222

*جھنگ(جاوید اعوان سے) ‘سیمینار سیمینار’ کی رٹ، معصوم کی جان ضائع!* *شاہ جیونہ میں اتائی کے ہاتھوں بچہ جان بحق، ڈپٹی ڈی ایچ او کی نجی گاڑی پر نیلی بتی لگا کر “مٹر گشت”؛ ڈپٹی آفس درجہ چہارم کے ملازمین کے رحم و کرم پر!*

*جھنگ(جاوید اعوان سے) ‘سیمینار سیمینار’ کی رٹ، معصوم کی جان ضائع!* *شاہ جیونہ میں اتائی کے ہاتھوں بچہ جان بحق، ڈپٹی ڈی ایچ او کی نجی گاڑی پر نیلی بتی لگا کر “مٹر گشت”؛ ڈپٹی آفس درجہ چہارم کے ملازمین کے رحم و کرم پر!*
*جھنگ کے علاقہ شاہ جیونہ میں ایک لرزہ خیز واقعہ پیش آیا ہے جہاں مبینہ طور پر ایک ‘اتائی’ (غیر مستند اور جعلی معالج) کے ہتھے چڑھ کر ایک معصوم بچہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ اس افسوسناک سانحے نے محکمہ صحت تحصیل جھنگ کی کارکردگی اور اس کے سربراہ، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (DDHO) ڈاکٹر ملیحہ خان کی مبینہ غفلت کا پول کھول دیا ہے*۔
*ذرائع کے مطابق، جب سے ڈاکٹر ملیحہ خان نے تحصیل جھنگ کے DDHO کا چارج سنبھالا ہے، اتائی بے لگام ہو چکے ہیں اور موت کا کاروبار بلا خوف و خطر جاری رکھے ہوئے ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ DDHO کا نہ صرف فیلڈ پر کوئی کنٹرول نہیں ہے بلکہ دفتر کا انتظام بھی تباہ حال ہے۔ مبینہ طور پر دفتر کو عرصہ دراز سے تعینات درجہ چہارم کے ملازمین نے اپنی جاگیر بنا رکھا ہے، اور اہم سرکاری معلومات صحافیوں کو فراہم نہیں کی جاتی*۔
*نیلی بتی کا غلط استعمال اور ‘سیمینار کی کہانی*’
*انتظامی لاپرواہی کا عالم یہ ہے کہ عوامی شکایات کے مطابق، DDHO ڈاکٹر ملیحہ خان دن بھر اپنی نجی گاڑی پر نیلی بتی (جو صرف سرکاری افسران کو اجازت سے استعمال کرنی چاہیے) لگا کر “مٹر گشت” میں مصروف رہتی ہیں*۔ *دفتر سے رابطہ کرنے پر سٹاف کا ایک ہی رٹا رٹایا جواب ہوتا ہے: “وہ سیمینار پر ہیں!” یا پھر “فیلڈ میں ہیں!” جبکہ فیلڈ کا نتیجہ شاہ جیونہ کے معصوم بچے کی المناک موت کی صورت میں سامنے آ چکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب فیلڈ میں اتائی معصوموں کی جان لے رہے ہیں، تو یہ افسر کس فیلڈ میں مصروف ہیں؟*
*اعلیٰ حکام سے سخت نوٹس کا مطالبہ*
*عوامی اور سماجی حلقوں میں اس صورتحال پر شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے*۔ *شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، چیف سیکریٹری پنجاب، صوبائی وزیر صحت اور دیگر اعلیٰ حکام سے پُرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سنگین معاملے کا فوری نوٹس لیں*۔
*مطالبہ کیا گیا ہے کہ*:
*ڈاکٹر ملیحہ خان کو فوری طور پر فیلڈ ڈیوٹی سے ہٹا کر کسی ایسے ‘ورکر افسر’ کو چارج دیا جائے جو فیلڈ کے کاموں پر مکمل کنٹرول کر سکے اور اتائیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرے*۔
*شاہ جیونہ واقعے کی اعلیٰ سطح پر انکوائری کروائی جائے اور ذمہ دار اتائی کو قرار واقعی سزا دی جائے*۔
*دفتر کے نظام کی اصلاح کی جائے اور عوام کے ٹیکس پر تنخواہ لینے والے ملازمین کو ان کی ذمہ داریوں کا پابند بنایا جائے.اگر ایسے افسران اپنی ذمہ داریاں ادا نہیں کر سکتے تو انہیں عوام کی صحت جیسے حساس شعبے سے دور کر دینا چاہیے تاکہ مزید معصوموں کی جانیں محفوظ رہ سکیں*۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں