*جھنگ(جاوید اعوان سے)ضلع جھنگ میں آوارہ کتوں کا راج، بچوں کی زندگیاں خطرے میں۔انتظامیہ کی خاموشی خطرات کی گھنٹی بن گئی*
ضلع جھنگ کے شہری و مضافاتی علاقوں بالخصوص موضع باغ میں آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی یلغار نے عوام الناس، خصوصاً بچوں اور راہگیروں کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ آئے روز کتوں کے کاٹنے کے واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں، جس سے علاقے میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ 12 جنوری سے سکولوں کے دوبارہ کھلنے کے پیش نظر والدین شدید تشویش میں مبتلا ہیں، کیونکہ آوارہ کتوں نے گلیوں اور مرکزی سڑکوں کو مستقل ٹھکانہ بنا رکھا ہے۔
ذرائع کے مطابق اس وقت آوارہ کتوں کا ایک بڑا غول مریم نور ہسپتال، ٹوبہ روڈ، موضع باغ کے قریب موجود ہے۔ یہی سڑک سکول جانے والے بچوں کا اہم راستہ بھی ہے، جہاں کتوں کی موجودگی کے باعث کئی بار ٹریفک حادثات رونما ہو چکے ہیں۔ موٹر سائیکل سوار اور پیدل چلنے والے شہریوں کے لیے اس مقام سے گزرنا کسی خطرے سے کم نہیں رہا۔
حکومتی احکامات اور لوکل گورنمنٹ کے قواعد کے مطابق شہری حدود میں آوارہ کتوں کی روک تھام، تلفی یا محفوظ طریقے سے کنٹرول کی ذمہ داری متعلقہ میونسپل کمیٹی، ضلع کونسل اور ضلعی انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے۔ اس کے باوجود تاحال کوئی مؤثر کارروائی عمل میں نہ لانا انتظامیہ کی کھلی غفلت اور نااہلی کو ظاہر کرتا ہے۔ صحتِ عامہ کے قوانین کے تحت آوارہ جانوروں سے پھیلنے والی بیماریوں اور جانی نقصان کی ذمہ داری بھی متعلقہ اداروں پر ہی عائد ہوتی ہے۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ اگر خدانخواستہ کسی بچے یا شہری کے ساتھ کوئی بڑا حادثہ پیش آیا تو اس کی تمام تر ذمہ داری ضلعی انتظامیہ، میونسپل حکام اور متعلقہ محکموں پر عائد ہوگی، جو بروقت اقدامات کرنے میں ناکام نظر آ رہے ہیں۔ شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، مریم نواز شریف کمشنر فیصل آباد ڈویژن فیصل آباد اور ڈپٹی کمشنر جھنگ سے فوری نوٹس لینے اور آوارہ کتوں کے خلاف ہنگامی بنیادوں پر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے، تاکہ کسی بڑے سانحے سے پہلے قیمتی انسانی جانوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔
انتظامیہ کی خاموشی خود ایک سوالیہ نشان ہے—کیا کسی بڑے حادثے کے بعد ہی حرکت میں آیا جائے گا۔
72










