*جھنگ(جاوید اعوان سے)محکمہ انہار میں مبینہ کرپشن کا بازار گرم، XEN کی ’آشیرباد‘ سے فنڈز کی بندر بانٹ عروج پر*
محکمہ انہار جھنگ ڈویژن میں مبینہ کرپشن، اقربا پروری اور فنڈز کی لوٹ مار کی داستانیں زبان زدِ عام ہو گئیں۔ موجودہ XEN کی تعیناتی کے بعد سے محکمے میں “اندھیر نگری چوپٹ راج” کا سماں ہے، جہاں قواعد و ضوابط کو بالائے طاق رکھ کر سرکاری خزانے کو دونوں ہاتھوں سے لٹایا جا رہا ہے۔من پسند ٹھیکیداروں پر نوازشات کی بارش۔ذرائع کے مطابق موصوف XEN نے اپنی من پسند کے ٹھیکیداروں کا ایک مخصوص ٹولہ بنا رکھا ہے۔ “ایمرجنسی” کے نام پر لاکھوں کروڑوں روپے کے کام ان ٹھیکیداروں کے حوالے کیے جاتے ہیں، مگر حیرت انگیز طور پر زمین پر کوئی کام نظر نہیں آتا۔ الزام ہے کہ بھاری کمیشن اور “موٹا حصہ” وصول کر کے بغیر کام مکمل کیے ٹھیکیداروں کو ادائیگیاں کر دی جاتی ہیں، جس سے قومی خزانے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔
دفتر یا نائٹ کلب؟ عملہ دہائیاں دینے لگا
افسرِ موصوف کا طرزِ عمل بھی عجیب و غریب ہے۔ دفتری اوقات میں غائب رہنے والے XEN صاحب شام چار بجے کے بعد اپنا “دربار” سجاتے ہیں جو رات گئے تک جاری رہتا ہے۔ اس غیر روایتی شیڈول کی وجہ سے ماتحت عملہ شدید ذہنی کوفت کا شکار ہے۔ عملے کا کہنا ہے کہ وہ دن بھر انتظار کرنے کے بعد رات گئے تک کام کرنے پر مجبور ہیں اور اب اس “عذاب” سے نجات کے لیے دعائیں مانگ رہے ہیں۔موقف دینے سے گریز
جب ان الزامات کے حوالے سے XEN کے ذاتی موبائل نمبر پر رابطہ کیا گیا اور ان کا موقف جاننے کی کوشش کی گئی، تو انہوں نے کال اٹھانا بھی گوارا نہیں کیا۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ خاموشی خود ایک اعترافِ جرم ہے۔
جھنگ کے عوامی اور سماجی حلقوں نے دہائی دیتے ہوئے درج ذیل اعلیٰ حکام سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے:
* وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف
* چیف سیکریٹری پنجاب
* صوبائی وزیر و سیکریٹری آبپاشی پنجاب
* چیف انجینئر ایریگیشن
> “جھنگ ڈویژن میں ہونے والی اس مبینہ لوٹ مار کی اعلیٰ سطحی انکوائری کروائی جائے، کرپٹ عناصر کا محاسبہ کیا جائے اور ایماندار افسران کی تعیناتی عمل میں لائی جائے تاکہ عوامی ٹیکس کا پیسہ ضائع ہونے سے بچ سکے۔”
115










