45

گھریلو تشدد کابل غیر اسلامی اور غیر تہذیبی ھے مزید تفصیلات کے لیے لنک پر کلک کریں

گھریلو تشدد کابل غیر اسلامی اور غیر تہذیبی ھے مزید تفصیلات کے لیے لنک پر کلک کریں
جھنگ (بیورو رپورٹ)
مولانا بدرنصیرسلفی امیر مرکزیہ جھنگ اور مرکزی جمعیت اہلحدیث ضلع جھنگ کے قائدین نے مشترکہ بیان میں کہا کہ گھریلو تشدد بل مغرب کو خوش کرنے خاندانی نظام کو تباہ و برباد کرنے اور اسلامی اور مشرقی تہذیب کاتیایہ پانچاکرنے کے مترادف ہے حیرت ہوتی کہ مسلم اور مشرقی غیوراراکین قومی اسمبلی اور اراکین سینٹ کی موجودگی میں یہ بل کیسے پاس ہوگیاجب کہ ہمارے آئین میں بنیادی طور پر یہ بات موجود ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں قرآن و سنت سے متصادم کوئی بھی قانون نہیں بن سکتا تو یہ بل جو سراسرغیراسلامی اورغیرتہذیبی ہے کیونکرآئین پاکستان کاحصہ بن سکتاہے، انہوں نے کہابڑے افسوس کی بات ہے حکومت اور اپوزیشن بعض معاملات میں مغرب کو خوش کرنے کیلئے ایک پیچ پر ہیں اس بل سے خاندانی نظام ختم ہوکر رہ جائیگا کیا اس معاشرے میں بیٹااپنے والدین کے خلاف عدالتوں میں جائے گا لہذا یہ بل کبھی قابل قبول نہ ہوگا اورنہ ہی مغربی نظام کے دلدادہ لوگوں کو اس قسم کی سوچ رکھنی چاہیئے ،مولانا حافظ نعیم الحق امیر مرکزی جمعیت اہلحدیث ضلع جھنگ نے کہااس بل کے بارے میں فوری طور پر اسلامی نظریاتی کونسل ، ثقہ اور سنجیدہ علماء اور مستنددینی اداروں سے رائے لی جائے ۔انہوں نے کہاقومی اسمبلی اور سینٹ سے منظور ہونے والے اس بل کی بعض دفعات قرآن و سنت سے کھلم کھلا متصادم ہیں ، ہم گزشتہ ہفتے سے اس کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ یہ بل دین اسلام اور مشرقی روایات کو پس پشت ڈالنے کی وجہ سے معاشرے اور خاندانوں کو تباہ کرنے کی سازش ہے اس لیے یہ کسی طور پربھی قابل قبول نہیں ہے مولانا علامہ عبدالباسط جنجوعہ نے کہا اس بل کی بعض شقیں تو بڑی مضحکہ خیز بھی ہیں مثلاً والدین کا اپنے بچوں اور پرائیویسی اورآزادی میں حائل ہونا جرم قراردیا گیاہے ،حالانکہ بچوں کواچھے اور ذمہ دار شہری بنانے میں والدین کی تربیت اورکردار کونظرانداز نہیں کیا جاسکتاان کی دینی تربیت کرنا ہرباپ کی خواہش بھی ہوتی ہے اور ذمہ داری بھی، قرآن کریم میں حضرت اسماعیل علیہ السلام جو ہمارے نبی کے خاندانی سربراہ ہیں ان کے بارئے میں بتایاکہ وہ اولاد کو نمازوزکوٰۃ کی ادائیگی کی تربیت کرتے تھے خود نبی کریم ﷺ کوبھی اس کا حکم دیا گیااس بل میں اولاد کے بارے میں ناگوار بات کرنا، شک کرنا بھی جرم ہوگااور اس کیلئے معاشی تشدد کا لفظ استعمال ہواہے یعنی کسی بھی قسم کے اختلاف نافرمانی کی وجہ سے بچے کاخرچہ کم یا بند نہیں کیا جائے گااگرایساکیاگیاتو جرم ہوگا اور اس پرجیل کی سزا ملے گی،مگر اس سوال کا جواب کہیں موجودنہیں ، جب باپ جیل جائے گاتو بچے کا خرچہ کون اٹھائے گا انہوں نے کہااس بل میں جذباتی ، نفسیاتی اور زبانی ہراساں کرنے کی اصطلاحات بھی متعارف کرائی گئی ہیں یعنی کسی قسم کے بھی ردعمل کو ہراسمنٹ قراردیاجاسکے گا جو مغربی قانون تو ہے لیکن اسلامی قانون میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہوسکتی ، کیونکہ اسلامی قانون مادر پدر مغربی آزادی کو ہرگزقبول نہیں کرسکتامولاناطاہرسلفی امیر مرکزیہ تحصل شورکوٹ نے کہا اسی طرح اس بل میں خاوند کا دوسری شادی کی خواہش کا اظہاربھی جرم ہوگاحالانکہ ساری دنیا اس حقیقت کو مانتی ہے کہ عورتوں کی تعداومردوں کی نسبت دس سے پندرہ فیصد زیادہ ہے ، اس کا مغرب نے تو گرل وبوائے فرینڈ کی اصطلاح سے حل نکالا جس کا نتیجہ بے راہروی اور جنسی و شہوتی انتشار کے سوا کچھ نہیں نکلا لیکن اسلام اس بے راہروی کی اجازت نہیں دیتا۔ اس بل میں بیوی سے طلاق کی بات کرنابھی جرم ہوگااورا س پر سزا ملے گی ۔اس طرح کوئی غصے والی بات یا اونچی آواز میں بولناجوکہ جذباتی نفسیاتی یا زبانی اذیت کا باعث بنے وہ بھی جرم تصور ہوگاجس کاساراملبہ مرد پر پڑے گا صنف مخالف گویا فرشتہ ہے جس سے کوئی غلط حرکت سرزد نہیں ہوسکتی اور اگر ہو بھی تو اس پر گرفت نہیں ہوگی مولانا قاری محمد سعید محمدی امیر مرکزیہ 18ہزاری نے کہا گھریلو تشدد بل کاقومی اسمبلی یا سینٹ سے منظور ہونا ہی سخت حیرتناک سانحہ ہے ، یہ بل ایک خوشنما نام کے پردے میں خاندانی نظام کی بنیادیں ہلا دینے والا ہے جس سے اسلامی ا ور خودکشی کررہاہے اور یہ نقال ان کی اتباع میں خیرسمجھ رہے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں