123

*جھنگ(جاوید اعوان سے) سول ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے نرسز سے ڈے کیئر سہولت واپس لینے پر ڈپٹی کمشنر نوٹس لیں* *نرسز کا شدید احتجاج:* *ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال جھنگ میں ڈے کیئر کی بندش پر نئی انتظامیہ کے خلاف غم و غصہ*

*جھنگ(جاوید اعوان سے) سول ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے نرسز سے ڈے کیئر سہولت واپس لینے پر ڈپٹی کمشنر نوٹس لیں*
*نرسز کا شدید احتجاج:* *ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال جھنگ میں ڈے کیئر کی بندش پر نئی انتظامیہ کے خلاف غم و غصہ*
*ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال (DHQ) جھنگ کی نئی انتظامیہ کے ایک حالیہ فیصلے نے ہسپتال میں تعینات بچوں والی نرسز کو شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق، ہسپتال میں نرسز کی سہولت کے لیے ایک ڈے کیئر سینٹر قائم کیا گیا تھا یہاں وہ اپنی ڈیوٹی کے اوقات میں اپنے چھوٹے بچوں کو محفوظ طریقے سے چھوڑ کر اپنی فرائض منصبی تسلی بخش طریقے سے انجام دے سکتی تھیں۔ یہ سہولت انہیں پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی کے دوران بچوں کی فکر سے آزاد رکھتی تھی، جس سے ان کی کارکردگی میں بہتری آتی تھی*۔
*تاہم، نئی انتظامیہ کے ہسپتال کا چارج سنبھالتے ہی یہ اہم اور بنیادی سہولت نرسز سے واپس لے لی گئی ہے۔ اس اچانک فیصلے نے ہسپتال کی نرسنگ سٹاف میں شدید تشویش اور غم و غصہ کی لہر دوڑا دی ہے*۔
*نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر، ایک نرس نے میڈیا نمائندوں کو بتایا کہ: “اس سہولت کے چھن جانے سے ہم پر ظلم ہوا ہے۔ اس سے پہلے ہم اپنے بچوں کو ڈے کیئر میں چھوڑ کر پوری توجہ اور یکسوئی سے اپنی ڈیوٹی انجام دیتی تھیں*۔ *ڈے کیئر کی بندش کے بعد، اب ہمیں ڈیوٹی کے دوران اپنے بچوں کی دیکھ بھال اور حفاظت کی فکر لاحق رہتی ہے، جس کی وجہ سے ہم کافی پریشان اور ذہنی دباؤ میں رہتی ہیں۔ ہماری ڈیوٹی کا معیار بھی متاثر ہو رہا ہے*۔”
*ڈپٹی کمشنر جھنگ سے فوری نوٹس کا مطالبہ*
*صحت کے شعبے سے وابستہ ان خواتین نے میڈیا کے توسط سے ڈپٹی کمشنر جھنگ علی اکبر بھنڈر سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے کا فوری طور پر نوٹس لیں۔ نرسز نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی ڈے کیئر والی سہولت فی الفور بحال کی جائے تاکہ وہ اپنے بچوں کے مستقبل کی فکر سے آزاد ہو کر ایک بار پھر سکون اور اطمینان کے ساتھ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کر سکیں*۔
*یہ عوامی اور پیشہ ورانہ مطالبہ ہسپتال کی انتظامیہ پر زور دیتا ہے کہ وہ خواتین ملازمین، خصوصاً نرسز کے بنیادی حقوق اور سہولیات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے*

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں