*جھنگ(جاوید اعوان سے)پرنسپل گرلز صدر سکول نے ڈی ای او سیکنڈری کے یاد دہانی لیٹر کو بھی ردی کی ٹوکری کی نذر کر دیا اور فرمان اعلیٰ شان ھے کہ میں خود 20 سکیل کی افسر ھوں مجھے کسی کی کیا پرواہ ھے*!
*گورنمنٹ گرلز ہائی سکول جھنگ صدر کی پرنسپل نے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (ڈی ای او) ایجوکیشن سیکنڈری جھنگ کے یاد دہانی لیٹر کو مبینہ طور پر نظر انداز کر دیا۔ ذرائع کے مطابق، ڈی ای او کے پہلے حکم کو تقریباً دو ماہ گزر جانے کے باوجود مطلوبہ رپورٹ جمع نہیں کرائی گئی، جس پر ڈی ای او ایجوکیشن سیکنڈری نے دوبارہ یاد دہانی لیٹر لکھا جس پر عوامی اور سماجی حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے*۔
*تفصیلات کے مطابق، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر سیکنڈری جھنگ نے مورخہ 15 اکتوبر 2025 کو پرنسپل گورنمنٹ گرلز ہائی سکول جھنگ صدر کو ایک تحریری لیٹر جاری کیا تھا* *اس لیٹر میں پرنسپل کو سختی سے ہدایت کی گئی تھی کہ وہ دو دن کے اندر ہاسٹل سے متعلق مندرجہ ذیل تفصیلی معلومات فراہم کریں: ہاسٹل میں رہائش پذیر طالبات اور ورکرز کی کل تعداد اور وہ کب سے مقیم ہیں۔ ان سے ماہانہ کتنا کرایہ وصول کیا جاتا ہے؟*
*یہ کرایہ سرکاری خزانے کے کس اکاؤنٹ میں جمع ہوتا ہے اور اس کا ثبوت کیا ہے؟*
*چھٹی کلاس سے دسویں کلاس تک کی کتنی طالبات ہاسٹل میں رہائش پذیر ہیں؟ اگر ہاسٹل میں کوئی طالبہ مقیم نہیں ہے تو آخری بچی کے رہائش پذیر رہنے کی تاریخ رپورٹ کی جائے۔ڈی ای او سیکنڈری جھنگ نے اپنے لیٹر میں یہ واضح تنبیہ بھی کی تھی کہ اگر دو دن میں رپورٹ جمع نہ کرائی گئی تو معاملہ ہائر آفس کو سخت تادیبی کارروائی کے لیے لکھ دیا جائے گا۔تاہم، حیران کن امر یہ ہے کہ دو دن کی ڈیڈلائن کیا، تقریباً ڈیڑھ ماہ گزر جانے کے باوجود ڈی ای او ایجوکیشن سیکنڈری کے دفتر میں اس رپورٹ کا کوئی نام و نشان نہیں ہے*۔ *ایک اعلیٰ افسر کے واضح احکامات کو اس طرح نظر انداز کرنا حکومتی انتظامی امور اور نظم و ضبط پر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے*۔
*عوامی اور سماجی حلقوں نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، چیف سیکریٹری پنجاب، صوبائی وزیر تعلیم پنجاب، صوبائی سیکرٹری تعلیم پنجاب، کمشنر فیصل آباد ڈویژن فیصل آباد، ڈپٹی کمشنر جھنگ علی اکبر بھنڈر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ایجوکیشن اتھارٹی جھنگ سے فوری توجہ کا مطالبہ کیا ہے تاکہ حکم عدولی کے اس معاملے کی انکوائری کی جا سکے اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جا سکے*۔
109










