255

*فلمسٹار راجندر کمار اور برگیڈیئرصولت رضا*

*فلمسٹار راجندر کمار اور برگیڈیئرصولت رضا*
یہ پچھلی صدی کے آخری برسوں کا قصہ ھے میں ان دنوں تھرڈ ائیر کی پرائیویٹ تیاری کر رہا تھا۔ان دنوں میرا کبھی کبھار لاہور آنا جانا ہوتا تو پنجاب یونیورسٹی اولڈ کیمپس مال روڈ انارکلی چوک میں نیلا گنبد والی تنگ سی گلی میں میرے دوست شہزاد کی ہیروبک شاپ ہوا کرتی تھی اس سے حسب منشاء پرانی اور نایاب کتب مل جایا کرتی۔ شہزاد ایک خوبرو نوجوان تھا جو کہ پوپ سنگر جنید جمشید کا ہم شکل تھا دوست ہونے کیوجہ سے کتابیں سستے داموں دے دیا کرتا تھا مجھے یاد پڑتا ہے یہ انہیں دنوں کی بات ہے کہ ایک بار میں وہاں سے میکیاولی کی دی پرنس، جارج آرویل کی اینیمل فارم ارنسٹ ہیمنگوئے کی اے فئیر ویل ٹو آرمز، دی سن آل سو رائزز، دی اولڈ مین اینڈ سی، گوگول کی ڈیڈ سولز اور مختار مسعود کی آواز دوست کرنل محمد خاں کی بجنگ آمد، شفیق الرحمن کی دجلہ مدوجذر کرنیں شگوفے برگیڈیئر صدیق سالک کی ہمہ یاراں دوزخ سیلوٹ اور میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا کیپٹن صولت رضا کی کاکولیات جو بعد میں برگیڈیئر ہوکر ریٹائر ہوئے اور مستنصر حسین تارڑ کی نکلے تیری تلاش میں احمد فراز کی خواب گل پریشاں وہیں سے لایا تھا شہزاد بعد میں اپنی بک شاپ یہاں سے ختم کرکے کراچی چلا گیا اور وہاں جاکر اس نے ناظم آباد میں کتابوں کا ایک بہت بڑا گودام بنا لیا میں کئی سالوں بعد کراچی گیا تو دو چند دن اس کا مہمان رہا،شہزاد نے اپنی موٹر سائیکل پر کراچی کی خوب سیر کروائی۔
واپسی پر مجھے کتابوں کے کئی کارٹن تھما دیے جو میں بمشکل ساتھ لاپایا لیکن اس مشکل کو کتاب سے محبت نے محسوس نہ ہونے دیا۔
اپنے گاؤں میں میرا روزانہ کا شیڈول ہوتا کہ میں ایک کتاب لیتا گاؤں سے باہر ہمارے کھیتوں کے قریب نالہ ڈیک کے کنارے بیٹھتا اور بہتے پانیوں کے شور میں مطالعہ کرنا معمول بن گیا۔ کبھی کتاب پڑھتے ہوئے چہل قدمی کرتا تو کبھی کسی درخت کے ساتھ ٹیک لگائے لفظوں کے جنگل میں خود کو گم کر لیتا۔
قریب ہی کماد کے کھیت سے گنے توڑ کر ایک طرف گنے سے لطف اندوز ہوتا تو دوسری جانب مطالعہ سے۔
میری زندگی کا یہی وہ زمانہ تھا جس کو میں نے جیا باقی زندگی نے مجھے جیا۔
اب ان دنوں کو سوچتا ہوں تو عبدالحمید عدم کے وہ شعر یاد آتے ہیں
ٓ”کہتے ہیں عمرِ رفتہ کبھی لوٹتی نہیں
جا مے کدے سے میری جوانی اُٹھا کے لا
دیکھی نہیں ہے تو نے کہیں زندگی کی لہر
اچھا تو جا عدم کی صراحی اٹھا کے لا
اور علامہ اقبال کی نظم ہمالہ یاد آتی ہے
“لوٹ پیچھے کی طرف اے گردشِ ایام تو”
تو میں بات کر رہا تھا کہ بجنگ آمد کا مطالعہ شروع کیا تو اس کتاب نے مجھے اپنے سحر میں ایسے جکڑا کہ دجلہ پڑھتے پڑھتے خود بھی دریائے فرات اور دجلہ کے کنارے کنارے عراق و مصر کی تخیلاتی سیر کر آیا صدیق سالک کی “میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا” تو خود کو بھی ڈھاکہ کی گلیوں بازاروں اور پلٹن میدان میں پایا اور پھر ہمہ یاراں دوزخ کی مصیبتیں اور تکلیفیں برداشت کرتا ہوا پایا،برگیڈیئر(ر) صولت رضا کی “کاکولیات” پڑھنا شروع کیا تو خود کو کاکول اکیڈمی میں ٹرینگ کی سختیاں اور تکلیفیں محسوس کرتے ہوئے پایا۔ ایک جنٹلمین کیڈٹ کی زندگی کی سختیاں رنگینیاں اور دلچسپیاں دیکھیں۔ یہ وہ کتابیں تھیں جن کے جادو اور سحر سے آج تک نکل نہیں سکا کاکولیات صولت رضا صاحب نے آج سے قریب پچاس سال قبل لکھی تھی اور میں نے اسے اپنے پچپن میں پڑھا تھا آج بھی یہ کتاب میری لائبریری میں موجود ہے یہ کتاب فوج میں سیکنڈ لیفٹیننٹ کا کمیشن حاصل کرنے والے جنٹلمین کیڈٹ کی کاکول اکیڈمی میں دوران ٹریننگ گزرے ہوئے شب و روز کی روداد ہے جو اتنے دلچسپ پیرائے میں بیان کی گئی ہے کہ اس کتاب کی زبان بیان اور اسلوب آپ کو اپنے سحر میں جکڑے رکھے گا کہ ایک بار آپ کتاب پڑھنا شروع کریں تو کتاب مکمل پڑھے بغیر ہاتھ سے نہیں رکھیں گے برگیڈیئر صولت رضا صاحب قصبہ سنکھترہ تحصیل ظفروال ضلع ناروال کے رہنے والے ہیں یہ ہندوؤں کے زمانے کا ایک قدیمی صدیوں سے آباد تاریخی قصبہ ہے جہاں پر آج بھی ہندوؤں کی عبادت گاہیں مندر موجود ہیں انڈین فلم انڈسٹری کے اپنے زمانے کے خوبصورت ادکار فلمسٹار راجندر کمار بھی اسی قصبہ سنکھترہ کے رہنے والے تھے جن کا گھر آج بھی یہاں موجود ہے اسی قصبہ کے قریب ہی میرے مشہور مقدمے والے معروف قانون دان جناب ایس ایم ظفر، مشہور سیاستدان احسن اقبال ، احمد اقبال،گلوکار ابرارالحق،اردو کے معروف شاعر فیض احمد فیض، سرور ارمان، ارشاد نیازی اور پنجابی کے نامور شاعر صابر ناز، اور شاعرہ آصفہ مریم کے گاؤں ہیں اور اسی قصبہ کے قریب ہی ایک اور قصبہ بڑا پنڈ جرپال ہے جہاں پر نصرت فتح علی خاں کی گائی ہوئی غزل “مائیں نی میں کنوں آکھاں درد وچھوڑے دا” پنجابی شاعری کے عظیم شاعر شیو کمار بٹالوی پیدا ہوئے تھے جو آزادی کے وقت ہندوستان چلے گئے۔ یہاں سے قریب ہی شکر گڑھ کے ساتھ ہی نالہ بئیں کے کنارے ایک اور خوبصورت قصبہ سکھو چک چھمال ہے جہاں پر انڈین فلم انڈسٹری کے ایک اور خوبصورت مشہور زمانہ فلمسٹار دیو آنند پیدا ہوئے جن کے والد اس زمانے میں یہاں کے مشہور وکیل تھے، پنجابی ادب کے دو شاعر باپ بیٹا حکیم ارشد شہزاد اور حکیم احمد نعیم ارشد بھی اسی قصبہ کے رہنے والے ہیں اور بابائے سیاست بابا انور عزیز بھی شکرگڑھ کے ہی رہنے والے تھے میں اپنے اسی زمانے کی بات کررہا ہوں جب میں انگریزی اور اردو ادب کا سٹوڈنٹ تھا تو مجھے بہت اشتیاق ہوتا کہ میں زندگی میں ایک بار ضرور علامہ اقبال، سرسید احمد خاں، مرزا غالب، نواب مرزا داغ دہلوی، مولانا ابوالکلام آزاد، رابندر ناتھ ٹیگور، مولوی عبدالحق، مولانا حسرت موہانی، سجاد حیدر یلدرم، فیض احمد فیض، منشی پریم چند، احمد ندیم قاسمی، احمد فراز، امجد اسلام امجد، ن م راشد، مجید امجد، ساقی فاروقی، گلزار، کرشن چندر، بلونت سنگھ، راجندر سنگھ بیدی، سعادت حسن منٹو، ڈاکٹر انور سجاد، انتظار حسین، عبداللہ حسین، مختار مسعود، شوکت صدیقی، ممتاز مفتی، ابن انشاء، قدرت اللہ شہاب، اشفاق احمد، بانو قدسیہ، قرۃ العین حیدر، عصمت چغتائی، منشایاد، اور مستنصر حسین تارڑ ان سب کو ملتا اور دیکھتا لیکن میری قسمت کہ بہت سے ادباء علم تو میری پیدائش سے بھی بہت زمانوں پہلے ہی اپنا زمانہ گزار کر دنیائے فانی سے کوچ کر چکے تھے لیکن جو ہمارے زمانہ میں تھے ہماری حرماں نصیبی کہ تنگی داماں زیست نے ایسے الجھائے رکھا کہ ہماری یہ حسرت کبھی پوری نہ ہوسکی کہ ان سے ملاقات کرلیتے تمام ادباء شعراء ایک ایک کرکے اگلے سفر کو روانہ ہوگئے ان میں سے صرف جناب مستنصر حسین تارڑ سے شرف ملاقات حاصل ہوسکا۔ یوں یہ حسرت دل میں ہی رہ گئی، میں بات کر رہا تھا اپنی پسندیدہ کتاب کاکولیات کی، میں جناب برگیڈیئر صولت رضا صاحب سے اج تک ملا تو نہیں ہوں لیکن سوشل میڈیا کی آج کے زمانہ میں یہ مہربانی ہے کہ اس کے زریعے میلوں دور بیٹھے ہوئے لوگ آپس میں مل بیٹھتے ہیں سوشل میڈیا نے پوری دنیا کو ایک گلوبل ویلج بنادیا ہے اسی سوشل میڈیا کے توسط سے میرا بھی جناب برگیڈیئر صولت رضا صاحب سے علم وادب اور محبت کا تعلق واسطہ پیدا ہوگیا ہے میری ان سے جب بھی واٹسپ میسنجر فیسبک یا فون پر بات ہوتی ہے تو وہ میرے ساتھ ہمیشہ محبت اور شفقت سے پیش آتے ہیں جیسے بڑا بھائی اپنے چھوٹے بھائی سے انس محبت اور شفقت رکھے ایسے ہی ان کی میرے ساتھ انسیت و محبت ہے انہوں نے اپنے دستخط آٹوگراف سے اپنی کتابیں کاکولیات اور سوانحعمری،،پیچ وتاب زندگی،، ڈاک کے زریعے میرے گھر بھجوائیں میری بیٹیاں ام عمارہ اور سائرہ شہزادی نے بھی دونوں کتابیں پڑھیں تو بہت خوش ہوئیں جناب صولت رضا صاحب کی ایک اور دوسری کتاب غیر فوجی کالم بھی یقناً خاصے کی چیز ہو گی جو تلاش کے باوجود مجھے ابھی تک مل نہیں سکی جناب صولت رضا صاحب بھی اسی مردم خیز خطہ سرزمین نارووال سے ہیں اور یہ علم وادب اور محبتوں کی سرزمین ہے مجھے بھی ان محبتوں والے گاؤں قصبوں اور ان چھوٹے چھوٹے شہروں کے ساتھ محبت کا ایک تعلق اور واسطہ رہا ہے میں نے بھی زندگی کے چند سال ان دیہاتوں ان قصبات اور اس خطۂِ محبت مریم میں گزارے ہیں

شاہد محمود سیالکوٹ
28/12/2025

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں