39

مقدس شاھین سندھو “جذباتی انسان”

مقدس شاھین سندھو
“جذباتی انسان”
بہت دونوں بعد میرے دماغ میں ایک مستی کرنے کا خیال آیا میں نے سوچا کیوں نہ آج اپنے پیاروں اور اپنی دوستوں کو تنگ کیا جائے- حقیقت میں چیک کرنا چاہتی تھی میرے دوست جذباتی کس حد تک ہیں -سوال کچھ یوں تھا آپ پلیز مجھ سے احتیاط کریں, کیونکہ میں آپ کی بہت کئیر کرتی ہوں, مجھے آپ کی عادت ہوتی جا رہی ہے, اور میں آپ کو اپنی عادت نہیں بنانا چاہتی یہ مسیج میں نے اپنے سب دوستوں کو سینڈ کر دیا میں سب کے جواب کی منتظر تھی, میں نے سب کے جواب پڑھے اور بہت اچھا محسوس کر رہی تھی – سوال میں نے اپنے دوستوں کو سینڈ کیا اور اس کا جواب میں پوری عوام کو دینا چاہتی ہوں, کیا پتہ میرے جواب سے کسی انسان میں تبدیلی آجائے-
میرا جواب یہ ہے کہ اگر ہمارے پاس دو ہیرے ہیں ایک اصلی اور ایک نقلی, ہم نے ان کی پہچان کرنی ہے ان میں سے اصلی ہیرا کون سا ہے اور نقلی کون, دس منٹ تک دھوپ میں رکھنے کی وجہ سے جو پلاسٹک کا ہیرا تھا وہ گرم ہونے لگ گیا, جب کے اصلی ہیرا ویسا کا ویسا ٹھنڈا – یہ جو تپش آتی ہے زندگی میں کون اصلی ہے کون نقلی اور کون جذباتی۔کون صرف دعوی کرتا ہے کون صبر, اس موقع پر اس وقت نے گزرنا ہی گزرنا ہے ۔ ہم اگر اس معاملے میں آکر دیکھیں کیا میرے گھر میں کھانا پکتا ہے تین ٹائم میرے پاس اتنے پیسے ہے چھ ماہ گھر بیٹھ جاؤں, کوئی پریشانی تو نہ ہوں گی میں کہاں سے چلی تھی اللہ نے کتنی نعمتیں دی ہم پھر بھی روتے ہیں,ہم لٹ گئے برباد ہوگے ہمارے ساتھ کیا ہو گیا۔ پہلے سے بہتر ہوا یا خراب اللہ نے کوئی ایسی رات نہیں بنائی,جسں کے بعد دن طلوع نہ ہوتا ہو ۔مشکل دور بھی گزر جائیں گا مگر مسلہ یہ ہے کہ اگر آپ اس کو ہنس کر گزارئیں گے مزے لیں گئیں , میرے مالک تونے بھیجا ہے کوئی نہیں۔
وہ کیا خوبصورت بات ہے۔
“چپ رہیسے تاموتی ملسن صبرکرے تا ہیرے”
ہماری بزنس کمیونٹی کا جو سب سے بڑا مسلہ ہے وہ یہ ہے کہ کوئی جب ہم سے پوچھتا ہے کیا حال ہے ہر وقت رونا ہر وقت گلہ کرنا اسے ختم کرے اگر کوئی آپ سے پوچھے کیا حال ہے تو کہیں الحمداللہ بغیر محنت کے سانس آرہی ہے میرے کو تونے آنکھیں عطا کر دی ۔ تیرا شکر ہے جس وقت بندے کی زبان پر شکر آگیا, اس نے گلا کرنا چھوڑ دیا زندگی سے, اسی وقت اس کی بہتری آنا شروع ہو جاتی ہے۔ پریشانی حالات سے نہیں یہ خیالات سے ہوتی ہے,حالات تو سب کے گزر جاتے ہے ۔ ضرورتیں تو فقیروں کی بھی پوری ہوجاتی ہے بادشاہت تو بادشاہوں کی بھی پوری نہیں ہوتی۔ ہم نے اصل خواہشات کی عمارات بنائی ہوتی ہے ضرورت ہماری کچھ ہے ۔ ضرورت کے بعد سہولت ,سہولت کے بعد آسائش, آسائش کے بعد زیبائش,زیبائش کے بعد نمائش ہے۔ ہم نمائش کو بھی سمجھتے ہے یہ بھی ہماری ضرورت ہے۔ لاک ڈاؤن میں امیر کی ضرورت بھی وہی تھی اور غریب کی بھی وہی تین وقت کا کھانا سکون سے سونا۔ اللہ نے بڑی نعمتوں سے الحمداللہ الحمداللہ ہمیں نوازا ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں