*جھنگ (جاوید اعوان سے)سویرا فارمیسی پر ایکسپائرڈ انجیکشن فروخت ہونے کا انکشاف، شہری بلبلا اٹھے*!
*ہیلتھ انتظامیہ کی مبینہ خاموشی پر عوامی مطالبہ، ڈپٹی کمشنر جھنگ فوری نوٹس لیں*
*جھنگ گوجرہ روڈ پر واقع غلام نبی میموریل ہسپتال کے عین سامنے سویرا فارمیسی میں مبینہ طور پر تاریخ گزری ہوئی* *(Expired) انجیکشنز اور ادویات فروخت کیے جانے کا انتہائی ہولناک انکشاف ہوا ہے، جس پر شہریوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ ہیلتھ انتظامیہ کی جانب سے مبینہ طور پر خاموشی اختیار کرنے پر عوامی اور سماجی حلقوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے*۔
*شہری حسین جھگڑ نے میڈیا نمائندگان کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ان کے ایک دوست نے سویرا فارمیسی سے کچھ* *انجیکشن خریدے۔ جب ان کے دوست انجیکشن لگوانے گئے تو ڈسپنسر نے بتایا کہ یہ انجیکشن تو ایکسپائر ہو چکے ہیں*۔
*متاثرہ شہری نے جب فارمیسی پر جا کر شکایت کی تو فارمیسی کے عملے نے پہلے تو یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ یہ انجیکشن ان سے نہیں خریدے گئے ہیں، اور خریداری کا بل دکھانے کا مطالبہ کیا۔ شہری نے جب بل دکھایا تو فارمیسی والوں نے وہ بل لے کر غائب کر دیا۔ خریدار نے فوری طور پر اپنے دوست حسین جھگڑ کو بلایا۔ حسین جھگڑ کے پہنچنے پر فارمیسی کے عملے نے ان سے بھی بدتمیزی کی اور الزام لگایا کہ “آپ لوگ ہمیں بلیک میل کر رہے ہیں*۔”
*شہر میں ایکسپائرڈ اور مضر صحت ادویات کی کھلے عام فروخت پر عوامی اور سماجی حلقوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے*۔ *انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، چیف سیکرٹری پنجاب، صوبائی وزیر صحت، صوبائی سیکرٹری صحت پنجاب، کمشنر فیصل آباد ڈویژن، اور بالخصوص ڈپٹی کمشنر جھنگ علی اکبر بھنڈر سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سنگین معاملے کا فوری نوٹس لیں*۔
*مطالبہ کرنے والوں نے چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیلتھ اتھارٹی جھنگ ڈاکٹر احمد شہزاد، ڈسٹرکٹ ڈرگ کنٹرولر ڈاکٹر عطیہ نواز، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر جھنگ ڈاکٹر مریم گل، اسسٹنٹ کمشنر تحصیل جھنگ اور ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر تحصیل جھنگ ڈاکٹر ملیحہ خان کو بھی مخاطب کیا گیا ہے۔ عوامی حلقوں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ذمہ دار ہیلتھ انتظامیہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے.شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ سویرا فارمیسی کے خلاف اعلیٰ سطحی انکوائری کروائی جائے اور شہریوں کی صحت سے کھیلنے والے اور غیر قانونی کام کرنے والوں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے تاکہ آئندہ کوئی شخص ایسی گھناؤنی حرکت کرنے کی جرات نہ کرے*۔
165









