی وجہ سے غریب عوام کی زندگیوں سے کھیلا جا رہا ہے۔ انہوں نے حکام سے سوال کیا ہے کہ ایک شخص سرِعام قانون کا مذاق اڑا رہا ہے مگر اسے روکنے والا کوئی نہیں۔
اعلیٰ حکام سے فوری کارروائی کی اپیل
اہالیانِ علاقہ نے مندرجہ ذیل اعلیٰ حکام سے اس سنگین معاملے پر فوری ایکشن لینے کی اپیل کی ہے:مریم نواز شریف (وزیراعلیٰ پنجاب)
صوبائی وزیر وصوبائی سیکرٹری صحت پنجاب
علی اکبر بھنڈر (ڈپٹی کمشنر جھنگ)
سی ای او ہیلتھ اتھارٹی جھنگ
ڈاکٹر مریم گل (ڈی ایچ او جھنگ)
میاں ثناء اللہ ہنجرہ (اسسٹنٹ کمشنر اٹھارہ ہزاری) ڈاکٹر ذکا مہدی (ڈی ڈی ایچ او اٹھارہ ہزاری)عوامی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ اس مبینہ اتائی کے خلاف فی الفور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے، کلینک اور میڈیکل سٹور کو سیل کیا جائے اور اٹھارہ ہزاری کی عوام کو اس ’موت کے سوداگر‘ سے نجات دلائی جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں