85

کورونا وائرس اور احتیاط تحریر (اسما دراز نیوٹریشن مگسی کلینک جھنگ،

کورونا وائرس اور احتیاط
تحریر (اسما دراز نیوٹریشن مگسی کلینک جھنگ،) پوری دنیا اپنے اپنے انداز میں جی رہی تھی سکول کالج یونیورسٹی بازار مارکیٹ شاپنگ مالز شادی ہال مارکیز ہوٹلز اور تمام دیگر تمام کاروباری مراکز کے مالکان اپنی اپنی مرضی سے بنا خود اپنا کاروبار کر رہے تھے شادی ہالز میں خاندان اکٹھے ہو کر ایک دوسرے سے خوشیاں بانٹتے تھے طالب علم اپنی پڑھائی میں مگن تھے اور سنہرے خواب سجائے بیٹھے تھے لیکن گزشتہ سال دنیا میں ایک وائرس نے جنم لیا اس وائرس کو دانشوروں نے کورونا وائرس کا نام دیا کورونا وائرس کی وباء عالمی میڈیا کے مطابق چائنہ سے شروع ہوئی لیکن جو اصل گڑھ بنا وہ اٹلی کا ایک گاؤں تھا جہاں کورونا وائرس نے اپنے پنجے گاڑ لئے تھے گزشہ برس اٹلی میں بے تحاشہ اموات ہوئی روزانہ لاکھوں افراد اس وائرس کا شکار ہوئے یہ وائرس چائنہ سے شروع ہو کر پوری دنیا میں پھیل گیا اور دنیا بھر میں کروڈوں افراد اس کا شکار ہوئے جبکہ لاکھوں اموات بھی ہوئی کئ ملکوں میں کرفیو لگا دیئے گئے جبکہ کہیں مکمل لاک ڈاؤن لگا دیا گیا اور عوام کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنے اپنے گھروں میں رہیں کیونکہ اس وقت اس وائرس کی نہ ہی تو کوئی ویکسین ایجاد ہوئی تھی اور نہ ہی مستقل بنیادوں پر کوئی علاج دریافت ہو سکا تھا وقت کے ساتھ ساتھ کورونا وائرس جہاں سے شروع ہوا تھا چائنہ اس وائرس کو کافی حد تک شکست دینے میں کامیاب ہو چکا تھا دنیا کے کئ ممالک نے گزشتہ برس کورونا وائرس کی ویکسین بنانے کا دعوی کیا تھا لیکن وہ دعوے حقیقت بن کر دنیا کے سامنے نہ آسکے اور اسی طرح ایک سال گزر گیا اسکے بعد کورونا وائرس کی دوبارہ لہر آئی اور اس لہر میں بھی گزشتہ برس والی ہی کنڈیشن نظر آئی لیکن پچھلے چار ماہ سے کورونا وائرس کی تیسری لہر نے تو جہاں دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا وہیں بھارت کو اپنا گڑھ بنا لیا اور تیسری لہر سے بھارت میں صف ماتم بچھ گیا ایک دن میں ہزاروں افراد.موت کے منہ میں جانے لگے تو لاکھوں افراد میں اس وائرس کی تصدیق ہونے لگی بھارت میں اس وقت
ریکارڈ تباہی سامنے آ رہی ہے پوری دنیا میں کہیں بھی فی دن کے حساب سے تین لاکھ کا ہندسہ عبور نہیں ہوا تھا عارضی اجتماعی شمشان گھاٹ بنا کے لاشوں کو جلایا جا رہا ہے لاشیں جلانے کے لیے لکڑیاں کم پڑنے لگی ہیں یہ کرونا بگڑ کر انتہائی بھیانک صورت اختیار کر لیتا ہے ہمارے ہاں پاکستان میں بھی عوام کا بڑا طبقہ اسے سنجیدہ لینے پر آمادہ نہیں بھارت جیسا اچھی خاصی مستحکم معیشت صحت کا نظام اور بجٹ رکھنے والا ملک بھی ادھڑ کر رہ گیا ہے ہسپتالوں میں مریضوں کو داخلہ نہیں مل رہا بیڈ ختم ہو گئے ہیں اکسیجن اور وینٹیلیٹر پورے نہیں ہو رہے لوگ ہسپتالوں کے باہر پڑے مر رہے ہیں ہیلتھ سسٹم کلیپس ہو چکا
خدارا سنجیدگی اختیار کریں اس وباء کو مزیر بگڑنے سے پہلے اس سے جان چھڑوانا پاکستان کے لیے خاص طور پر ناگزیر ہے پاکستان خدانخواستہ بھارت جیسے حالات کا قطعی متحمل نہیں ہو سکتا اس لئے میں پاکستان اور دنیا بھر کی عوام سے گزارش کروں گی کرونا وائرس سے بچاؤ احتیار سے ممکن ہے خود کو اور اپنے پیاروں کی زندگی کے لیے احتیاطی تدابیر پر عمل کریں 6فٹ کاسماجی فاصلہ برقرار رکھیں ماسک اور سینیٹائزر کا استعمال کریں. غیر ضروری گھر سے باہر جانے سے پرہیز کریں اپنے ہاتھوں کو باربار صابن سے دھوئیں موجودہ حالات میں کورونا سے بچاؤ کے لیے احتیاط کے ساتھ بہتر غذا بھی ضروی ہے تاکہ قوت مدافعت کو بڑھایا جائے اور کرونا کے خلاف لڑا جائے وہ تمام غذا جو ہم کھاتے یا پیتے ہیں جسم میں بیماریوں کے خلاف لڑنے میں مدد کرتے ہیں ایسی غذا کا استعمال زیادہ سے زیادہ کریں جو مدافعاتی نظام کو بہتر کرے جن میں جس میں پروٹین وافر مقدار میں موجود ہو تازہ سبزیوں اور پھلوں کا استعمال کریں کیونکہ ان میں موجود اینٹی اوکسیڈینٹ قوت مدافعت کو بڑھا دیتے ہیں اور جسم پر حملہ کرنے والے بیکٹیریا اور وائرس سے پھیلنے والی بہت سی بیمارویوں سے بچاتی ہیں.پانی کا استعمال زیادہ کریں تاکہ نقصان دہ اود جرثومہ جسم سے نکل جائیں زنک اور وٹامن اے سی اور ڈی سے بھرپور غذا کا استعمال بڑھا دیں.روزانہ دن میں 2 -3 گلاس پانی میں لیموں لیں مناسب نیند لیں اور 45-30منٹ چہل قدمی کو معمول بنا لیں کرونا وائرس جان لیوا بیماری ہے اس سے بچاؤ کے لیےحکومت پنجاب کی طرف سے دی گئ ہدایات پر عمل درآمد ہو اور خود کو ویکسین کروائیں اور لوگوں میں اگاہی مہم چلائیں ویکینیشن کے لیے پنجاب حکومت کی طرف سے دیے گئے نمبر 1166 پر میسج کریں اور خود کو رجسٹر کریں. عوام کی بہتر صحت کے لیے حکومت نے جگہ جگہ ویکسینیشن سینٹر کھول دیئے ہیں پہلے 30 سال تک کی عمر کے افراد اب 19 سال کی عمر والے اس سے استفادہ ہو سکتے ہیں.ایس او پیز پر عمل درآمد ہو کر اس موذی بیماری کو شکست دینے میں اپنا کردار ادا کریں اس معاملے میں پیرا میڈیکل سٹاف کی قربانیوں کو رائیگاں نا ہونے دیں جن کی کاوشوں سے علاج ممکن ہے اور بہت سی جانیں گئی ہیں اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی ناصر ہو

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں