21

جھنگ ۔ بیمار نیم مردار جانوروں کے گوشت کا مکروہ کاروبار کرنے کا سلسلہ عروج پر ۔ مذبح خانے سے ڈاکٹر غائب ۔ سرکاری مہریں اناڑی قصائیوں کے حوالے ۔ رات دن مذبح خانے میں مکروہ کاروبار کرنے کاسلسلہ دھڑلے سے جاری مذبحہ خانہ کی چابیاں بھی قصابوں کے حوالے ۔ لائیو سٹاک کے افسران و میونسپل کمیٹی کا کام چور عملہ گھروں میں بیٹھ کر تنخواہیں وصول کرنے لگا۔ نااہل چیف آفیسر میونسپل کمیٹی کرپشن کی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے لگا یا معاملہ سے نابلد ۔ ڈپٹی کمشنر جھنگ کے لیے لمحہ فکریہ ۔ اعلیٰ حکام نوٹس لیں شہریوں کی اپیل

جھنگ ۔ بیمار نیم مردار جانوروں کے گوشت کا مکروہ کاروبار کرنے کا سلسلہ عروج پر ۔ مذبح خانے سے ڈاکٹر غائب ۔ سرکاری مہریں اناڑی قصائیوں کے حوالے ۔ رات دن مذبح خانے میں مکروہ کاروبار کرنے کاسلسلہ دھڑلے سے جاری مذبحہ خانہ کی چابیاں بھی قصابوں کے حوالے ۔ لائیو سٹاک کے افسران و میونسپل کمیٹی کا کام چور عملہ گھروں میں بیٹھ کر تنخواہیں وصول کرنے لگا۔ نااہل چیف آفیسر میونسپل کمیٹی کرپشن کی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے لگا یا معاملہ سے نابلد ۔ ڈپٹی کمشنر جھنگ کے لیے لمحہ فکریہ ۔ اعلیٰ حکام نوٹس لیں شہریوں کی اپیل
جھنگ (محمد جاوید اعوان) شہر بھر میں ۔بیمار ۔ لاغر جانوروں کے نیم مردار گوشت کی فروخت کا سلسلہ دھڑلے سے جاری ۔ ضلع بھر میں ضلعی انتظامیہ کی عدم توجہی کے باعث بغیر سٹیمپ (مہروں)کے مختلف موذی وائرس میں مبتلا جانوروں کے گوشت کی فروخت کا سلسلہ عروج پر پہنچ چکا ہے ۔ ڈپٹی کمشنر کی ناک کے نیچے جھنگ شہر کا اکلوتا مذبحہ خانہ ضلعی انتظامیہ کی عدم توجہی کا شکار ہو کر رہ گیا ہے۔ذرائع کے مطابق معلوم ہوا ہے کہ شہر کے پوش علاقے میں واقع شہر کا اکلوتا مذبحہ خانہ اناڑی قصائیوں کے حوالے کر دیا گیا ہے ۔ نا صرف محکمہ حیوانات کی طرف سے تعینات ویٹرنری ڈاکٹر غائب رہتے ہیں۔ اور ان کی سرکاری مہریں اناڑی قصائیوں کے حوالے کر دی گئی ہیں بلکہ میونسپل کمیٹی کے نام نہاد عملہ کے غائب ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔اور مذبحہ خانہ کی چابیاں بھی قصابوں کے حوالے کر دی جاتی ہیں ۔ ذرائع کے مطابق معلوم ہوا ہے کہ مذبحہ خانہ کے اوقات کار صبح تقریباً سات بجے سے دوپہر گیارہ بجے تک محدود ہے ۔ اور زیادہ تر یہ مذبحہ خانہ میں پوری پوری رات رات یہ مکروہ کھیل سر انجام دیتے ہیں ۔ ظاہری طور پر گیٹ بند کر کے باہر سے تالا لگا دیا جاتا ہے اور چور راستوں کی طرف سے آمد و رفت رہتی ہے۔ رات کے وقت کھول کر دیہاتی علاقوں سے حرام جانوروں کوکیری ڈبوں ۔ ہائی ایس۔ ہائی روف ویگنوں کے ذریعے مذبحہ خانہ میں پہنچایا جاتا ہے ۔ رات کے وقت یہ مکروہ کاروبار سر انجام دیتے ہیں ۔ اور حرام ۔ نیم مردار جانوروں کے گوشت پر مہریں ڈاکٹروں کی بجائے قصائی خود لگاتے ہیں ۔ فی جانور ہزار روپے ڈاکٹر گھر بیٹھ کر رشوت بٹورتا رہتا ہے۔ یہ واضح رہے کہ یہ پروفیشنل مافیا نا صرف یہ مکروہ دھندہ کرنے تک محدود ہیں بلکہ حکومت کی طرف سے جاری کردہ ریٹ لسٹ کے مطابق یہ گوشت فروخت کرنا اپنی ہتک اور بے عزتی سمجھتے ہیں ۔ کنٹرول ریٹ سے دگنی قیمت وصول کرتے ہیں ۔ یہ بات واضح رہے کہ یہ دھڑلے سے مکروہ کاروبار کرنے والے قصائی جھنگ کی عوام کو یہ گوشت کھلانے ہیں بلکہ ۔ پشاور ۔ راولپنڈی ۔ اسلام آباد ۔ لاہور جیسے بڑے بڑے شہروں میں ہائی روف ویگنوں ۔اور AC بسوں کے ذریعے سپلائی کرتے ہیں یہ مکروہ دھندہ رات کے اندھیرے میں پایہ تکمیل تک پہنچانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ۔ رات کے اندھیرے میں ہی یہ گوشت بڑے بڑے شہروں میں سمگل کیا جاتا ہے اور بڑے بڑے شہروں میں رہائش پذیر بڑے بڑے پردھان منتری یہ حرام جانوروں کے گوشت کو بڑے شوق سے کھاتے ہیں ۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ پنجاب بھر کے تمام پراونشل روڈز ۔ جی ٹی روڈز ۔ موٹر وے پر لگائے جانے والے ناکے ۔ انتظامیہ کی جانب سے کی جانے والی چیکنگ سوالیہ نشان بن چکا ہے ۔ اس بارے متعلقہ محکموں کے سربراہان سے موقف لینے پر انہوں نے برملا اظہار کیا ہےکہ اس پوائنٹ پر مقامی سیاسی شخصیات کے ذاتی ملازم ان کے حکم کی بجا آوری کے مطابق تعینات کرتے ہیں اور ان کے پریشرائز کرنے پر ان کے مخصوص ملازمین کے خلاف کاروائیاں نہ کرنے پر یہ مکروہ کاروبار دن بدن آسمان سے باتیں کرتے جا رہا ہے ۔ جس پر عوامی وسماجی کاروباری شہری وکلاء تنظیموں نے چوہدری پرویز الٰہی وزیر اعلیٰ پنجاب سمیت دیگر اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کا پرزور مطالبہ کیا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں