43

جھنگ(محمد جاوید اعوان) جھنگ میں کھاد ڈیلروں نے انتظامیہ کی نرمی کا ناجائز فائدہ اٹھانا شروع کر دیا جھنگ میں انتظامیہ کی طرف سے آنے والی لسٹ سے کم گٹو دینے لگے اسسٹنٹ کمشنر پر الزامات لگا کر اپنا فاہدہ کر رہے ہیں

جھنگ(محمد جاوید اعوان) جھنگ میں کھاد ڈیلروں نے انتظامیہ کی نرمی کا ناجائز فائدہ اٹھانا شروع کر دیا جھنگ میں انتظامیہ کی طرف سے آنے والی لسٹ سے کم گٹو دینے لگے اسسٹنٹ کمشنر پر الزامات لگا کر اپنا فاہدہ کر رہے ہیں ریٹ بھی 1850 روپے انتظامیہ کی۔لسٹ پر دے رہے ہیں جبکہ بلیک میں 2500 میں فروخت کر رہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق ڈپٹی کمشنر جھنگ نے ڈیلروں کی ہٹ دھرمی کے باوجود صرف اس لیے نرم پالیسی اختیار کی تاکہ کوئی بدمزگی نہ ہو ڈیلر بھی اپنی روزی کمائیں اور کسانوں کو بھی کھاد ملے ڈیلرز نے اپنی بچت کا رونا رو کر 1768 کی بجائے 1850 انتظامیہ کی طرف سے آنے والی لسٹ پر کھاد دینی شروع کر دی لیکن اس نرمی کے باوجود جو لسٹ اسسٹنٹ کمشنر کی طرف سے کسانوں کی آتی ہے کہ فلاں کسان کو اتنی کھاد دی جائے موقع پر جب کسان کھاد لینے آتا ہے جس کے 100 ہوتے ہیں اس کو 80 جس کے پچاس ہوتے ہیں۔اس کو چالیس جس کے پچیس ہوتے ہیں اس کو بیس دیتے ہیں جس کے دس اس کو سات دیتے ہیں اور سارا الزام اسسٹنٹ کمشنر پر لگا دیتے ہیں کہ بیشک اس سے بات کر لیں حالانکہ اسسٹنٹ کمشنر کو کسی بات کا پتہ بھی نہیں اورموقع پر کہتے ہیں بیشک اے سی سے بات کر لو اب بیچارہ کسان کہاں اے سی سے بات کروائے اور جبکہ انتظامیہ کو جو لسٹ آئی اس کا حساب دیتے ہیں جو کسانوں کی کھاد ہوتی ہے وہی کھاد 2500 میں بلیک فروخت کرتے ہیں ایک زمیندار نے بتایا کہ میری فصل کماد کے علاوہ 100 ایکڑ گندم ہے میں نے 100 بوری کی درخواست دی جو اسسٹنٹ کمشنر نے کہا کہ پچاس اب پچاس دو دن بعد لے لینا دوسرے دن مجھے ایک ٹریڈرز غلہ منڈی سے فون آیا کہ آپ کے 25 گٹو ہیں میں نے لسٹ میں دیکھا تو 25 گٹو پر میں نے کہا میرے پچاس تھے خیر میں نے 25 گٹو کے پیسے دیے تو مجھے کہا کہ بیس کے پیسے دو میں نے کہا یہ کیا طریقہ ہے تو کہتے ہیں لینی ہے تو لو ورنہ جاو جس سے بات کرو اسی طرح ایک زمیندار نے بتایا کہ میرے 15 گٹو لسٹ میں تھے غلہ منڈی کے ڈیلر نے 10 گٹو 1850 کے حساب سے دیے باقی میرے سامنے 2500 میں فروخت کر دے کسانوں نے ڈی سی جھنگ سے مطالبہ کیا کہ آپ نے تو نرمی اس لیے کی کہ یہ ڈیلرز کل کلاں ہڑتال یا بلیک میل نہ کریں لیکن سرکاری لسٹ میں گڑ بڑ کرنے والوں کے خلاف تو سخت ایکشن ہونا چاہیے جو انتظامیہ کے ساتھ بھی ایک مذاق ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں