82

*جھنگ(جاوید اعوان سے)اڈہ کھیوہ میں موت کا بازار سج گیا، ‘حاجی خان محمد میموریل کلینک’ اتائیت کا گڑھ بن گیا* *بچوں کا سپیشلسٹ بن کر معصوم جانوں سے کھیلنے والا ‘ڈاکٹر’ دراصل موت کا سوداگر نکلا، محکمہ صحت کے افسران کی پراسرار خاموشی پر سوالیہ نشان*

*جھنگ(جاوید اعوان سے)اڈہ کھیوہ میں موت کا بازار سج گیا، ‘حاجی خان محمد میموریل کلینک’ اتائیت کا گڑھ بن گیا*
*بچوں کا سپیشلسٹ بن کر معصوم جانوں سے کھیلنے والا ‘ڈاکٹر’ دراصل موت کا سوداگر نکلا، محکمہ صحت کے افسران کی پراسرار خاموشی پر سوالیہ نشان*
ضلع جھنگ کی تحصیلوں اور مضافاتی علاقوں میں انسانی زندگیوں سے کھیلنے کا گھناؤنا کھیل عروج پر پہنچ گیا ہے۔ اڈہ کھیوہ پر قائم نام نہاد “حاجی خان محمد میموریل چلڈرن اینڈ میٹرنٹی ہوم” غریب اور سادہ لوح عوام کے لیے کلینک نہیں بلکہ “موت کا کنواں” ثابت ہو رہا ہے۔ یہاں ایک اتائی ، بچوں کا نام نہاد سپیشلسٹ بن کر معصوم پھولوں جیسی زندگیوں کو مرجھانے میں مصروف ہے۔اتائیت کا مکروہ دھندہ: ڈگری نہ تجربہ، صرف لوٹ مار۔ذرائع کے مطابق، مذکورہ کلینک پر موجود شخص کے پاس نہ تو کوئی مستند طبی ڈگری ہے اور نہ ہی پی ایم ڈی سی (PMDC) سے رجسٹریشن، مگر اس کے باوجود موصوف نے “بچوں کے ماہر” کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے۔ میٹرنٹی ہوم کے نام پر خواتین کی زندگیوں کو بھی خطرے میں ڈالا جا رہا ہے۔ کلینک میں صفائی کے ناقص انتظامات اور غیر معیاری ادویات کا استعمال روز کا معمول بن چکا ہے، یہاں غریب مریضوں کی جیبوں پر ڈاکا ڈالنے کے ساتھ ساتھ انہیں مستقل معذوری یا موت کے دہانے پر دھکیلا جا رہا ہے۔حیرت انگیز امر یہ ہے کہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی جھنگ کے افسران اس تمام صورتحال سے مکمل باخبر ہونے کے باوجود “خاموش تماشائی” بنے ہوئے ہیں۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ کیا ہیلتھ اتھارٹی کے افسران کسی بڑے حادثے یا کسی معصوم کی جان جانے کا انتظار کر رہے ہیں؟ یا پھر ان کی یہ خاموشی “مک مکا” کا نتیجہ ہے؟
اہالیانِ علاقہ نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ اڈہ کھیوہ کے اس نام نہاد اسپتال نے انسانیت کی تذلیل کر رکھی ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب، سیکرٹری صحت اور ڈپٹی کمشنر جھنگ سے مطالبہ کیا ہے کہ: فوری طور پر اس غیر قانونی کلینک کو سیل کیا جائے۔انسانی جانوں سے کھیلنے والے اتائی کو پابندِ سلاسل کیا جائے۔
خاموش تماشائی بنے ہوئے متعلقہ ہیلتھ افسران کے خلاف بھی انکوائری کی جائے۔اگر فوری ایکشن نہ لیا گیا تو علاقہ مکین احتجاجاً سڑکوں پر نکلنے اور ہیلتھ آفس کے گھیراؤ پر مجبور ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں