56

اسسٹنٹ ڈائریکٹر اینٹی کرپشن جھنگ سید آصف علی شاہ کی بطور ڈی ایس پی پنجاب پرموشن ھونے کے بعد موصوف نے چارج چھوڑنے سے پہلے زیر سماعت شکایات اور انکوائرز کے ریٹ مقرر کر دئیے اور دھڑا دھڑ مال اکٹھا کر کے زیر سماعت شکایات اور انکوائرز کو ڈراپ لیٹر لگا کر ریجنل ڈائریکٹر اینٹی کرپشن فیصل آباد دفتر ارسال کرنا شروع کر دیا

اسسٹنٹ ڈائریکٹر اینٹی کرپشن جھنگ سید آصف علی شاہ کی بطور ڈی ایس پی پنجاب پرموشن ھونے کے بعد موصوف نے چارج چھوڑنے سے پہلے زیر سماعت شکایات اور انکوائرز کے ریٹ مقرر کر دئیے اور دھڑا دھڑ مال اکٹھا کر کے زیر سماعت شکایات اور انکوائرز کو ڈراپ لیٹر لگا کر ریجنل ڈائریکٹر اینٹی کرپشن فیصل آباد دفتر ارسال کرنا شروع کر دیا
جھنگ(بیورو رپورٹ) سید آصف علی شاہ جو کی پنجاب پولیس کے انسپکٹر تھے اور اب پرموٹ ھو کر ڈی ایس پی بن گئے ہیں اسسٹنٹ ڈائریکٹر اینٹی کرپشن جھنگ آفس میں تعینات ہیں انھوں نے
اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ چھوڑنے سے پہلے پہلے دفتر میں لوٹ سیل لگا دی ھے ان کے پاس زیر سماعت شکایات اور انکوائرز (خاص طور پر ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ) کے ریٹ مقرر کر دئیے ہیں
سید آصف علی شاہ صاحب مقامی طور پر جھنگ کے ھی رہنے والے ہیں جس کی وجہ سے مقامی لوگوں کے ساتھ انکا خاصہ تعلق اور رابطہ ھے جس کی وجہ سے لوگوں کا ان سے رابطہ کرنا آسان ھے سمجھ سے بالا تر ھے کہ اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ نے کس قانون کے مطابق اتنی بڑی سیٹ پر کیسے مقامی شخص کو لگایا ھوا تھا باقی کا کام تو ان کا ریڈر ممتاز خان بڑی خوش اسلوبی سے سر انجام دیتا ھے مبینہ طور پر بتایا جا رہا ھے کہ ممتاز خان بھی محکمہ پنجاب پولیس کا اے ایس آئی ھے اور جھنگ کا ھی مقامی ھے اور لکھنے پڑھنے کا ماہر ھے سودے بازی ساری ممتاز خان ھی کرواتا ھے او کے ھونے کے بعد فائل کو ایس انداز سے لکھتا ھے کہ کسی کو سمجھ نہیں آتی کہ میرے ساتھ کیا ھو گیا ھے۔ عوامی حلقوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب جناب عثمان بزدار اور ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن پنجاب گوہر نفیس سے اپیل کی ھے کہ سید آصف علی شاہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر اینٹی کرپشن جھنگ کو جلد سے جلد اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ سے فارغ کر کے واپس محمکہ پولیس میں واپس بھیجا جائے اور انکی پروموشن کی تاریخ کے بعد کی لکھی ھوئی تمام شکایات اور انکوائرز کو دوبارہ کسی اور ایماندار افسر سے سماعت کروایا جائے نیز ممتاز خان کو بھی اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ سے واپس محمکہ پنجاب پولیس واپس کیا جائے نہیں تو اسے جھنگ سے کسی دوسرے ضلع میں تبدیل کیا جائے تا کہ جھنگ کی عوام سکھ کا سانس لے سکے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں