*تنصیف :- حجاب طفیل جرنلسٹ.عوام کی زندگیوں میں مشکلیں نہیں ۔۔۔۔۔۔ آسانیاں لائیے* ۔
*عوام کی عزت نفس کو مجروح ہونے سے بچائیے* ۔
*ہیلمٹ نہ پہننے کی سزا پر نظر ثانی پر نظر ثانی کر کے اپنی عوام کی زندگیوں میں آسانی لانے کے لئے اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہے* ۔ *یہ عوام آپ کی اپنی ہے* ۔
*وزیر اعلیٰ پنجاب سے دردمندانہ اپیل* ؛
*ہیلمٹ نہ پہننے پر حوالات کی سزا سے عام آدمی متاثر ہو رہا ہے ۔ اس حکم پر عوام دو سزائیں بھگت رہی ہے* ، *جرمانہ اور حوالات۔اس حکم سے جہاں عام آدمی کی عزت نفس مجروح ہونے کے ساتھ ان کی معاشی حالت بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہے ، وہاں دیگر مسائل بھی جنم لے رہے ہیں ۔ پاکستان میں عام آدمی کو دو وقت کی روٹی بڑی مشکل سے میسر ہوتی ہے،مہنگاہی کا دور دورہ ہے، نفسا نفسی کا عالم ہے اور ہر آدمی پریشان ہے ۔ لیکن حکومت نے اس قانون کو نافذ کر کے بجائے عوام کی مشکلیں کم کرنے اور ان کی زندگیوں میں آسانی لانے ان کی مشکلات میں اور اضافہ کر دیا ہے ۔ غریب آدمی جو پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں بری طرح پس رہا ہے* *اب اس کو بیک وقت دو سزائیں بھگتنا پڑ رہی ہیں ، ایک جرمانہ اور دوسرا حوالات ۔ جرمانہ ادا کرے، حوالات کی سزا بھگتے یا اپنے بچوں کا پیٹ پالے ۔ اس قانون کی وجہ سے غریب عوام بری طرح متاثر ہو رہی ہے*، *حوالات میں ایسے لوگ بھی بند ہو رہے ہیں جو کہ گھر کے واحد کفیل ہیں ۔ حوالات میں ان کا اس طرح بند ہونا جہاں ان کی عزت نفس کو مجروح کر رہا ہے وہاں ان کے گھر کا بجٹ اور معاشی حالت بھی متاثر کر رہا ہے ۔ اس قانون سے سب سے زیادہ متاثر دیہاڑی دار مزدور ہو رہے ہیں۔ ان کے سوائے مزدوری کے اور کوئی ذرائع آمدن نہیں ۔یہ اقدام ان کے گھر والوں پر ظلم و ستم اور زیادتیوں کے مترادف ہیں ۔ وہ حوالات میں ہوں گے تو ان کا چولہا کیسے جلے گا ،ان کے بیوی بچوں کا پیٹ کون پالے گا ۔ ان کے بچوں کو دو وقت کی روٹی کون دے گا , ان کے خاندان کی کفالت کون کرے گا، ان کے بیوی بچوں اور والدین کو دوائیاں کون لا کر دے گا۔ کبھی اس پر بھی کسی نے غور کیا۔ حکومت کے اس اقدام نے پنجاب میں کہرام مچا دیا ہے*، *غریب عوام سراپا احتجاج ہے ۔ مزدور، کسان، طالب علم، ملازم پیشہ افراد اور عام آدمی سب مضطرب کا شکار ہیں، کسی کو بھی نہیں بخشا جا رہا سب جرمانہ اور سزا بھگت رہے ہیں، ان کے بیوی بچے، عزیز و اقارب سب تھانہ اور کچہری کے چکر لگا رہے ہیں، ان کے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے ہیں، فاقوں پر فاقے جا رہے ہیں، مریض دوائیوں کے نہ ملنے کی وجہ سے مر رہے ہیں ، ان کی موت کا کون ذمہ دار ہے ، ان کے اپنے پیارے ، زندگی کے سہارے اور امیدوں کے چراغ جیل میں ہیں ، ان کے پاس پیسے نہیں ہیں کہ دوائیاں لائیں اور اپنی زندگیوں کو بچائیں ، ان کے پاس پیسے نہیں ہیں کہ اپنے پیاروں کو حوالات سے باہر نکلوا سکیں ۔ اور ان کے پاس پیسے نہیں ہیں کہ وہ گھر کا چولہا جلا سکیں ۔ کیونکہ ان کے کمانے والے حوالات میں بند ہیں ۔ وہ خواتین جہنوں نے کبھی تھانے اور کچہریوں کا دروازہ نہیں دیکھا تھا وہ اپنے گھر والوں اور اپنے بچوں کے لئے ایسے لوگوں کے سامنے دست طلب بن کر کھڑی ہیں، جن سے نظریں ملانا بھی گوارا نہیں کیا جاتا ہے ۔ بجلی و گیس کے طوفانی بل مشکل سے بھرنے والے خاندان، اب وکیل، منشی،ٹاوٹوں،عملے کی مٹھائی اور محرر صاحب کی منہ دکھانی کے اخراجات کہاں سے پورے کریں۔ ٹاؤٹ مافیا کا پیٹ کیسے اور کہاں سے پیسہ لا کر بھریں ۔ ضمانت، سپرداری، حوالات سے رہائی سب کے اخراجات کا بوجھ کیسے اٹھائیں۔ کہاں سے پیسہ لائیں، کس کے دروازے پر دستک دیں اور کہاں جائیں، کیونکہ ان کے اپنے پیارے ان کی کفالت کے ذمہ دار حولات میں ہیں* ۔ *جہنوں نے ان کی زندگیاں آسان بنانا تھیں جو ان سے ووٹ لے کر آئے تھے کہ اسمبلی میں جا کر ان کے حقوق کی جنگ لڑیں گے، ان کی مشکلیں کم کر کے ان کی زندگیاں آسان بنائیں گے، ملک میں خوشحالی لائیں گے، غربت کو کم کریں گے، سماجی علحیدگی کا خاتمہ کر کے سماجی ترقی کو فروغ دیں گے وہی لوگ اب ان کی زندگیوں میں آسانی لانے کی بجائے ان کی مشکلات میں مزید اضافے کا موجب بن رہے ہیں ۔عوام سخت بے چینی کا شکار ہے ، اور سمجھ رہی ہے کہ ہم کسی دشمن ملک کے باسی ہیں جو ہم پر ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھا رہا ہے ۔ وقت کا تقاضا ہے کہ اس قانون پر نظر ثانی کی جائے اور اس حکم کو واپس لے کر عوام کی زندگیوں کو آسان بنایا جائے ۔ میری مریم نواز شریف صاحبہ سے درخواست ہے کہ وہ ہمدردانہ غور فرماتے ہوئے اس حکم کو فوراً واپس لے کر غریب عوام کی دعائیں لیں، لوگوں کی زندگیوں میں مشکلیں نہیں، آسانیاں لائیں۔۔۔۔۔۔*
212










