*جھنگ(جاوید اعوان سے)گندی نہر نے شہر کو دلدل بنا دیا، زیرِ زمین پانی زہریلا ھونے سے ہر دوسرا شہری بیماریوں کا شکار*
*قدیمی اور تاریخی شہر جھنگ اور اس کے گردونواح کے علاقے گزشتہ تین دہائیوں سے ایک سنگین ماحولیاتی اور طبی بحران کی لپیٹ میں ہیں*۔ *جھنگ سٹی کے قریب بنائی گئی “گندے نالے” نے نہ صرف علاقے کی زمین کو سیم زدہ کر دیا ہے بلکہ یہاں کا کبھی “شیریں” کہلایا جانے والا زیرِ زمین پانی اب انسانی جانوں کے لیے “سست زہر” بن چکا ہے.صحت کا بحران: کالا یرقان اور جگر کے امراض میں اضافہ*
*مقامی ذرائع اور عوامی سروے کے مطابق، اس گندے نالے کے قریبی علاقوں میں رہنے والا ہر دوسرا شخص خطرناک بیماریوں میں مبتلا ہو رہا ہے۔ پانی کی آلودگی کے باعث کالا یرقان* *(Hepatitis)، معدے کے امراض، ڈائریا اور جگر کی بیماریاں وبائی صورت اختیار کر چکی ہیں۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر پانی کی کوالٹی بہتر نہ کی گئی تو یہ علاقہ ایک بڑے انسانی المیے کا شکار ہو سکتا ہے. ذرائع کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کے حل کے لیے نیسپاک (NESPAK) کی جانب سے باقاعدہ سروے کیا گیا تھا اور ایک جامع PC-1 بھی تیار کیا گیا تھا، جس کا مقصد اس سیم زدہ نالے کو پختہ نالے میں تبدیل کرنا تھا۔ تاہم، برسوں گزر جانے کے باوجود اس منصوبے پر عملدرآمد نہ ہونا انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے*۔
*علاقہ مکینوں نے حکامِ بالا سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ پختہ نالہ کی تعمیر گندے نالے کو فوری طور پر پختہ (Concrete) نالے میں تبدیل کیا جائے تاکہ زیرِ زمین پانی کو مزید آلودہ ہونے سے بچایا جا سکے. نالے کے اطراف میں محکمہ جنگلات کے تعاون سے بڑے پیمانے پر پلانٹیشن کی جائے تاکہ فضائی آلودگی کا خاتمہ ہو سکے۔ اس منصوبے میں ہونے والی تاخیر کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کی جائیں*
*اہلِ جھنگ نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ اس “خاموش قاتل” سے نجات دلانے کے لیے PC-1 پر فوری عملدرآمد شروع کیا جائے تاکہ شہریوں کو پینے کا صاف پانی اور صاف ستھرا ماحول میسر آ سکے*۔
113











