30

علامہ اقبال نے اپنی شاعری اور فلسفے سے مسلم امہ میں شعور بیدار کیا۔ آج کا نوجوان علامہ اقبال کے فلسفے سے دور ہے۔ انکو اقبال کو زیادہ سے زیادہ پڑھنا اور سمجھنا چاہیے فیصل جبوانہ

علامہ اقبال نے اپنی شاعری اور فلسفے سے مسلم امہ میں شعور بیدار کیا۔ آج کا نوجوان علامہ اقبال کے فلسفے سے دور ہے۔ انکو اقبال کو زیادہ سے زیادہ پڑھنا اور سمجھنا چاہیے فیصل جبوانہ
جھنگ (جاوید اعوان سے) نواب فیصل حیات خان جبوانہ سیال نے اقبال ڈے کے حوالے سے ایک پیغام میں کہا کہ 9 نومبر 1877 بمطابق 3 ذیقعد 1294ھجرى بروز جمعہ المبارک سیالکوٹ میں ایک ایسی عظیم ہستی نے جنم لیا جس کے نام کو مختلف حیثیتوں میں تاریخ میں ہمیشہ کے لئے امر ہو جانا تھا حضرت ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رحمتہ الله علیہ ایک کامیاب قانون دان علم فلسفہ کو نئی جہتوں سے روشناس کرانے والے ایک عظیم فلسفی ہردلعزیز سیاست دان شاعر مشرق کا خطاب پانے والے ایک بلند پایہ شاعر ایک عظیم مفکر حکیم الامت اور خالق تصور پاکستان ایسی ہمہ جہت شخصیت کہ جس میدان میں قدم رکھا اپنی قابلیت کی دھاک بٹھا دی مگر ان کی ایک حیثیت ایسی ہے جو ان سب پر حاوی ہے اور وہ ہے ان کا عشق رسول صلی الله علیہ وآلہ واصحابہ وسلم ہونا حضرت ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رحمتہ الله علیہ کا عشق رسول صلی الله علیہ وآلہ واصحابہ وسلم اپنی نوعیت کا بہت منفرد عشق ہے جس کی مثال کم ملتی ہے جس میں حضرت ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رحمتہ الله علیہ سر تا پا عجز و انکساری ادب و احترام اور محبت کی انتہا کو چھوتے نظر آتے ہیں کہتے تھے کہ اے خدایا تو غنی ہے دونوں جہانوں کا اور میں فقیر ہوں روز قیامت میرے پاس کوئی بہانہ نہیں ہے اگر میرا حساب دیکھنا تیرے لئے ناگزیر ہی ہو تو آپ صلی الله علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کی نگاہوں سے پوشیدہ رکھ کر لینا حضرت ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رحمتہ الله علیہ نے اپنی شاعری میں عمل کا پیغام دیا ہے انہوں نے اپنے خطبات میں واضع کیا کہ اسلام کا نظریہ متحرک ہے جامد نہیں نوجوانوں کو بطور خاص مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے پیغام عمل دیا اور انہیں نوجوان نسل سے یہ توقع تھی کہ وہ کردار و عمل کی قوت سے امت مسلمہ کو ایک بار پھر اقوام عالم میں قابل فخر مقام دلا سکیں گےعمل کی اہمیت کو خالق کائنات نے اصولی طور پر بیان کردیا کہ انسان کو وہی کچھ ملے گا جس کے لئے وہ خود کوشش کرتا ہے حضرت ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رحمتہ الله علیہ اس بات پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں جس قوم کا دین کا یہ نظریہ تھا آج وہ نہ صرف عمل سے عاری ہوچکی بلکہ اُس نے اپنے زندگی کے نظریہ کو بھی بدل لیا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں