*جھنگ(جاوید اعوان سے)تریموں بیراج پر ’موت‘ کا کھیل، محکمہ فشریز کی ملی بھگت سے دریا کے ارد گرد پانی میں زہر گھول دیا گیا.کئی من وزنی مچھلیاں زہریلا دانہ ڈال کر مارنے کا انکشاف؛ ضمیر فروش افسران نے مبینہ طور پر ‘حصہ’ لے کر خاموشی سادھ لی*
دریاؤں کے سنگم تریموں بیراج پر محکمہ فشریز جھنگ کے افسران کی مبینہ سرپرستی میں مچھلیوں کی نسل کشی کا ہولناک سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ مچھلی کے شکاریوں نے زیادہ منافع کی ہوس میں دریا کے پانی میں زہریلا مواد اور کیمیکل ڈال کر مچھلیاں پکڑنا شروع کر دیا ہے، جس سے نہ صرف آبی حیات ختم ہو رہی ہے بلکہ یہی زہریلی مچھلی انسانی جانوں کے لیے بھی شدید خطرہ بن چکی ہے۔
افسران کی مبینہ ملی بھگت اور رشوت ستانی
ذرائع کے مطابق یہ سارا کالا دھندہ محکمہ فشریز جھنگ کے بعض اعلیٰ افسران کی ناک کے نیچے اور ان کی مبینہ ملی بھگت سے ہو رہا ہے۔ عوامی حلقوں کا الزام ہے کہ محکمہ کے اہلکار اور افسران شکاریوں سے اپنا ماہانہ “بھتہ” وصول کر کے اس سنگین جرم پر آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں۔ قانون کے محافظ ہی قانون شکنوں کے سہولت کار بن گئے ہیں، جس کی وجہ سے تریموں بیراج کے ارد گرد دن دیہاڑے پانی میں زہر انڈیلا جا رہا ہے۔ اور آبی حیات کی نسل کشی اور انسانی صحت سے کھلواڑ کیا جا رھا ھے
مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ زہریلا مواد ڈالنے سے دریا کی نایاب نسل کی مچھلیاں دم توڑ رہی ہیں۔ یہی زہریلی مچھلیاں بعد ازاں مارکیٹوں میں عام شہریوں کو فروخت کی جا رہی ہیں، جس سے کینسر اور پیٹ کے جان لیوا امراض پھیلنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
جھنگ کی سماجی و عوامی تنظیموں نے اس ظلم کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل (DG) فشریز پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ: تریموں بیراج پر فوری چھاپہ مار ٹیمیں بھیجی جائیں۔رشوت خور افسران کے خلاف انکوائری کر کے انہیں معطل کیا جائے۔ زہر کے ذریعے مچھلی پکڑنے والے عناصر کو گرفتار کر کے دہشت گردی کے مقدمات درج کیے جائیں۔
اہلِ علاقہ کا کہنا ہے کہ اگر یہ سلسلہ نہ رکا تو وہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے دفتر کے باہر احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے کیونکہ یہ صرف مچھلیوں کا شکار نہیں بلکہ انسانی زندگیوں کے ساتھ کھیلی جانے والی خونی ہولی ہے۔ جب موقف کے لیے متعلقہ افسران سے رابط کیا گیا تو وہ موقف سے انکاری ھو گئے اگر فشریز ڈیپارٹمنٹ کا کوئی بھی اعلیٰ افسر اس پر مؤقف دنیا چاہیے تو ھمارے اوراق ہر وقت حاضر ہیں ھم آپکا موقف بھی من و عن چھاپیں گے
162










