25

جھنگ : طوفانی بارشوں اور انتظامیہ کی غفلت نے جھنگ کو خطرے کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے ، 1973 والی صورت حال پیدا ہونے کا خدشہ اور شہر ڈوبنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے ۔حفاظتی بند گزشتہ چار سال سے مرمت نہ ہو سکا ، محکمہ انہار اور مقامی انتظامیہ شہر ڈوبنے کا انتظار کر رھی ھے ۔

جھنگ : طوفانی بارشوں اور انتظامیہ کی غفلت نے جھنگ کو خطرے کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے ، 1973 والی صورت حال پیدا ہونے کا خدشہ اور شہر ڈوبنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے ۔حفاظتی بند گزشتہ چار سال سے مرمت نہ ہو سکا ، محکمہ انہار اور مقامی انتظامیہ شہر ڈوبنے کا انتظار کر رھی ھے ۔
جھنگ (بیورو رپورٹ ) ذرائع کے مطابق حالیہ طوفانی بارشوں اور مقامی انتظامیہ کی غفلت نے حفاظتی اقدامات کا پول کھول دیا ھے ۔ضلعی انتظامیہ اور محکمہ انہار کو ہر سال کروڑوں روپے کا فنڈ حفاظتی بند اور ہیڈ تریموں کی دیکھ بھال کے لیے آتا ھے لیکن محکمہ انہار کے افسران مقامی انتظامیہ سے ساز باز کر کے یہ فنڈذ کھا جاتے ہیں جس کی واضح مثال حفاظتی بند کی خستہ حالی ھے جہاں پر جگہ جگہ بڑے بڑے گڑھے پڑ چکے ہیں جس میں سے پانی رستا رہتا ھے جو کسی بھی وقت بڑے حادثے کا سبب بن سکتا ھے ۔ حال ہی میں اربوں روپے لگا کر ہیڈ تریموں پر نیا پل اور گیٹ لگائے گئے ہیں نئے بند بنا کر پانی گزرنے کی طاقت کو زیادہ کیا گیا ھے لیکن موقع پر صورتحال دیکھ کر نہیں لگتا کہ بارشوں کا پانی اور بھارت کی طرف سے چھوڑے جانے والے تین سے چار لاکھ کیوسک پانی اربوں روپے کے اس پروجیکٹ کو بچا سکے گی۔ میڈیا بار بار انتظامیہ اور محکمہ انہار کو حفاظتی بند اور دیگر جگہوں پر پانی کے نقصان کی نشاندہی کر چکا ہے ۔ ہزاروں لوگ اپنا گھر بار چھوڑ کر بے یار و مددگار کھڑے ہیں لیکن انتظامیہ سب اچھا کی رپورٹ دے رہی ہے۔ ہزاروں ایکڑ رقبہ تباہ ہو چکا ہے ، انسانوں اور جانوروں کی ہلاکتوں کو کوئی حساب ہی نہیں کروڑوں روپے کی املاک تباہ ہو چکی ہیں لیکن ہر سال کی طرح انتظامیہ صرف فوٹو سیشن تک محدود ہے ۔محکمہ انہار کا کام محکمہ ریونیو کر رہا ہے اے سی ، تحصیلدار اور پٹواری سیلاب سے بچاؤ کیلئے ڈیوٹی کر رہے ہیں جبکہ محکمہ انہار جو سالانہ اربوں روپے کے فنڈذ بند کی مرمت اور دیکھ بھال کیلئے لیتا ہے وہ کچھ نہیں کرتا ۔ ایکسیئن، ایس ڈی اوز گاڑیوں میں چکر لگا کر صرف ٹی اے ڈی اے بنا رہے ہیں۔ عوامی حلقوں نے وزیر اعلیٰ سے مطالبہ کیا ہے کہ جھنگ شہر کو تباہ ہونے سے بچایا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں