25

جھنگ۔ پروفیشنل نہری پانی چوروں کا گروہ پولیس سمیت کئی محکموں کے افسران کو ماموں بنانے لگے ۔ محکمہ لوکل گورنمنٹ کی طرف سے کروڑوں روپے کی لاگت سے تعمیر کی جانے والی پکی سڑک توڑ کر غیر قانونی پل بنانے لگے مقامی زمینداروں کے منع کرنے پر محکمہ کے جعلی افسران بن کرمقامی پولیس کو موقع پر بلا کر سپورٹ لی گئی ۔ بغیر کسی تحقیق کے مقامی پولیس کے شیر جوان موقع پر موجود کسانوں کو پریشرائز کر کے غیر قانونی پل بنانے میں معاون بنے رہے ۔ محکمہ نہر اور لوکل گورنمنٹ کے متعلقہ افسران معاملہ سے بے خبر ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نوٹس لیں عوامی حلقوں کی اپیل ۔

جھنگ۔ پروفیشنل نہری پانی چوروں کا گروہ پولیس سمیت کئی محکموں کے افسران کو ماموں بنانے لگے ۔ محکمہ لوکل گورنمنٹ کی طرف سے کروڑوں روپے کی لاگت سے تعمیر کی جانے والی پکی سڑک توڑ کر غیر قانونی پل بنانے لگے مقامی زمینداروں کے منع کرنے پر محکمہ کے جعلی افسران بن کرمقامی پولیس کو موقع پر بلا کر سپورٹ لی گئی ۔ بغیر کسی تحقیق کے مقامی پولیس کے شیر جوان موقع پر موجود کسانوں کو پریشرائز کر کے غیر قانونی پل بنانے میں معاون بنے رہے ۔ محکمہ نہر اور لوکل گورنمنٹ کے متعلقہ افسران معاملہ سے بے خبر ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نوٹس لیں عوامی حلقوں کی اپیل ۔
جھنگ (جاوید اعوان سے) ذرائع کے مطابق گذشتہ روز جھنگ کے نواحی گاؤں چک نمبر 456 کے موگہ نمبر 11150/L راجباہ کھنڈ مائینر کا عرصہ دراز سے نہری پانی چوری کرنے والے گروہ نے انوکھا فراڈ کیا ۔ موگہ متذکرہ کے ساتھ محکمہ لوکل گورنمنٹ کی جانب سے ایک پکی سڑک بنائی گئی ہے جس پر کروڑوں روپے کا حکومت نے خرچ کیا ہے ۔ گزشتہ روز یہ پروفیشنل نہری پانی چوری کرنے والے گروہ نے پکی سڑک توڑ کر پل بنانے کی کوشش کی مگر موگہ نمبر 11150کے متعلقہ زمینداروں نے ایسا غیر قانونی قدم اٹھانے سے منع کیا ۔ جس پر پیشہ ور نہری پانی چوروں نے تھانہ موچی والا پولیس سے رابطہ کیا اور اپنے آپ کو محکمہ نہر کے افسران ظاہر کر کے پولیس امداد طلب کی ۔ پولیس کے پھرتیلے شیر جوانوں نے بغیر کسی تحقیقات کے چوروں کی سرپرستی کرتے ہوئے دھونس دھاندلی کے ساتھ اس پل بنوانے میں نمایاں کردار ادا کیا ۔ اس بارے پکی بنانے والے ٹھیکے دار سے رابطہ کیا تو انہوں نے واضح کیا کہ یہ پل محکمہ نہیں بنا رہا یہ ان لوگوں کے ذاتی معاملات ہیں ہمیں اس بارے کوئی علم نہیں ہے ۔ جبکہ متعلقہ ایس ایچ او تھانہ موچی والا سے اس بارے موقف لینے پر انہوں نے کہا کہ میرے نوٹس میں جو دیا گیا ہے کہ محکمہ نہر کے ملازم ہیں اور کھال کا پل بنانے میں کئی لوگ رکاوٹ پیدا کر رہے ہیں ہمیں پولیس امداد کی ضرورت ہے جس پر پولیس موقع پر گئی ہے ۔ دوسری طرف محکمہ نہر کے متعلقہ افسران سے پوچھا گیا تو انہوں نے اس معاملے بارے مکمل لا علمی کا اظہار کیا ہے جبکہ موگہ متذکرہ کے زمینداروں نے کہا ہے کہ ہم اس گروپ سے تنگ آ چکے ہیں ۔ عرصہ دراز سے ہمارے پانی چوری کرنے کا سلسلہ جاری ہے ہمیں انصاف مہیا کریں ۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ جس رقبہ کو یہ نہری پانی چوری کر کے لگایا جاتا ہے یہ دوسرے گاؤں کارقبہ ہے اور دوسرے موگہ نمبر 5500/پر اس کا پانی منظور شدہ ہے ۔ جس پر عوامی وسماجی کاروباری شہری حلقوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب سمیت دیگر اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کا پرزور مطالبہ کیا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں