55

آج سے 8 سال پہلے کی بات ہے، گوجرانوالہ کے 18 سالہ ایاز نامی لڑکے پر قتل کا الزام لگا اور ایف آئی آر درج ہوگئی۔ گرفتار ہوا، کیس چلا اور عدالت نے سزائے موت کی سزا سنائی۔ لڑکا بے گناہ تھا۔ گھر والوں نے لاہور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر دی۔ اپیل کا فیصلہ آتے آتے آٹھ سال لگ گئے۔

‏آج سے 8 سال پہلے کی بات ہے، گوجرانوالہ کے 18 سالہ ایاز
نامی لڑکے پر قتل کا الزام لگا اور ایف آئی آر درج ہوگئی۔ گرفتار ہوا، کیس چلا اور عدالت نے سزائے موت کی سزا سنائی۔ لڑکا بے گناہ تھا۔ گھر والوں نے لاہور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر دی۔ اپیل کا فیصلہ آتے آتے آٹھ سال لگ گئے۔
آج سے ‏کچھ ماہ پہلے ایاز کے کیس کا فیصلہ آیا ہے، اور عدالت نے اسے با عزت بری کر دیا ہے۔ آپ شاید یقین نہ کریں لیکن ایاز جیل سے وکیل بن کر نکلا ہے۔ اس نے اپنے یہ 8 سال ضائع نہیں کئے، اس نے جیل میں رہتے ہوئے ایف اے، بی اے، ایم اے اور پھر وکالت کی تعلیم حاصل کی ہے۔
کوئی اور ہوتا تو جیل کے ‏مجرمانہ رنگ میں رنگ جاتا لیکن اپنی بے گناہی اور “خدا” کی رحمت پر یقین نے ایاز کو حوصلہ ہارنے نہیں دیا۔ رائے محمد ایاز پچھلے 8 ماہ سے وکالت کی پریکٹس کر رہا ہے اور جو درد اور غم انہوں نے برداشت کیا، اپنی زندگی کے 8 قیمتی سال جیل کی سلاخوں جن میں سے 4 سزائے موت کی کوٹھڑی میں گزارے‏کو یہ بھول نہیں سکتے۔
رائے محمد ایاز کی کوشش ہے کہ پاکستان کے عدالتی نظام میں مظلوم اور بے قصور کے لئے آسانیاں لائیں جائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں