473

*جھنگ(جاوید اعوان سے)ہیلتھ اتھارٹی کا چھاپہ: شاہ جیونہ کا آتائی ڈاکٹر اندرونی مخبری کے باعث فرار، کلینک کا سامان غائب!*

*جھنگ(جاوید اعوان سے)ہیلتھ اتھارٹی کا چھاپہ: شاہ جیونہ کا آتائی ڈاکٹر اندرونی مخبری کے باعث فرار، کلینک کا سامان غائب!*
*ہیلتھ اتھارٹی کی جانب سے ایک معصوم بچے کی ہلاکت کے ذمہ دار مبینہ آتائی ڈاکٹر کے غیر قانونی کلینک پر کی جانے والی کارروائی پر عوامی سطح پر اطمینان کا اظہار کیا گیا ہے، تاہم آتائی ڈاکٹر کے چھاپے سے قبل فرار ہونے اور کلینک سے سامان غائب کرنے کے واقعہ نے ہیلتھ اتھارٹی کی کارکردگی اور اندرونی معاملات پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں*۔ *عوام نے شدید خدشات کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے عناصر کے خلاف گھیرا تنگ کیا جائے جو انسانی جانوں سے کھیل رہے ہیں۔ اندرونی ‘مخبری’ کا فائدہ اٹھا کر آتائی ڈاکٹر فرار۔بتایا جاتا ہے کہ یہ آتائی ڈاکٹر، جو حال ہی میں ایک معصوم بچے کی ہلاکت کا سبب بنا تھا، ایک عرصے سے غیر قانونی طور پر کلینک چلا رہا تھا۔ عوامی شکایات اور بڑھتے دباؤ کے پیش نظر، ہیلتھ اتھارٹی کی ایک خصوصی ٹیم نے اس کے کلینک پر چھاپہ مارنے کا فیصلہ کیا۔ تاہم، ہیلتھ ٹیم کے موقع پر پہنچنے سے چند لمحے قبل ہی آتائی ڈاکٹر کلینک بند کر کے “رفو چکر” ہو گیا اور جاتے جاتے کلینک کا سارا سامان بھی غائب کر دیا*۔
*علاقے کے مکینوں نے ہیلتھ اتھارٹی کی کارروائی کو سراہا مگر اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے*۔ *شہریوں کا کہنا ہے کہ “جب بھی کوئی افسران کی ٹیم ایسے آتائیوں کے خلاف کارروائی کے لیے آتی ہے، انہیں پہلے ہی خبر ہو جاتی ہے اور وہ آرام سے اپنا دھندہ سمیٹ کر فرار ہو جاتے ہیں*۔” *عوامی حلقوں کا پختہ یقین ہے کہ ہیلتھ اتھارٹی کے اندر سے کوئی شخص ان آتائیوں کو مخبری کرتا ہے، جس کی وجہ سے یہ بچ نکلتے ہیں*۔
*عوام نے اس خدشے کا اظہار بھی کیا کہ چند ہفتوں یا مہینوں بعد یہ آتائی ڈاکٹر کسی اور جگہ دوبارہ اپنا غیر قانونی دھندہ شروع کر دے گا*۔ *عوام نے ہیلتھ اتھارٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ ان اندرونی عناصر کی تفتیش کی جائے جو آتائیوں کو معلومات فراہم کرتے ہیں، اور ان کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی کی جائے۔ شہریوں کا مؤقف ہے کہ جب تک اندرونی مخبری کا یہ سدباب نہیں کیا جاتا، آتائی ڈاکٹروں کے خلاف کارروائیاں بے اثر رہیں گی اور انسانی جانوں کا ضیاع جاری رہے گا*۔
*ہیلتھ اتھارٹی کے اعلیٰ حکام کو چاہیے کہ وہ اپنی ٹیموں کے اندر چھپے کالی بھیڑوں کی نشاندہی کریں اور ایسے آتائی ڈاکٹروں کے لیے سخت ترین قانون سازی اور سزا کا نظام وضع کریں تاکہ آئندہ کوئی بھی معصوم انسانی جان ان کے ہاتھوں ضائع نہ ہو*۔
*مزید کارروائی کے لیے ہیلتھ اتھارٹی کا موقف شامل کیا جائے اگر ہیلتھ اتھارٹی کے افسران اس پر اپنا کوئی موقف دینا چاہتے ھوں تو ھمارے اوراق حاضر ہیں*

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں