85

*جھنگ(جاوید اعوان سے)سرکاری خزانے کو “چونا”، گرلز صدر ہائی سکول کا ہاسٹل کرپشن کی نذر!۔پرنسپل کی “آشیرباد” سے غیر قانونی رہائش گاہ قائم، بجلی و گیس کے بل سرکار کے ذمے، کرایہ پرنسپل کی جیب میں جانے کا انکشاف*

*جھنگ(جاوید اعوان سے)سرکاری خزانے کو “چونا”، گرلز صدر ہائی سکول کا ہاسٹل کرپشن کی نذر!۔پرنسپل کی “آشیرباد” سے غیر قانونی رہائش گاہ قائم، بجلی و گیس کے بل سرکار کے ذمے، کرایہ پرنسپل کی جیب میں جانے کا انکشاف*
گورنمنٹ گرلز صدر ہائی سکول جھنگ میں مبینہ کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا پنڈورا بکس کھل گیا۔ طالبات کے لیے مختص سرکاری ہاسٹل پر پرائیویٹ خواتین کا قبضہ، سرکاری وسائل کی بندر بانٹ اور افسرانِ بالا کی پراسرار خاموشی نے کئی سوالات کھڑے کر دیے۔
سرکاری ہاسٹل یا “نجی کمائی” کا ذریعہ؟
ذرائع کے مطابق، عرصہ دراز سے اس ہاسٹل کو سکول کی طالبات کے لیے بند کر دیا گیا ہے، لیکن حیرت انگیز طور پر یہاں درجنوں پرائیویٹ خواتین رہائش پذیر ہیں۔ ان خواتین سے ماہانہ بھاری کرایہ تو وصول کیا جا رہا ہے، مگر یہ رقم سرکاری خزانے میں جمع ہونے کے بجائے مبینہ طور پر پرنسپل کی “آشیرباد” سے نجی جیبوں کی زینت بن رہی ہے۔
بل سرکار بھرے، عیش پرائیویٹ لوگ کریں
عوامی حلقوں میں اس بات پر شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے کہ ان پرائیویٹ رہائشیوں کے استعمال کردہ بجلی اور گیس کے لاکھوں روپے کے بل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ (سرکاری خزانے) سے ادا کیے جا رہے ہیں۔ ایک طرف غریب عوام ٹیکس دے رہے ہیں اور دوسری طرف سرکاری افسران اسے اپنی “جاگیر” سمجھ کر لٹا رہے ہیں۔
افسران کی ملی بھگت اور پراسرار خاموشی
خبر ملی ہے کہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (سیکنڈری) جھنگ نے اس معاملے پر پرنسپل سے تحریری جواب طلب کیا تھا، مگر پرنسپل نے ڈی ای او کے لیٹر کو ردی کی ٹوکری کی نذر کر دیا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پرنسپل کی اس “دلیری” کے پیچھے چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) ایجوکیشن اتھارٹی جھنگ کا ہاتھ ہے، جنہوں نے خود بھی اسی سکول کے ایک کمرے کو اپنی غیر قانونی رہائش گاہ بنا رکھا ہے۔ جب “بڑے صاحب” خود ہی بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہے ہوں، تو ماتحت عملے کو کون پوچھے؟
وزیراعلیٰ پنجاب سے کارروائی کا مطالبہ
عوامی و سماجی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات اور ڈپٹی کمشنر جھنگ علی اکبر بھنڈر سے مطالبہ کیا ہے کہ:
اس میگا کرپشن کی اعلیٰ سطحی انکوائری کرائی جائے۔
سرکاری ہاسٹل کو فوری طور پر پرائیویٹ افراد سے واگزار کرایا جائے۔
اب تک وصول کیا گیا غیر قانونی کرایہ سرکاری خزانے میں ریکور کر کے جمع کرایا جائے۔ کرپشن میں ملوث پرنسپل اور سہولت کار افسران کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں