21

*جھنگ(جاوید اعوان سے)میونسپل کمیٹی جھنگ کا امیر ترین شعبہ تجاوزات والا ھے جس پر پاکستان کا کوئی قانون لاگو نہیں ھوتا ھے انکا اپنا ھی قانون ھے ذرائع*

*جھنگ(جاوید اعوان سے)میونسپل کمیٹی جھنگ کا امیر ترین شعبہ تجاوزات والا ھے جس پر پاکستان کا کوئی قانون لاگو نہیں ھوتا ھے انکا اپنا ھی قانون ھے ذرائع*
*جھنگ میونسپل کمیٹی کا امیر ترین شعبہ تجاوزات والا ھے جس پر پاکستان کا کوئی قانون لاگو نہیں ھوتا ھے انکا اپنا ھی قانون ھے ذرائع* تفصیلات کے مطابق تجاوزات ہر ایکشن صرف ایک ڈرامہ سیریل بن کر رہ گیا صرف وقت کا ضیاع اور عوام کو بیوقوف بنایا جا رہا ھے شہر کی مین شاہراہوں سمیت بازاروں اور مارکیٹوں میں تجاوزات کی بھر مار نے انکروچمٹ آفسران کی کارکردگی پر سوال اٹھا دئیے ذرائع کے مطابق میونسپل کمیٹی کی طرف سے تجاوزات بارے جو آپریشن کیا جاتا ھے وہ صرف ڈرامہ ہوتا ھے کیونکہ بلدیہ کی گاڑیاں دیکھ کر دوکاندار اپنا سامان ایک سائیڈ پر کر دیتے ہیں جیسے ہی بلدیہ کی گاڑیاں وہاں سے چلی جاتی ہیں پھر سے تجاوزات کر دی جاتی ہیں اگر کسی دوکاندار کی قسمت بری ھو تو اسکا پھٹہ یا بوڑد بلدیہ کے انکروچمٹ آفسران اپنے سٹور روم میں لے جاتے ہیں جسکو بغیر جرمانہ کے دس منٹ بعد وہی سامان دوکاندار کو واپس دے دیا جاتا ھے اگر آپکو بلدیہ کے سٹور روم میں کوئی سامان دکھائی دیگا تو ان دوکانداوں کا سامان دکھائی دے گا جنکی کوئی سفارش نہیں یا وہ سامان دکھائی دے گا جو اکڑ خان بن گیا ھو گا اگر شہر کے وسط کی بات کی جائے تو ریلبازار جھنگ بازار کچا پکا کوٹ روڈ شہید روڈ سرکلر روڈ نیو سبزی منڈی روڈ کے علاوہ کئی ایسے علاقے ہیں وہاں بلدیہ کے آفسران آپریشن کرنے کی جرات بھی نہیں کرتے ہیں اور انکی ٹانگیں کانپ جاتی ہیں بلدیہ کی طرف سے دوہرا قانون چل رہا ہے عوامی سماجی حلقوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب ایڈمنسٹریٹر بلدیہ چیف آفیسر بلدیہ سے شہر بھر میں تجاوزات کا گرینڈ آپریشن کرنے کا مطالبہ کیا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں