55

*جھنگ(جاوید اعوان سے)نام نہاد ’ہفتہ وار بازاروں‘ کے نام پر عوام کی جیبوں پر ڈاکہ، انتظامیہ بے خبر یا خاموش تماشائی؟**منگل، بدھ اور اتوار بازاروں کے نام پر لوٹ سیل جاری؛ ٹھیکیداروں کی چاندی، سرکاری خزانہ خالی؛ ڈی سی اور ڈی پی او جھنگ سے فوری نوٹس کا مطالبہ*

*جھنگ(جاوید اعوان سے)نام نہاد ’ہفتہ وار بازاروں‘ کے نام پر عوام کی جیبوں پر ڈاکہ، انتظامیہ بے خبر یا خاموش تماشائی؟**منگل، بدھ اور اتوار بازاروں کے نام پر لوٹ سیل جاری؛ ٹھیکیداروں کی چاندی، سرکاری خزانہ خالی؛ ڈی سی اور ڈی پی او جھنگ سے فوری نوٹس کا مطالبہ*
شہرِ جھنگ اور گردونواح میں منگل، بدھ اور اتوار بازاروں کے نام پر عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے کا سلسلہ عروج پر پہنچ گیا ھے۔ ان بازاروں کے قیام کے لیے نہ تو کسی متعلقہ ادارے سے قانونی اجازت لی گئی ہے اور نہ ہی یہاں سیکیورٹی کے کوئی انتظامات موجود ہیں، جس کی وجہ سے یہ مقامات کسی بھی وقت بڑے حادثے کا سبب بن سکتے ہیں۔
ٹھیکیداروں کا راج، قانون بے بس
ذرائع کے مطابق، بااثر ٹھیکیداروں نے شہر کے مختلف مقامات پر سڑکیں روک کر “ہفتہ وار بازار” سجا رکھے ہیں۔ ان بازاروں میں سٹال لگانے والے غریب ریڑھی بانوں اور دکانداروں سے بھاری بھرکم “تہہ بازاری” وصول کی جا رہی ہے، لیکن حیرت انگیز طور پر یہ لاکھوں روپے کی رقم سرکاری خزانے میں جمع ہونے کے بجائے براہِ راست ٹھیکیداروں کی جیبوں میں جا رہی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ضلعی انتظامیہ نے ان ٹھیکیداروں کو عوام کو لوٹنے کا “لائسنس” دے رکھا ہے؟
ان بازاروں میں سیکیورٹی کے نام پر ایک بھی اہلکار تعینات نہیں ہوتا، جبکہ خواتین اور بچوں کا بے پناہ رش چوروں اور جیب تراشوں کے لیے سنہری موقع فراہم کرتا ہے۔ تجاوزات کی وجہ سے ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے، جس سے ایمبولینسوں کا گزرنا بھی محال ہو چکا ہے۔
جھنگ کے عوامی اور سماجی حلقوں نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بازار سستی اشیاء فراہم کرنے کے بجائے لوٹ مار کے مراکز بن چکے ہیں۔ یہاں نہ تو ریٹ لسٹ کی پابندی ہوتی ہے اور نہ ہی معیار کی کوئی ضمانت۔
شہریوں نے ڈپٹی کمشنر جھنگ اور ڈی پی او جھنگ سے مطالبہ کیا ہے کہ ان غیر قانونی بازاروں کے خلاف فوری کریک ڈاؤن کیا جائے۔
ٹھیکیداروں سے حساب لیا جائے کہ وہ کس قانون کے تحت وصولیاں کر رہے ہیں۔
عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے سیکیورٹی کے سخت اقدامات کیے جائیں۔
اگر ان “سیلف میڈ” بازاروں کو لگام نہ ڈالی گئی تو عوامی احتجاج کا دائرہ وسیع کر دیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں