*اے ایم اعجاز چوہدری — محبت، شفقت اور صحافت کا روشن چراغ*
*گگومنڈی کی صحافت اگر آج فخر سے سر اٹھائے کھڑی ہے تو اس کی ایک بڑی وجہ اے ایم اعجاز چوہدری جیسی باکردار، شفیق اور دوراندیش شخصیت ہے۔ وہ صرف گگومنڈی پریس کلب کے بانی نہیں، بلکہ اس ادارے کی روح، اس کی سانس اور اس کا محافظ ہیں*۔ *جنہوں نے اینٹوں سے نہیں، اخلاق، محبت اور خلوص سے اس ادارے کی بنیاد رکھی*۔
*زمیندارہ گھرانے سے تعلق رکھنے والے اے ایم اعجاز چوہدری سیاسی و سماجی میدان میں ایک معتبر نام ہیں، مگر ان کی اصل پہچان ان کا نرم دل، جھکا ہوا لہجہ اور وسیع ظرف ہے۔ پھولوں کی کاشت سے وابستہ یہ مردِ درویش خود بھی پھولوں کی طرح مہکتا ہوا انسان ہے، جو جہاں بیٹھتا ہے وہاں نفرت نہیں، محبت اگتی ہے*۔
*اپنے جونیئر صحافیوں کے ساتھ ان کا رویہ کسی استاد سے بڑھ کر ایک شفیق باپ جیسا ہے۔ بچوں کی طرح لاڈ، تربیت میں برداشت اور غلطیوں پر درگزر—یہی ان کا اصول ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ ڈانٹ سے نہیں، دعاؤں اور* *حوصلے سے انسان بنتے ہیں۔ اسی لیے آج گگومنڈی کے بے شمار صحافی خود کو ان کا شاگرد نہیں بلکہ ان کا حصہ سمجھتے ہیں*۔
*ان کی خوش اخلاقی کے سامنے الفاظ بھی خاموش ہو جاتے ہیں۔ گگومنڈی کی فضا گواہ ہے کہ ان کے لہجے میں کبھی تلخی نہیں اتری، ان کے چہرے سے کبھی مسکراہٹ جدا نہیں ہوئی۔ ایسے لوگ اداروں کے لیے عہدہ نہیں، اللہ کی طرف سے تحفہ ہوتے ہیں—اور پریس کلب گگومنڈی کے لیے اے ایم اعجاز چوہدری یقیناً ایک عظیم تحفہ ہیں*۔
*پریس کلب گگومنڈی کی ہر اینٹ، ہر دیوار اور ہر کامیابی ان کی جدوجہد کی گواہ ہے۔ جب بھی صحافت پر مشکل وقت آیا، اے ایم اعجاز چوہدری ایک مضبوط سایہ بن کر کھڑے رہے۔ انہوں نے نہ صرف صحافیوں کو جوڑا بلکہ انہیں عزت، شناخت اور حوصلہ دیا*۔
*ایسی شخصیات وقت کے شور میں کم ملتی ہیں، مگر تاریخ انہیں سنبھال کر رکھتی ہے۔ اے ایم اعجاز چوہدری کا نام صرف ایک فرد کا نام نہیں، بلکہ ایک سوچ، ایک روایت اور ایک اخلاقی ورثہ ہے جو آنے والی نسلوں کو راستہ دکھاتا رہے گا*۔
*تحریر: محمدافضل* *ٹیپو(روزنامہ اوصاف)*
*03016580826*
72











