*ہوٹل بہزاد کا خانہ بدوش* یہ نوے کی دہائی کے آخری سالوں کا قصہ ہے ابھی نیو ملینیم ائیر آنے میں ایک دو سال تھے، وہ بی اے کے سالانہ امتحان کے لیے داخلہ فارم جمع کروانے کے لیے گاوں سے صبح صبح نکلا۔ دوپہر تک وہ پنجاب یونیورسٹی اولڈ کیمپس پہنچا تب اورینٹل کالج کے سامنے یونیورسٹی کے اندر ایڈمن بلاک ہوا کرتا تھا چونکہ وہ آخری سال تھے یونیورسٹی والے اپنے سارے دفاتر ایڈمن بلاک وغیرہ نیو کیمپس شفٹ کر رہے تھے اس نے اپنے امتحان کی چالان فیس اندر ہی حبیب بینک میں جمع کروا کر فارم بھی وہیں ایڈمن برانچ کے ایک کمرے میں جمع کروایا بھیڑ زیادہ ہونے کیوجہ سے اس کی باری آتے آتے قریب دن ڈھل چکا تھا وہ ایک پرائیویٹ طالب علم کی حیثیت سے امتحان میں بیٹھ رہا تھا۔ چونکہ وسائل کی کمی کیوجہ سے ایف اے اور بی اے اپنی کوششوں سے پاس کر لیا تھا۔قسمت کی ستم ظریفی تھی کہ تنگی داماں زیست کی کئی ایک وجوہات کی بنا پر وہ کسی کالج میں ریگولر داخلہ نہ لے سکا۔ اس دن بھی داخلہ فارم جمع کروانے کی آخری تاریخ تھی جو بھاگ دوڑ کرکے بہت مشکل سے فارم جمع کروائے۔ جب اس کام سے فارغ ہوا تو شام ہونے کے قریب تھی یونیورسٹی سے باہر نکلا تو دیکھا کہ سامنے اورینٹل کالج کی دیوار کے ساتھ فٹ پاتھ پر کتابیں بیچنے والوں نے کتابوں کو بڑی ترتیب سے رکھا ہوا تھا وہ ایک کونے سے دوسرے کونے تک تانک جھانک کرتا ہوا کتابیں دیکھتا جارہا تھا جن میں دو کتب اس نے خریدیں جن میں ایک تو مستنصر حسین تارڑ صاحب کی خانہ بدوش تھی جو آج بھی اس کی ذاتی لائبریری میں پڑی ہوئی ہے اور دوسری نعیم صدیقی کی محسن انسانیت تھی دونوں کتب کی جب قیمت پوچھی اور جیب کی طرف دیکھا تو مایوس ہوا کیونکہ ایک بیروزگار دیہاتی سٹوڈنٹ کے لیے بہت مہنگی محسوس ہورہی تھیں کیونکہ سارے پیسے داخلہ فیس کی صورت یونیورسٹی میں جمع کروا چکا تھا تھوڑے سے پیسے کھانے پینے کے لیے بچا رکھے تھے خیر اس نے باو تاؤ کرکے کتابیں خرید لیں، اس زمانے میں لاہور انا جانا کم کم ہوتا لیکن جب بھی وہ آتا وسائل کی تنگی کے باوجود ایک آدھ کتب لے لیا کرتا تھا۔
اس مال روڈ کی انارکلی کے فٹ پاتھوں پر لگی پرانی نایاب کتابوں میں خدا جانے کیا کشش ہوا کرتی تھی جو اسے اپنی طرف کھینچتی تھی۔ سیالکوٹ اپنے گاؤں سے صبح سویرے بھاگم بھاگ نہر پر پہنچتا جہاں سے پورے سات بجے بس نکلتی اور قریب گیارہ بجے تک لاہور پہنچ جاتی تھی۔ انارکلی بازار پہنچنے کی عجیب ہی تڑپ ہوا کرتی تھی جو یہاں سے کتابیں پسند آتیں وہ لیتا اور کبھی بھاگتے دوڑتے اردو بازار سے ہوتے ہوئے سرکلر روڈ پر زندہ شیروں والی دکان کے پاس ہی سویرا ادبی میگزین والوں کی بک شاپ سے جو کتاب پسند آتی خرید لیتا وہاں سامنے ہی ایک پرانا سینما ہوتا تھا جس کے سامنے سے ویگن پکڑتا اور لاری اڈا پہنچنے کی کوشش کرتا کیونکہ قریب اڑھائی بجے اس گاؤں کی بس واپسی نکلنے کو تیار ہوتی تھی اس نہر والے سٹاپ پر پہنچتے پہنچتے اندھیرا پھیل چکا ہوتا سٹاپ سے دو اڑھائی کلومیٹر پیدل گھر پہنچتے پہنچتے عشاء کی نماز کا وقت ہو جاتا تو یہ تھی اس کی کتابوں سے محبت اور عشق کی افسانوی داستان جو اب قصہ پارینہ ہوچکی۔ بابائے سیاحت مستنصر حسین تارڑ کو پڑھنے کا آغاز یوں ہوا اور جوں جوں ان کو پڑھتا گیا ان کے قلم کے سحر میں محسور ہوتا چلا گیا ان کے سفر ناموں، “خانہ بدوش “اندلس میں اجنبی “پیار کا پہلا شہر” اس کی اسی کچی عمر کی پہلی پہلی محبتوں کے قصے ہیں۔ انارکلی چوک مال روڈ کے ان فٹ پاتھوں پر پڑی سجی کتابوں کے میلے کے کئی فائدے تھے ایک تو اس کی پکنک اور شاپنگ ہو جاتی دوسرا یہاں سے بہت اچھی اچھی نایاب اور کم قیمت پر کتابیں مل جاتیں، تیسرا یہ کہ سامنے تاریخی مقام پاک ٹی ہاوس پر بیٹھنے کی خواہش ہوری کرنے کے ساتھ ساتھ اچھی اور سستی چائے بھی مل جاتی تھی اور آخری یہ کہ کئی بار یہاں بڑی بڑی ادبی شخصیات سے بھی ملاقات کا شرف حاصل ہوجاتا، یہیں پر اس کی ملاقات معروف شاعر جناب ناصر زیدی صاحب سے ہوئی گورے چٹے سرخ سفید رنگت، بڑے بڑے لمبے بال کشادہ پیشانی سفید رنگ کی شلوار قمیض پہنے ہوئے، بہت صحت مند جواں خوبصورت آدمی تھے اللہ پاک ان کو غریق رحمت فرمائے ، کتابوں کے ایک ڈھیر سے نیرنگ خیال، مخزن، سویرا، اور نقوش کے پرانے پرچے تلاش کرکے نکال کر الگ رکھ رہے تھے، وہ بھی پاس کھڑا ہو گیا سلام کیا اور ڈرتے ڈرتے پوچھا ‘سر آپ ناصر زیدی صاحب ہیں’ ناں وہ بولے یس، اس کے خود کا تعارف پوچھنے پر اس نے بتایا کہ سٹوڈنٹ ہوں اور کبھی کبھی یہاں سے کتابیں لینے آجاتا ہوں، وہ بہت خوش ہوئے،اتنے میں کتابوں والے لڑکے نے چائے منگوا لی زیدی صاحب کے توسط سے اس کے لیے بھی چائے آگئی چائے پیتے ہوئے پوچھنے لگے کہ وہ ان کو کیسے جانتا ہے، اس نے بتایا کہ کسی ادبی رسالے میں آپ کی غزل کے ساتھ آپ کی تصویر لگی دیکھی تھی تب سے آپ کے ساتھ اک غائبانہ تعارف تھا یہ سن کر بہت خوش ہوئے یہ اس کی ان سے مختصر سی ملاقات تھی، بات کہاں سے چلی کدھر نکل گئی، یہ جس کی کہانی اوپر صیغہ واحد متکلم غائب میں بیان ہوئی ہے یہ کسی اور کی کہانی نہیں ہے یہ میرا ہی افسانہ تھا میرا جناب مستنصر حسین تارڑ سے ایک یک گونا لگاو اور غائبانہ تعارف ان کی اوپر بیان کردہ کتابوں سفر ناموں سے شروع ہوا خانہ بدوش ایسی میرے دل میں بیٹھ گئی کہ میں خود بھی خانہ بدوش ہوگیا کبھی اس نگر کبھی اس نگر، جب پہلی بار پڑھنی شروع کی تو مجھے آج بھی یاد ہے جب تک ساری کتاب مکمل نہیں ہوئی پڑھنا بند نہیں کیا، کتاب کے سحر نے مجھے ذہنی طور پر جکڑے رکھا، میں بھی نکلے تیری تلاش میں خانہ بدوش بنا ہوا کتابی خیالوں میں ساتھ ساتھ سفر کرتا رہا ابھی قصہ خوانی بازار پشاور شہر ہوں پھر لنڈی کوتل اور طورخم بارڈر پر پھر کابل قندھار اور ہرات کے ہوٹل بہزاد میں بیٹھا ہوں رات کا سماں ہے، جہاں کارواں سرائے محفلیں سجی ہوئی ہیں روایتی رقص چل رہے ہیں، سجی تناول کی جارہی ہے قہوے کی چسکیاں لے رہا ہوں ملکوں ملکوں کا سفر جاری ہے اور پھر پیار کا پہلا شہر شروع ہو جاتا ہے پاسکل کی معصومیت اور خوبصورتی اپنی اور کھینچ لے جاتی ہے، پاسکل کے سحر سے نکلتا ہوں تو اندلس میں اجنبی والے غرناطہ، اشبیلیہ اور قرطبہ کے شہر اپنی طرف لے جاتے ہیں، وہاں سے لوٹتا ہوں، تو دیو سائی، فیری میڈو، منی مرگ، نانگا پربت کی قاتل چوٹیوں سے اتر کے آتا ہوں تو سفر شمال کے ان کی برفیلی بلندیاں سنولیک کی چترال داستان لیے کیلاش اور ہنزہ وادیوں کے ہاتو بلا لے جاتے ہیں۔ قربت مرگ کی محبت میں جولاہا اور ڈاکیا کے دام فریب میں آکر پاروشنی اور جپسی سے ملنے کو پکھیرو اک بہاو میں اڑتا جاتا ہے کہ خس وخشاک زمانے اسے ہزاروں راستے دیس پردیس کے قلعہ جنگی کی راکھ میں لے جاتے ہیں۔ مدت سے منہ ول کعبہ کئیے ایک سفر میں ہوں لگتا ہے یہ بابا جی کسی روز مجھے پاگل کردیں گے ستر سے زائد کتابیں تو ان کی میں پڑھ چکا ہوں پھر کئی سالوں بعد میں خود بھی ان کے پیچھے طورخم بارڈر تک تو گیا آگے راستے بند تھے دل شکستہ واپس آگیا پھر ایک دن ان سے ملنے لاہور ماڈل ٹاون تکیہ تارڑ پہنچ گیا ان سے عرض کی کہ آپ کی محبت مجھے کھینچے کھینچے لیے پھیرتی ہے، بڑی محبت اور شفقت سے ملے، اپنی کتاب اپنے آٹو گراف سے مجھے دی اچھی مزیدار کافی پلائی شاندار سا ناشتہ کروایا ان کے ساتھ یادگاری تصویریں بھی بنائیں ان کی مدلل گفتگو ادب فلسفہ منطق تاریخ زندگی کے دیگر امور اور سیرو سیاحت کی دنیا کے دلفریب قصے سنتے رہے مجھے بار بار پوچھتے رہے کہ کوئی سوال ہے تو پوچھو۔ ان سے مل کے دل ناشاد کو شاد کیا اور چلا آیا۔ سفر ہے لازم مسافر نواز بھتیرے، سفر ہی تو زندگی ہے رک گئے تو سب کچھ ختم ہو جائے گا۔
شاہد محمود سیالکوٹ
11/12/2025
164










