116

*جھنگ(جاوید اعوان سے) ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی میں ‘رائٹ ٹو انفارمیشن’ کا ایٹم بم: میسرز سنی انٹرپرائز کا 5 سالہ ریکارڈ طلب.ضلعی نظامِ صحت میں شفافیت کے حوالے سے بڑا قدم، شہری نے ‘حقِ معلومات قانون’ (RTI) کے تحت چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) ہیلتھ سے میسرز سنی انٹرپرائز کو کی گئی کروڑوں روپے کی*. *ادائیگیوں کا کچا چٹھا مانگ لیا۔ ریکارڈ کی طلب نے محکمہ صحت کے کئی اہم دفاتر میں کھلبلی مچا دی.ریکارڈ کا دائرہ کار*

*جھنگ(جاوید اعوان سے) ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی میں ‘رائٹ ٹو انفارمیشن’ کا ایٹم بم: میسرز سنی انٹرپرائز کا 5 سالہ ریکارڈ طلب.ضلعی نظامِ صحت میں شفافیت کے حوالے سے بڑا قدم، شہری نے ‘حقِ معلومات قانون’ (RTI) کے تحت چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) ہیلتھ سے میسرز سنی انٹرپرائز کو کی گئی کروڑوں روپے کی*.
*ادائیگیوں کا کچا چٹھا مانگ لیا۔ ریکارڈ کی طلب نے محکمہ صحت کے کئی اہم دفاتر میں کھلبلی مچا دی.ریکارڈ کا دائرہ کار*
*ذرائع کے مطابق شہری کی جانب سے جمع کرائی گئی درخواست میں کسی ایک دفتر نہیں بلکہ پورے ضلع کے تمام اہم مراکزِ صحت سے گزشتہ 5 سال 2020 تا 2025) کا ریکارڈ طلب کیا گیا ہے۔ جن دفاتر سے* *ریکارڈ طلب کیا گیا ہے ان میں شامل ہیں: سی ای او ہیلتھ آفس اور ڈی ایچ او آفس جھنگ۔ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال (DHQ) جھنگ*۔ *ضلع بھر کے تمام تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال (THQs)۔تمام رورل ہیلتھ سینٹرز (RHCs) اور ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرز کے دفاتر۔ کالج آف نرسنگ ڈی ایچ کیو ہسپتال جھنگ*۔
*شہری کا موقف اور قانونی سہارا.درخواست گزار شہری کا کہنا ہے کہ “پنجاب ٹرانسپیرنسی اینڈ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ” کے تحت ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ سرکاری اداروں کے اخراجات اور ٹھیکوں کی تفصیلات جان سکے*۔ *میسرز سنی انٹرپرائز کو کی جانے والی ادائیگیوں کا ریکارڈ عوامی فنڈز کے* *درست استعمال کو پرکھنے کے لیے مانگا گیا ھے*
*محکمہ صحت میں تشویش کی لہر*
*ذرائع کا کہنا ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر 5 سالہ* *ریکارڈ طلب کیے جانے پر ہیلتھ اتھارٹی کے متعلقہ شعبوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ ریکارڈ فراہم کر دیا جاتا ہے تو اس سے میسرز سنی انٹرپرائز اور محکمہ صحت کے درمیان ہونے والے مالی معاملات، ٹینڈرز کی شفافیت اور ادائیگیوں کے طریقہ کار کی اصل حقیقت سامنے آ سکے گی*۔
*شہریوں نے امید ظاہر کی ہے کہ سی ای او ہیلتھ اتھارٹی قانون کا احترام کرتے ہوئے مقررہ مدت کے اندر تمام ریکارڈ فراہم کریں گے تاکہ ضلع جھنگ میں صحت کے بجٹ کی تقسیم اور ادائیگیوں میں کسی بھی قسم کے مبینہ ابہام کو دور کیا جا سکے*۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں