71

*ہمارے محسن* *غلام جیلانی خان* *ضیاءالحق کے دور میں صوبہ پنجاب کے گورنر تھے – وہ اس دور میں سیاہ وسفید کے مالک تھے- اگرچہ ان کی شہرت ایک سخت گیر گورنر کی حیثیت سے تھی لیکن وہ اپنے دوست احباب کا بڑا خیال رکھتے تھے*

*ہمارے محسن*
*غلام جیلانی خان* *ضیاءالحق کے دور میں صوبہ پنجاب کے گورنر تھے – وہ اس دور میں سیاہ وسفید کے مالک تھے- اگرچہ ان کی شہرت ایک سخت گیر گورنر کی حیثیت سے تھی لیکن وہ اپنے دوست احباب کا بڑا خیال رکھتے تھے*
ان کے دور میں پنجاب اسمبلی کی بلڈنگ میں بلدیاتی اداروں کے چیئرمینوں پر مشتمل صوبائی کونسل کے اجلاس ہوا کرتے تھے جس میں وہ اکثر وبیشتر خود تشریف لایا کرتے تھے – میرے بڑے بھائی جو کہ اسلام آباد کے ایک انگریزی اخبار “دی مسلم ” کے لاھور میں رپورٹر ہوا کرتے تھے وہ ہر اجلاس کی کوریج کیا کرتے تھے – بطور اخبار نویس میرے بھائی کی گورنر غلام جیلانی خان سے دوستی ھو گئی- گورنر پنجاب بھی میرے بھائی کو بہت عزت دیتے تھے اور میرے بھائی بھی ان کا دل وجان سے احترام کیا کرتے تھے 1979 میں میری بڑی ہمشیرہ نے گورنمنٹ گرلز ہائی سکول چک نمبر 254 گ ب سونڈھ سے میڑک کا امتحان نمایاں حیثیت سے پاس کیا تو میرے والد جو خود ان پڑھ تھے مگر ان کے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ میں نے اپنی بیٹی کو ٹیچر بھرتی کرانا ہے – 1982 کی بات ہے کہ میرے بڑے بھائی جو کہ لاھور میں سکونت اختیار کئے ہوئے تھے عید کی خوشیاں منانے کے لئے گاؤں آئے تو میرے والد نے کہا کہ بیٹا تیری بہن میڑک پاس کر کے گھر بیٹھی ہوئی ہے میری یہ خواہش ہے کہ یہ اپنے علم کا فائدہ دوسروں تک پہنچائے اس لئے اپنا اثرورسوخ استعمال کر کے اسے کہیں سکول ٹیچر کی نوکری دلوادو- عید کے بعد میرے بھائی جب لاھور پہنچے تو پنجاب اسمبلی میں صوبائی کونسل کا اجلاس شروع ہو گیا – ایک دن اجلاس سے فارغ ہو کر گورنر پنجاب جب گورنر ہاؤس جانے کے لئے پنجاب اسمبلی کی سیڑھیاں اتر رہے تھے تو میرے بھائی کو دیکھ کر رک گئے – ان سے مصافحہ کیا اور خیر خیریت دریافت کی – گورنر پنجاب کا موڈ خوشگوار دیکھ کر میرے بھائی نے ان سے کہا
سر ہم تینوں بھائیوں کی ایک ہی بہن ہے اور میڑک کا امتحان پاس کر کے پچھلے تین سالوں سے گھر پر ہی بیٹھی ہوئی ہے اگر آپ شفقت فرماکر ان کے بطور سکول ٹیچر آرڈر جاری فرما دیں تو یہ آپ کا مجھ پر اور میری فیملی پر احسان ہو گا – گورنر پنجاب نے یہ بات سنی اور ہنستے ہنستے اپنی گاڑی میں جا بیٹھے – میرے بھائی ان کے اس رویہ سے مایوس تو ضرور ہوئے لیکن ناامید نہ ہوئے
کہتے ہیں کہ خدا جب مہربان ہوتا ہے تو وہ خود بخود بندوں کے دل میں مخلص دوستوں کے لئے رحم ڈال دیتا ہے
1983 میں ایک بار پھر صوبائی کونسل کا اجلاس طلب کیا گیا – گورنر پنجاب اجلاس سے فارغ ہو کرمختلف صوبائی سیکرٹریوں کے ہمراہ اسمبلی کی راہداریوں سے گزر رہے تھے کہ ان کی نظر اچانک میرے بھائی پر پڑ گئی انھیں آواز دے کر اپنے پاس بلایا -خیر خیریت دریافت کرنے کے بعد میرے بھائی کو ان کے نام سے مخاطب کر کے پوچھا کہ آپ کی بہن کے آرڈر کر دئیے تھے یا نہیں جس پر میرے بھائی گویا ہوئے کہ سر ان کے آرڈر نہیں کئے تھے جناب نے – خدا کی قدرت دیکھیے کہ ایک سال بعد گورنر پنجاب کو ناجانے کیسے میری بہن کے آرڈر کا خیال آگیا انہوں نے اپنے قریب کھڑے اس وقت کے سیکرٹری تعلیم احمد صادق جو بعد میں وزیر اعظم پاکستان محترمہ بے نظیر بھٹو کے پرنسپل سیکرٹری بھی رہے کو اپنے پاس بلایا اور میرے بھائی کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ ابھی اور اسی وقت ان کی بہن کے بطور ٹیچر آرڈر جاری کر دو – سیکرٹری تعلیم میرے بھائی کو لے کر پنجاب اسمبلی اپنے کمرہ میں لے کر چلے گئے اور ان کو میری بہن کے بطور ان ٹرینڈ ٹیچر آرڈر تھما دئیے- اتفاق سے ان دنوں میں بھی اپنے بھائی کے پاس لاھور گیا ھوا تھا – گرمیوں کے دن تھے میرے بھائی دوپہر کے بعد جب گھر پہنچے تو خوشی ان کے چہرے سے عیاں تھی – گاڑی سے اترتے ہی مجھے آواز دی کہ بچے اپنا سامان سمیٹ ابھی اور اسی وقت گاؤں کے لئے روانہ ہو جا کیونکہ گورنر صاحب نے چھوٹی کے بطور ٹیچر آرڈر کر دئیے ہیں – آرڈر مجھے دیتے ہوئے کہا کہ بس تھوڑی دیر میں ٹوبہ ٹیک سنگھ کے لئے روانہ ہو جا اور کل صبح یہ آرڈر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کے دفتر کے کر چلے جانا اور گھر والوں کو بھی خوشخبری سنا دینا – اس وقت نہ تو ہمارے گاؤں میں ٹیلی فون کی سہولت ہوتی تھی نہ ہی ذرائع آمد و رفت کی
اچھی سہولیات ہوتی تھیں – میں خوشی خوشی 6/7 گھنٹے کی مسافت طے کرکے گاؤں اپنے گھر پہنچا تو رات کے سائے گہرے ہو چلے تھے – رات گئے گھر کے دروازے پر دستک دی تو میری والدہ کی آواز کانوں میں پڑی ” کون بھئی ”
جب میں نے اپنا نام بتایا تو میری والدہ نے فوراً دروازہ کھول دیا – دروازہ کھلتے ہیں میں خوشی کے مارے اپنی والدہ سے لپٹ گیا اور کہا امی جی گورنر پنجاب نے باجی کے بطور سکول ٹیچر آرڈر جاری کر دئیے ہیں اور آرڈر میرے بیگ میں ہیں – یہ سنتے ہی میری والدہ نے جی بھر کر میری بلائیں لیں اور گھر کی دہلیز پر کھڑے کھڑے اپنے بیٹے اور گورنر پنجاب کو ڈھیروں دعائیں دیں – گھر میں قدم رکھتے ہی جب میں نے اپنے والد محترم ؛ دوسرے بڑے بھائی اور ہمشیرہ کو یہ خوشخبری سنائی تو سب کے چہرے خوشی سے کھل اٹھے – رات جاگتے جاگتے اور باتیں کرتے کرتے گزر گئی – صبح نہا دھو کر میں وہ آرڈر لے کر اس وقت کے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر ٹوبہ ٹیک سنگھ میاں محمد افضل کے پاس لے کر ان کے دفتر جا پہنچا – دفتر کے باہر کھڑے چپڑاسی کو اپنے بڑے بھائی کا وزیٹنگ کارڈ دیا اور کہا کہ صاحب سے کہو ان کے چھوٹے بھائی آپ سے ملاقات
کے خواہش مند ہیں – چپٹراسی نے وہ کارڈ ڈی ای او تک پہنچایا تو دوسرے ہی لمحے مجھے اندر بلالیا گیا -کمرہ کے اندر داخل ہوا تو وہ ایک خاتون کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف تھے – رسمی دعا سلام کے بعد میں نے آرڈر ان کے ہاتھ میں تھما دئیے – انہوں نے آرڈر کو دو مرتبہ بغور پڑھا اور اپنے ساتھ بیٹھی خاتون کو آرڈر دیتے ہوئے کہا کہ
ہماری حکومت بھی عجیب ہے ایک جانب ان ٹرینڈ ٹیچرز کو ملازمت سے نکال رہی ہے اور دوسری جانب یہ آرڈر کر رہے ہے- خاتون جو کہ شکل وصورت اور باتوں سے بڑی چالاک اور شاطر معلوم ہو رہی تھے موصوفہ کبھی آرڈر کی طرف دیکھتی اور کبھی میرا سر سے پاؤں تک جائزہ لینے لگ جاتی – خیر انہوں نے وہ آرڈر رکھ لئے اور مجھے کہا کہ دو تین دن بعد آکر پتا کر لینا – میں نے دفتر سے نکلتے ہی اپنے ایک دوست کے گھر سے بذریعہ ٹیلی فون ساری صورت حال سے اپنے لاھور میں مقیم بھائی کو بتایا کہ انہوں نے آرڈر پڑھ کر رکھ لئے ہیں اور مجھے کہا ہے کہ تین دن بعد آنا
چنانچہ میں تین دن بعد جب دوبارہ ڈی ای او کے دفتر پہنچا تو انہوں نے ٹال مٹول سے کام لینا شروع کر دیا – میں نے دفتر کے ایک واقف کار کلرک سے پوچھا کہ آپ کے صاحب آرڈر کیوں نہیں کر رہے – کلرک نے بتایا کہ اس دن جو خاتون صاحب کے پاس بیٹھی ہوئی تھیں وہ ہماری اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر مس شباب ہیں انہوں نے آرڈر پڑھ کر صاحب سے کہا تھا کہ اچھی طرح تسلی کر لیں کہیں یہ آرڈر دو نمبر اور جعلی نہ ہوں بہتر ہے کہ آپ دفتر کے چکر لگانے کی بجائے سیکرٹری تعلیم کے دفتر سے صاحب کو فون کروادیں – چنانچہ ایسا ہی کیا – احمد صادق سیکرٹری تعلیم پنجاب کے پی اے نے جب ڈی ای او سے فون پر پوچھا کہ آپ نے ابھی تک آرڈر کیوں نہیں کئےکل
جاوید اقبال ناصر آپ کے پاس آئے گا وہ جہاں بھی کہے اس کی ہمشیرہ کے آرڈر کر کے مجھے فون پر اطلاع بھی دینا- فون کے دوسرے روز جب میں ڈی ای او کے دفتر پہنچا تو وہاں کا ماحول ہی عجیب تھا – صاحب سے لے کر نیچے چپڑاسی تک کو اپنی آمد کا منتظر پایا – بغیر وزیٹنگ کارڈ کے فوری مجھے ایجوکیشن آفیسر سے ملوایا گیا – موصوف انتہائی گرم جوشی سے مجھے ملے – بڑی پر تکلف چائے پلائی اور باتوں باتوں میں میرے بڑے بھائی کے بارے جانکاری لی- بطور ٹیچر آرڈر جاری کرنے سے پہلے مجھ سے پوچھا کہ برخوردار کہاں ٹیچر لگوانا ہے اپنی بہن کو میں نے
عرض کیا کہ سر ہمارے قریبی چک نمبر 257 گ ب میں اگر تعیناتی کر دیں تو آپ کی مہربانی ہوگی – میاں محمد افضل ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نے آرڈر اپنے چپڑاسی کو تھماتے ہوئے کہا کہ فلاں کلرک کے پاس چلے جاؤ اور ابھی ان کی بہن کے آرڈر ٹائپ کرواکر لاؤ
چپڑاسی جب تعیناتی کے آرڈر ٹائپ کروانے چلا گیا تو افضل صاحب نے مجھ سے پوچھا کہ برخوردار آپ نے کہاں تک تعلیم مکمل کی ہے جس پر میں نے کہا کہ سر پچھلے سال میڑک کا امتحان پاس کیا ہے سائنس مضامین کے ساتھ – یہ بات مکمل ہوتے ہی صاحب کہنے لگے کہ سائیکل چلا لیتے ہو جس پر میں نے اثبات میں سر ہلایا تو کہنے لگے کہ یہ گاؤں آپ کی رہائش سے کتنے فاصلے پر ہے تو میں نے کہا کہ سر دو تین میل کے فاصلے پر – پوچھا سائیکل وغیرہ چلا لیتے ہو میں نے کہا کہ سر – پھر گویا ہوئے اپنی بہن کو سائیکل پر بٹھا کر چلا لو گے – میں نے کہا کہ جی سر- جس پر میاں افضل نے کہا کہ کل اپنی اسناد بھی لے آؤ تمہارے بھی چک
نمبر 257 گ ب کے سکول میں بطور ٹیچر آرڈر کر دوں گا-
جس پر میں نے ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ سر میں مزید پڑھنا چاہتا ہوں اس لئے آپ کی محبت اور شفقت کا شکریہ
یوں میں سکول ٹیچر بھرتی ہوتے ہوتے رہ گیا
دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ لیفٹیننٹ جنرل ( ر) غلام جیلانی خان مرحوم سابق گورنر پنجاب اور میرے بڑے بھائی کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں