112

*جھنگ(جاوید اعوان سے)اراضی ریکارڈ سنٹر اٹھارہ ہزاری “کرپشن کا گڑھ” بن گیا؛ سائلین دہائیاں دینے پر مجبور۔مڈل مین راج اور عملے کی ملی بھگت سے “اندھیر نگری چوپٹ راج”؛ برسوں سے تعینات اہلکار تبادلوں سے مستثنیٰ*

*جھنگ(جاوید اعوان سے)اراضی ریکارڈ سنٹر اٹھارہ ہزاری “کرپشن کا گڑھ” بن گیا؛ سائلین دہائیاں دینے پر مجبور۔مڈل مین راج اور عملے کی ملی بھگت سے “اندھیر نگری چوپٹ راج”؛ برسوں سے تعینات اہلکار تبادلوں سے مستثنیٰ*
اراضی ریکارڈ سنٹر اٹھارہ ہزاری میں “ساری دال ہی کالی” نکل آئی۔ عرصہ دراز سے ایک ہی جگہ تعینات عملے نے مبینہ طور پر مڈل مینوں اور ایجنٹ مافیا کے ساتھ مل کر سائلین کا جینا محال کر دیا۔ کمپیوٹرائزڈ سسٹم کے نام پر عوام کو ریلیف دینے کے بجائے ذلیل و خوار کرنا معمول بن گیا۔ عوامی حلقوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب اور ڈی جی پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کر دیا۔
ایجنٹ مافیا کا راج، سائلین کی جیبوں پر ڈاکہ
ذرائع کے مطابق اٹھارہ ہزاری اراضی سنٹر میں جائز کام کے لیے آنے والے سائلین کو گھنٹوں انتظار کروانا اور تکنیکی خرابیوں کا بہانہ بنانا معمول بن چکا ہے۔ دوسری طرف، مڈل مینوں کے ذریعے آنے والے افراد کا کام منٹوں میں کر دیا جاتا ہے۔ سائلین کا کہنا ہے کہ “سنٹر کے باہر اور اندر ایجنٹ سرعام گھومتے ہیں اور عملے کی آشیرباد سے بھاری نذرانے وصول کیے بغیر کوئی فائل آگے نہیں بڑھتی۔”
تبادلوں سے استثنیٰ اور “سیاہ و سفید” کے مالک
خبر ملی ہے کہ سنٹر میں موجود بعض اہلکار گزشتہ کئی سالوں سے ایک ہی جگہ تعینات ہیں، جس کی وجہ سے انہوں نے وہاں اپنا مضبوط نیٹ ورک قائم کر لیا ہے۔ قانون کے مطابق طویل عرصے تک ایک ہی حساس سیٹ پر تعیناتی ممنوع ہے، لیکن یہاں کے “بااثر” اہلکار تبادلوں کی زد میں نہیں آتے۔ سائلین کا کہنا ہے کہ ان اہلکاروں کا رویہ انتہائی ہتک آمیز ہے اور وہ خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں۔
عوامی دہائی اور اعلیٰ حکام سے اپیل
علاقہ مکینوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ: اراضی سنٹر کے عملے کا فوری طور پر یہاں سے تبادلہ کیا جائے۔مڈل مینوں کے داخلے پر سخت پابندی عائد کی جائے۔کرپشن کے الزامات کی تحقیقات کے لیے خفیہ کمیٹی بنائی جائے۔
شہریوں نے انتباہ کیا ہے کہ اگر جلد اصلاحات نہ کی گئیں اور بدعنوان عملے کو نہ ہٹایا گیا تو وہ اراضی سنٹر کے سامنے احتجاجی دھرنا دینے پر مجبور ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں