*جھنگ(جاوید اعوان سے)سی ای او ایجوکیشن اتھارٹی تبادلوں پر عملدرآمد کرانے میں ناکام، دباؤ یا ‘چمک’؟*
*حکومت پنجاب کی واضح ہدایات کے باوجود، جھنگ کی سی ای او ایجوکیشن اتھارٹی اپنے جاری کردہ تبادلہ آرڈرز پر عملدرآمد کرانے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہیں، جس سے عوامی اور سماجی حلقوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا یہ ناکامی کسی بڑے سیاسی یا انتظامی دباؤ کا نتیجہ ہے یا پھر غیر قانونی “چمک” کا کمال ہے، جس نے اہم دفتری کارروائیوں کو یرغمال بنا لیا ہے*۔
*تفصیلات کے مطابق، حکومت پنجاب نے ایک ہی سیٹ پر تین سال یا اس سے زیادہ عرصہ تک تعینات رہنے والے جونیئر کلرکس کے تبادلے کی ہدایت کی تھی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ سی ای او ایجوکیشن اتھارٹی نے اس ہدایت پر عمل کرتے ہوئے تبادلے کے احکامات جاری بھی کر دیے، لیکن ذرائع کے مطابق، ان میں سے چند منظور نظر کلرکوں نے تاحال اپنی سابقہ اسائنمنٹس کا چارج نہیں چھوڑا اور وہ مسلسل پہلے ہی کی طرح کام کر رہے ہیں*۔
*کماؤ پوت کلرک اور سی ای او کا متنازع موقف*
*ذرائع کا یہ بھی بتانا ہے کہ یہ 7 سے 8 کلرکس سی ای او ایجوکیشن اتھارٹی کے لیے مبینہ طور پر “کماؤ پوت” کی حیثیت رکھتے ہیں۔ سی ای او کا موقف ہے کہ ان کے بغیر دفتر کا کام چل نہیں سکتا*۔
*ایک انتہائی متنازع بیان میں، سی ای او ایجوکیشن اتھارٹی نے یہ بھی اعتراف کیا ہے کہ یہ کام غیر قانونی ضرور ہے لیکن انہیں اس سلسلے میں وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات اور ڈپٹی کمشنر جھنگ علی اکبر بھنڈر کی جانب سے مکمل آشیرباد حاصل ہے۔ یہ بیان حکومتی احکامات کی خلاف ورزی کو ایک نئی جہت دیتا ہے*۔
*عوامی حلقوں کی اعلیٰ حکام سے اپیل*
*تبادلوں پر عملدرآمد نہ ہونے اور سی ای او کے متنازع موقف نے انتظامیہ کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ عوامی اور سماجی حلقوں نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کی ہے*۔
*انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، چیف سیکریٹری پنجاب، صوبائی وزیر تعلیم پنجاب، صوبائی سیکرٹری تعلیم پنجاب، کمشنر فیصل آباد ڈویژن، اور ڈپٹی کمشنر جھنگ/ایڈمنسٹریٹر ایجوکیشن اتھارٹی جھنگ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری مداخلت کریں اور تبادلہ آرڈرز پر عملدرآمد کو یقینی بنا کر قانون کی بالادستی کو قائم کریں*۔
170









