116

*جھنگ(جاوید اعوان سے)رائٹ ٹو انفارمیشن قانون کو نظر انداز: ڈپٹی ڈی ایچ او ہیلتھ تحصیل جھنگ کی مبینہ کوتاہی*

*جھنگ(جاوید اعوان سے)رائٹ ٹو انفارمیشن قانون کو نظر انداز: ڈپٹی ڈی ایچ او ہیلتھ تحصیل جھنگ کی مبینہ کوتاہی*
*ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ہیلتھ تحصیل جھنگ پر رائٹ ٹو انفارمیشن (معلومات تک رسائی کا حق) قانون کو ھوا میں اڑانے اور ایک شہری کی اہم درخواست کو نظرانداز کرنے کا الزام عائد کیا گیا ھے*۔
*تفصیلات کے مطابق، جھنگ کے ایک شہری نے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) ہیلتھ اتھارٹی جھنگ کو رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے تحت باقاعدہ درخواست جمع کرائی۔ اس درخواست میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (ڈی ڈی ایچ او) ہیلتھ تحصیل جھنگ کی جانب سے گزشتہ تین سال کے دوران تحصیل میں کتنے غیرقانونی پریکٹس کرنے والے اتائیوں کے چالان کیے گئے، کتنے کلینکس کو سیل کیا گیا، اور کتنے کیسز پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کو بھیجے گئے۔ شہری نے ان تمام ریکارڈ کی تصدیق شدہ کاپیاں فراہم کرنے کی استدعا کی تھی*۔
*سی ای او ہیلتھ اتھارٹی جھنگ نے متعلقہ قانون کے تحت یہ درخواست ڈی ڈی ایچ او ہیلتھ تحصیل جھنگ کو مزید کارروائی اور عملدرآمد کے لیے ارسال کر دی تھی۔ تاہم، شہری کے مطابق، کافی عرصہ گزر جانے کے باوجود ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر تحصیل جھنگ کی طرف سے اس سلسلے میں کوئی پیش رفت نہیں کی گئی اور نہ ہی قانون کے مطابق مانگا گیا ریکارڈ شہری کو فراہم کیا گیا ھے*۔
*شہری نے میڈیا کے توسط سے اعلیٰ حکام، بشمول سی ای او ہیلتھ اتھارٹی، سے فوری مداخلت کی اپیل کی ھے اور استدعا کی ھے کہ انہیں قانون کے مطابق مطلوبہ ریکارڈ فی الفور مہیا کروایا جائے تاکہ شہریوں کو معلومات تک رسائی کے آئینی حق سے محروم نہ کیا جائے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے کی جانب سے اس طرح کے قانون کو نظرانداز کرنا سنگین سوالات کھڑے کر رہا ھے*۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں