21

تحریر حاجی محمد ناصر**بیٹیاں باپ کی لاڈلی جان ہوتی ہیں*

*تحریر حاجی محمد ناصر**بیٹیاں باپ کی لاڈلی جان ہوتی ہیں*

باپ اور بیٹی کا پیار اک ایسا موضوع ہے کہ جس کی خوبصورتی لفظوں میں بیان نہیں ہوسکتی جیسا کہ میری دو بیٹیاں ہادیہ اور ہانیہ ہیں ان کی خوبصورتی اور انکا پیار لفظوں میں بیان نہیں ہو سکتا
مہتاب ہیں ، گلاب ہیں ، صندل ہیں بیٹیاں ,
باد صبا ہیں ، خوشبو ہیں، بادل ہیں بیٹیاں .

اس منصب جلیل پہ فائز ازل سے ہیں ,
رحمت خدا کی، پیار کا آنچل ہیں بیٹیاں .

ہر تشنگی کا ایک مکمل جواب ہیں ,
ممتا خلوص پیار کی چھاگل ہیں بیٹیاں .

ان سے ملی ہے سارے زمانے کو روشنی ,
خود ظلمتوں کے ہاتھ سے گھائل ہیں بیٹیاں .

ہیں جستجو ،، تلاش ،، امانت سماج کی ,
پلکوں پہ ان کو لیجئے کاجل ہیں بیٹیاں .

جنت ہے ان کے زیرِ پا دنیا کا زکر کیا ,
دونوں جہاں کا ، حسن مکمل ہیں بیٹیاں .

انسانیت! بدن کا یہ تیرے لباس ہیں ,
مت کھینچ ان کو ، کانٹوں پہ مخمل ہیں بیٹیاں .

مہتاب ہیں ، گلاب ہیں ، صندل ہیں بیٹیاں ,
باد صبا ہیں ، خوشبو ہیں ، بادل ہیں بیٹیاں…..
جب بیٹی پیدا ہوتی ہے تو اپنے باپ کے لئے جنت کا دروازہ کھولتی ہے کیونکہ بیٹی رحمت ہے نعمت نہیں رحمت کا حساب روزِ محشر نہیں ہوگا جبکہ نعمت کے بارے میں پوچھا جائے گانبی پاکؐ کا فرمان ہے کہ جس نے دو بیٹیاں پیدا کی ان کو جوان کیا پڑھایا لکھایا اور پھر ان کی شادی کی وہ جنت کے دن میرے ساتھ ایسے ہوگا جیسے دو جڑی ہوئی انگلیاں یہ بیٹی جب بیوی کا روپ دھار لیتی ہے تو یہ اپنے شوہر کا دین مکمل کرتی ہے اپنے شوہر کو مجازی خدا کا درجہ دلواتی ہے یعنی اللہ کی ذات کے بعد شوہر بیوی کے لئے خدا کا درجہ رکھتا ہے شوہر کی کسی بات کی حکم عدولی کی صورت میں فرشتے ساری رات عورت ذات پر لعنت بھیجتے ہیں اس لئے عورت جس حالت میں بھی ہو اپنے شوہر کی نافرمانی نہیں کرسکتی پھر جب یہ عورت ماں کا روپ دھار لیتی ہے تو جنت اس کے قدموں میں ہوتی ہے جیسا کہ قرآن و حدیث سے ثابت ہے اگر کوئی عورت کا حقیقی مقام اسلام میں سمجھے تو پھر ہر مرد عورت بننا چاہے کہ سب کچھ تو اسلام نے عورت کے لئے مقرر کردیا ہے جبکہ مرد کی حیثیت ثانوی رکھ دی ہے جتنی عزت اسلام نے عورت زاد کی رکھی ہے اگر عورت کو اس کا جائز مقام مل جائے تو یہ دنیا ہی جنت کا روپ دھار لے ہمارے سماج اور مذہب میں گھر کا سربراہ مرد ہے اور گھر کے تمام فیصلوں کا اختیار اس کے پاس ہی ہوتا ہے البتہ یہ فیصلے خاندان میں باہمی مشاورت کے بعد لئیے جاتے ہیں ایک عورت کے لئے چاہے وہ ماں ہو یا بیٹی بہن ہو بیوی مرد کا بخشا ہوا اعتماد اور تحفظ ساری زندگی کی کامیابی کی ضمانت ہےکہا جاتا ہے کہ ہر کامیاب مرد کے پیچھے عورت کا ہاتھ ہوتا ہے مگر ہر سکے کے دو پہلو ہوتے ہیں ہر کامیاب عورت کے پیچھے بھی کوئی نہ کوئی مرد ہوتا ہے جو اسکا باپ ،بھائی شوہر یا بیٹا ہوتا ہے ہمارے معاشرے میں اک عورت کاان رشتوں کے ساتھ کے بناء آگے بڑھنا آسان نہیں ہے عورت کی زندگی میں پہلا مرد اس کا باپ ہوتا ہے اور اس سے ہی اس کی شخصیت کی بنیاد پڑتی ہے۔ باپ وہ چھتنار درخت ہے جو زندگی کی دھوپ کی تمازت سے محفوظ رہنے کے گر سکھا کر ہمیں تحفظ دیتا ہےایک باپ اپنی بیٹی کو اعتماد اور حوصلہ کے وہ پر دیتا ہےجن کے زریعے وہ کامیابی کے آسمان کی بلندیوں کو چھو سکتی ہے جبکہ ان پروں سے محروم بیٹیوں میں احساس کمتری اورمحرومی کا احساس انہیں کبھی سر اٹھانے نہیں دیتا اور اس سے مغلوب رہ کر وہ خود کو غیر محفوظ تصور کرتی ہیں جسکی وجہ سے ان کی شخصیت دب کے رہ جاتی ہے اور وہ ہمیشہ کے لئے دوسروں کی دست نگر ہو کے رہ جاتی ہیں ایک باپ کی اپنی بیٹی کی شخصیت پر گہری چھاپ ہوتی ہے جہاں ماں بچی کی اچھی پرورش اور تربیت کی زمہ دار ہوتی ہے وہیں باپ اپنی بیٹی کو اس معاشرےکے ایک کامیاب فرد کے طور پر جینا سکھاتا ہےایک بیٹی کی کامیابی کی بڑی وجہ اس کے باپ کا دیا ہوا اعتماد، بھروسہ اور حوصلہ ہوتا ہےایک اچھا باپ اپنی بیٹی کے لئے ایک مخلص اور سچا دوست ہوتا ہےجو اسے بلا مشروط محبت و احترام دیتا ہے جس کے پاس اس کے ہر مسئلے کا حل موجود ہوتا ہےجو اسے اس کے ہر ارادے میں کامیاب ہونے کا راستہ دکھاکر مدد دیتا ہے جو اس کی ماں کو عزت دے کر اس میں اپنی عزت کا شعور بیدار کرتا ہے وہ اسے باور کراتا ہے کہ وہ اپنی خامیوں اور کمیوں کے باوجود کسی طور کسی سے کم نہیں اور وہ ہمت اور حوصلے سے کام لےکر اپنی محنت لگن اور کوشش سے اپنے ہر ارادے کو کامیاب بنا سکتی ہے ایک اچھا باپ اپنی بیٹی کو اتنی پر اعتماد شخصیت بنا دیتا ہے کہ وہ نا صرف تن تنہا دنیا کے ہر مسئلے اور مشکل کا سامنا کرنے کے لائق ہوجاتی ہے بلکہ وہ دوسروں کی مدد کرکے معاشرے کے مفید رکن کے طور پر اپنے آپ کو منوالیتی ہے لیکن ہمارا معاشرہ نہ جانے کن اندھیرے میں گم ہو چکا ہے بیٹیوں کو بوجھ سمجھتے ہیں انکو حقارت کی نظر سے نہ جانے کیوں دیکھا جاتا ہے؟ حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھ سے ایک بہت بڑا گناہ ہو گیا ہےجسے آپ کا رب کبھی معاف نہیں کرے گا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا دحیہ کیسا گناہ بتاؤ حضرت دحیہ قلبی رضی اللہ عنہ فرمانے لگے یا رسول اللہ صلی علیہ وآلہ وسلم میری بیوی حاملہ تھی اور مجھے کسی کام کی غرض سے دوسرے ملک جانا تھا میں نے جاتے ہوئے بیوی کو کہا کہ اگر بیٹا ہوا تو اس کی پرورش کرنا اگر بیٹی ہوئی تو اسے زندہ دفن کر دینا حضرت دحیہ قلبی رضی اللہ عنہ روتے جا رہے ہیں اور واقعہ سناتے جا رہے ہیں حضرت دحیہ قلبی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں واپس بہت عرصہ بعد گھرآیا تو میں نے دروازے پر دستک دی اتنے میں ایک چھوٹی سی بچی نے دروازہ کھولا اور پوچھا کون میں نے کہا تم کون ہو تو وہ بچی بولی میں اس گھر کے مالک کی بیٹی ہوں آپ کون ہیں حضرت دحیہ قلبی رضی اللہ عنہ فرمانے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میرے منہ سے نکل گیا اگر تم بیٹی ہو اس گھر کے مالک کی تو میں مالک ہوں اس گھر کا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے منہ سے یہ بات نکلنے کی دیر تھی کہ چھوٹی سی اس بچی نے میری ٹانگوں سے مجھے پکڑ لیا اور بولنے لگی بابا بابا بابا بابا آپ کہاں چلے گئے تھے بابا میں کس دن سے آپ کا انتظار کر رہی ہوں حضرت دحیہ قلبی رضی اللہ عنہ روتے جا رہے ہیں اور فرماتے ہیں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں نے بیٹی کو دھکا دیا اور جا کر بیوی سے پوچھا یہ بچی کون ہے بیوی رونے لگ گئی اور کہنے لگی دحیہ یہ تمہاری بیٹی ہے حضرت دحیہ قلبی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھے ذرا ترس نہ آیا میں نے کہا میں قبیلے کا سردار ہوں اگر اپنی بیٹی کو دفن نہ کیا تو لوگ کہیں گے ہماری بیٹیوں کو دفن کرتا رہا اپنی بیٹی سے پیار کرتا ہے حضرت دحیہ قلبی کی آنکھوں سے اشک زارو قطار نکلنے لگے اور آپ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہ بچی بہت خوبصورت بہت حیسن تھی میرا دل کر رہا تھا اسے سینے سے لگا لوں پھر سوچتا تھا کہیں لوگ بعد میں یہ باتیں نہ کہیں کہ اپنی بیٹی کی باری آئی تو اسے زندہ دفن کیوں نہیں کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں گھر سے بیٹی کو تیار کروا کر نکلا تو بیوی نے میرے پاؤں پکڑ لیے دحیہ نہ مارنا اسے دحیہ یہ تمہاری بیٹی ہے ماں تو آخر ماں ہوتی ہے حضرت دحیہ قلبی رضی اللہ عنہ روتے ہوئے فرماتے ہیں میں نے بیوی کو پیچھے دھکا دیا اور بچی کو لے کر چل پڑا رستے میں میری بیٹی نے کہا بابا مجھے نانی کے گھر لے کر جا رہے ہو بابا کیا مجھے کھلونے لے کر دینے جا رہے ہو بابا ہم کہاں جا رہے ہیں
حضرت دحیہ قلبی رضی اللہ عنہ روتے جاتے ہیں اور واقعہ سناتے جا رہے ہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں بچی کے سوالوں کاجواب ہی نہیں دیتا وہ پوچھتی جا رہی ہے بابا کدھر چلے گئے تھے کبھی میرا منہ چومتی ہے کبھی بازو گردن کے گرد دے لیتی ہے لیکن میں کچھ نہیں بولتا ایک مقام پر جا کر میں نے اسے بٹھا دیا اور خود اس کی قبر کھودنے لگ گیا آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دحیہ کی زبان سے واقعہ سنتے جارہے ہیں اور روتے جا رہے ہیں حضرت دحیہ قلبی رضی اللہ عنہ فرمانے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میری بیٹی نے جب دیکھا کہ میرا باپ دھوپ میں کام کر رہا ہے جب اس نے مجھے دھوپ میں دیکھا تو اٹھ کر میرےپاس آئی اپنے گلے میں جو چھوٹا سا دوپٹہ تھا وہ اتار کر میرے چہرے سے ریت صاف کرتے ہوئے کہتی ہے بابا دھوپ میں کیوں کام کر رہے ہیں چھاؤں میں آ جائیں بابا یہ کیوں کھود رہے ہیں اس جگہ بابا گرمی ہے چھاؤں میں آ جائیں اور ساتھ ساتھ میرا پسینہ اور مٹی صاف کرتی جا رہی ہے لیکن مجھے ترس نہ آیا آخر جب قبر کھود لی تو میری بیٹی پاس آئی میں نے دھکا دیا وہ قبر میں گر گئی اور میں ریت ڈالنے لگ گیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بچی ریت میں سے روتی ہوئی اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھ میرے سامنے جوڑ کر کہنے لگی بابا میں نہیں لیتی کھلونے بابا میں نہیں جاتی نانی کے گھر بابا میری شکل پسند نہیں آئی تو میں کبھی نہیں آتی آپ کے سامنے بابا مجھے ایسے نہ ماریں میں ریت ڈالتا گیا مجھے اس کی باتیں سن کر بھی ترس نہیں آیا میری بیٹی پر جب مٹی مکمل ہو گئی اور اس کا سر رہ گیا تو میری بیٹی نے میری طرف سے توجہ ختم کی اور بولی اے میرے مالک میں نے سنا ہےتیرا ایک نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئے گا جو بیٹیوں کو عزت دے گا جو بیٹیوں کی عزت بچائے گا اے اللہ وہ نبی بھیج دے بیٹیاں مر رہی ہیں پھر میں نے اسے ریت میں دفنا دیا حضرت دحیہ قلبی رضی اللہ عنہ واقعہ سناتے ہوئے بے انتہا روئے یہ واقعہ جب بتا دیا تو دیکھا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اتنا رو رہے ہیں کہ آپؐ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی داڑھی مبارک گیلی ہو گئی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت دحیہ قلبی رضی اللہ عنہ سے فرمایا دحیہ ذرا پھر سے اپنی بیٹی کا واقعہ سنا اس بیٹی کا واقعہ جو مجھ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے انتظار میں دنیا سے چلی گئی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین دفعہ یہ واقعہ سنا اور اتنا روئے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھ کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہ رونے لگ گئے اور کہنے لگے اے دحیہ کیوں رلاتا ہے ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو ہم سے برداشت نہیں ہو رہا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت دحیہ قلبی رضی اللہ عنہ سے تین بار واقعہ سنا تو حضرت دحیہ قلبی رضی اللہ عنہ کی رو رو کر کوئی حالت نہ رہی اتنے میں حضرت جبرائیل علیہ اسلام حاضر ہوئے اور فرمایا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ اے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم دحیہ کو کہہ دیں وہ اُس وقت تھا جب اس نے اللہ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہیں مانا تھا اب مجھ اللہ کو اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس نے مان لیا ہے تو دحیہ کا یہ گناہ بھی ہم نے معاف کر دیا ہے اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس نے دو بیٹیوں کی کفالت کی انہیں بڑا کیا ان کے فرائض ادا کیے وہ قیامت کے دن میرے ساتھ اس طرح ہو گا جس طرح شہادت کی اور ساتھ والی انگلی آپس میں ہیں. جس نے دو بیٹیوں کی پرورش کی اس کی یہ اہمیت ہے تو جس نے تین یا چار یا پانچ بیٹیوں کی پرورش کی اس کی کیا اہمیت ہو گی بیٹیاں ماں باپ پر بوجھ نہیں ہوتیں بلکہ ان کے گھر کی رونق ہوتی ہیں اُن کا سکھ چین ہوتی ہیں اُن کے آنگن میں چڑیوں کی طرح چہچہاتی ہیں شور مچاتی ہیں دانہ چگتی ہیں اور ایک دن اُڑ جاتی ہیں بس اتنا مختصر سا پڑاؤ ہوتا ہے ماں باپ کے گھر میں بیٹیاں تو رحمت ہوتی ہیں اپنے باپ کی لاڈلی جان ہوتی ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں