*ہاں میں بہت بڑا بلیک میلر ھوں**پیارے پڑھنے والو آپ جہاں جہاں سے بھی مجھے پڑھ رہے ہیں میری دعا ہے کہ اللہ پاک آپ سب پر ہمیشہ ہمیشہ اپنی رحمتوں کے سائے دراز رکھے آمین*
آج سب کو کچھ اپنے بارے بتانا چاہوں گا میں نے 1963 میں ایک محنت کش شخص محمد شفیع کے گھر آنکھ کھولی – مجھ سے بڑے میرے دو بھائی اور ایک بہن تھی
اور میں گھر میں سب سے چھوٹا تھا – چھوٹا ہونے کے ناطے گھر بھر کا لاڈلہ بھی تھا – میرے گاؤں میں بچوں کا ایک پرائمری سکول تھا جس میں مجھے پڑھائی کی غرض سے داخل کروادیا گیا – ابھی میں تییسری کلاس کا طالب علم تھا کہ مجھے گلی کی عورتوں نے اپنے خط پڑھانے اور ان کے جوابات لکھنے کے لئے گھر میں بلانا شروع کر دیا – میں اپنی گلی میں آمدہ خطوط کو نہ صرف گھر والوں کو پڑھ کر سناتا بلکہ اہل خانہ کی جانب سے پنجابی زبان میں ادا کردہ باتوں کو اردو کے قالب میں ڈھال کر جواب بھی لکھتا – جس سے میری اردو بول چال اور لکھائی بہت اچھی ہو گئی
تیسری جماعت کے آخر پر بھٹو دور حکومت میں ہمارے سکول کو مڈل کا درجہ دے دیا گیا- 1979 میں جب میں ساتویں کلاس کے سالانہ پیپردے رہا تھا تو میرے ایک استاد نے میرے نواحی گاؤں کے امیر گھرانے کے دو لڑکوں کو روزانہ کی بنیاد پر قبل از وقت امتحانی پرچہ جات دینا شروع کر دئیے – وہ لڑکے روزانہ پرچہ شروع ہونے سے قبل
مجھ سمیت کلاس کے کئی لڑکوں کو یہ بتایا کرتے تھے کہ آج پرچے میں یہ یہ سوالات ضرور آئیں گے – پرچے میں آنے والے سوالات کے بارے پیشگی اطلاع دے کر وہ ہم پر اپنا رعب جمانے کی کوشش کیا کرتے تھے – تین چار روز تو میں ان کی اس حرکت کو دیکھتا رہا چوتھے دن جب مجھے یقین ہو گیا کہ ان کے ہاتھ سالانہ پرچے آگئے ہیں تو میں نے اپنے بڑے بھائی جو اس وقت کے ایک مشہور اخبار “سیاست ” لاھور میں چیف رپورٹر تھے کو ایک برنگ خط کے ذریعے ساری صورت حال سے خبر کی شکل میں آگاہ کر دیا – برنگ خط ملتے ہی میرے بھائی نے اس کی نوک پلک سنوار کر اسے خبر کا رنگ دے ڈالا – خبر کی اشاعت پر محکمہ تعلیم کے حلقوں میں تھرتھلی مچ گئی – جس پر اس وقت کے ایجوکیشن افسران نے سکول پہنچ کر انکوائری کی تو معلوم ہوا کہ ہمارے ایک ٹیچر نے مذکورہ رئیس زادوں کو قبل از وقت سالانہ پیپر آؤٹ کر دئیے ہیں – جس پر محکمہ تعلیم کے افسران نے ہمارا سارا امتحان کینسل کر ڈالا اور ہیڈ ماسٹر صاحب کو حکم دیا کہ ساتویں کلاس کے طلباء کے نئے سرے سے امتحان لیا جائے – جب دوبارہ امتحان لیا گیا تو دونوں رئیس زادے سالانہ امتحان کے نتیجہ میں فیل ہو گئے جس پر انہوں نے دل برداشتہ ہو کر پڑھائی کو ہی خیرآباد کہہ دیا جس کا آج تک مجھے افسوس ہے – میں کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ کاش میں ایسا نہ کرتا تو شاید وہ اپنی تعلیم جاری رکھ پاتے-خیر یہ ایک طرح سے صحافت میں میری پہلی دھماکے دار انٹری تھی -خبر کی اشاعت کے اس بھرپور ایکشن پر میرے دل میں خیال آیا کہ کیوں نہ
اس شعبہ کی طرف ہی جایا جائے – پھر میں نے پڑھائی کے ساتھ ساتھ صحافت کو بھی جاری رکھا روزنامہ ” سیاست “لاھور صحافت میں میری پہلی سیڑھی تھی – اثر چوہان اخبار کے ایڈیٹر تھے میرے شوق کو دیکھتے ہوئے انہوں نے بھی میری بہت حوصلہ افزائی کی یوں میڑک کے بعد میں ایک صحافی کی حیثیت سے بھی علاقہ بھر میں مشہور ہو چکا تھا – صحافت کا مجھے اس قدر شوق تھا کہ جب میں 80 کی دہائی میں گورنمنٹ میونسپل ڈگری کالج ٹوبہ ٹیک سنگھ پہنچا تو میں اس وقت کے نامور صحافی مصطفیٰ صادق کی زیر ادارت شائع ہونے والے روزنامہ ” وفاق ” لاھور کا باقاعدہ نامہ نگار تھا – میں صبح سویرے بس سے ” وفاق ” کا بنڈل اتارتا اور کھانا کھانے سے پہلے پہلے اخبار تقسیم کر کے پھر کھانا کھاتا اور بعد ازاں کالج کی راہ لیتا – میونسپل ڈگری کالج ٹوبہ ٹیک سنگھ میں دو سال گزارنے کے بعد میں نے انجینئرنگ کی تعلیم کے لئے سرگودہا شہر کا رخ کیا تو وہاں مجھے کئی اخبارات نے اپنا سٹوڈنٹس رپورٹر مقرر کر دیا جب کہ اس وقت کے مشہور زمانہ روزنامہ ” امروز ” لاھور کے نمائیندہ خصوصی مقیم سرگودہا سید مشتاق جعفری نے تو باقاعدہ اپنا معاون رپورٹر رکھ لیا – کالج ٹائم کے بعد میں ” امروز ” کے لئے خبریں لکھا کرتا تھا
پڑھائی سے فارغ ہونے کے بعد میں نے تقریباََ تین سال تک
محکمہ ہائی وے ٹیک سنگھ میں بطور ڈبلیو سی سب انجنیئر ملازمت بھی کی لیکن جلد ہی میرا دل سرکاری ملازمت سے اچاٹ ہو گیا – واضح کرتا چلوں کہ میں ملازمت کے دوران بھی اپنے نام کو خفیہ رکھا کر مختلف اخبارات کے لئے رپورٹنگ کرتا رہا – سرکاری ملازمت کے بعد جب روزنامہ ” پاکستان ” لاھور نے اپنی باقاعدہ اشاعت کا آغاز کیا تو میں بھی ” پاکستان ” کا نامہ نگار بن گیا – چند سال ” پاکستان ” میں کام کیا اس کے بعد مجھے پاکستان کے کثیر الاشاعت روزنامہ ” جنگ ” لاہور نے اپنا نامہ نگار منتخب کر لیا پھر میں نے کئی برس ” جنگ ” کے لئے بطور نامہ نگار کام کیا – “جنگ ” میں کام کے دوران میں نے جب معاشرتی ناسوروں کی خبریں لینا شروع کیں تو انہوں نے جواب میں جب کچھ نہ بن پڑا تو مجھے بلیک میلر کہنا شروع کر دیا – پہلے پہل تو یہ لفظ مجھے بڑا عجیب سا لگا
لیکن معاشرتی ناسوروں کی چیخیں سن کر میں نے اس لفظ سے دوستی کر لی – ایک دفعہ کچھ یوں ہوا کہ میں نے ایک
کرپٹ سرکاری ملازم کی کرپشن پر قلم اٹھائی تو اس نے مجھے بلیک میلر کہنا شروع کر دیا حالانکہ میں اس سے زندگی میں کبھی ملا بھی نہ تھا – ایک دن میرا اور اس کا اچانک آمنا سامنا ہو گیا تو میں نے اس کی کلائی پکڑ کر پوچھا کہ حضور میں آپ کے نزدیک ایک بہت بڑا بلیک میلر ہوں – آج مجھے بلیک میلر لفظ کی وضاحت تو کر دیں کہ بلیک میلر کس کو کہتے ہیں – جس پر وہ بونگیاں مارنے لگا
اور مجھے بلیک میلر کا مطلب بتانے سے قاصر رہا -میرا یہ ذاتی مشاہدہ ہے کہ لوگوں کی اکثریت کو بلیک میلر کے معنی تک معلوم نہیں لیکن ہر اس صحافی پر فوراً بلیک میلر کہنا شروع کر دیتے ہیں جو بھی حق سچ کا علم بلند کریں- میں اپنے صحافی بھائیوں سے گزارش کروں گاکہ وہ بلیک میلر کا لفظ سن کر جوش میں نہ آیا کریں اور نہ ہی غصہ کیا کریں بلکہ اس لفظ کو اپنے لئے اعزاز سمجھیں کیونکہ معاشرتی ناسوروں کا یہ شیوہ ہے کہ جب انھیں کلمہ حق کہنے والے صحافی کے خلاف کہنے کو کچھ نہیں ملتا تو اس پر بلیک میلر کا لیبل چسپاں کر دیتے ہیں – میں نے دوران صحافت ( 1979 تا 2020) ہر اس معاشرتی ناسور کی خبر لی جس کو اپنی طاقت یا وردی کا غرور ہوتا تھا اور الحمدللہ ہر موڑ پر میرے پروردگار نے نہ صرف میری مدد کی بلکہ ان معاشرتی ناسوروں کے غلط عزائم کو بھی خاک میں ملایا – میں نے تقریباََ 40 سال بھر پور صحافت کی لیکن خود کو ہر طرح کی کرپشن سے بچا کر رکھا آج میں چیلنج دے رہا ہوں کہ میں نے اپنی 40 سالہ صحافتی زندگی میں اگر کسی شخص سے خبر کے نام پر یا اخبار کے نام پر یا ڈرا دھمکا کر کوئی پیسہ لیا ہو تو میں اپنے گھر پر موجود ھوں ثبوت کے کر سامنے آئے میں اسے دگنی رقم ادا کروں گا – الحمدللہ مجھے یہ فخر ہے کہ میں نے 40 سال تک صاف ستھری صحافت کی اور ہر جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق بلند کیا – ایک رپورٹر ہونے کے ناطے میرا روزانہ محکمہ پولیس کے افسروں اور اہلکاروں سے رابطہ رہتا تھا
اور میرے رب نے مجھے ہمت دے رکھی تھی کہ میں پولیس والوں کی کچھار میں چھپی ہوئی خبریں بھی نکال لایا کرتا تھا – شروع شروع میں مجھے بدعنوان پولیس والوں نے روپے پیسے کا لالچ دینے کی کوشش کی – جب میں ان کے جال میں نہ آیا تو انہوں نے مجھے نشہ پر لگانے کی سرتوڑ کوشش کی – واضح رہے کہ میں نے “جنگ ” اخبار کی رپورٹنگ کے دوران تھانہ ہی میں ساری نشہ اور چیزیں دیکھی تھیں – تھانہ والے مجھے مال خانہ کھول کر نہ صرف مختلف قسم کی نشہ اور چیزیں دکھلایا کرتے تھے بلکہ
کوشش کیا کرتے تھے کہ میں کوئی نہ کوئی چیز وہاں سے اٹھا لوں- مگر میرے رب نے میرے ہاتھوں کو روکے رکھا –
ہاں تو بات ہو رہی تھی کہ جب پولیس والوں کے مجھے رام کرنے کے سارے طریقے فیل ہو گئے تو مجھ پر عدالتوں میں ہتک عزت کے دعوے دائر کرنا شروع کر دئیے عدالتوں سے بھی جب منہ کی کھانی پڑی تو 90 کی دہائی میں مجھے
جسمانی گزند پہنچانے کے لئے علاقہ رجانہ کے ایک نامی گرامی ڈکیت جس کی مکمل سٹوری میں پہلے ہی سوشل میڈیا پر تفصیل سے لکھ چکا ھوں اسے ایک رات اس وقت گھر سے اٹھا لئے جب وہ اپنے بھائیوں سے ملنے آیا ہوا تھا
لیکن میرے مہربان خدا نے پولیس والوں کے اس منصوبے کو بھی خاک میں ملا دیا – آج کل کے صحافی جو یہ سمجھتے ہیں کہ صحافت شاید پھولوں کا ہار ہے انھیں بتائے دیتا ہوں
کہ اگر آپ نے صحافت کو اس کی اصل روح کے ساتھ لے کر چلنا ہے تو پھر یہ کانٹوں کا بستر ہے اور اگر آپ نے گلدستہ صحافی بننا ہے تو پھر موجاں ای موجاں
پیارے پڑھنے والو ! صحافت کے موجودہ معیار اور بعض صحافیوں کا تعلیمی معیار دیکھتے ہوئے میں نے 2020 سے صحافت سے کنارہ کشی کر رکھی ہے اور جو لوگ مجھے اب بھی صحافی کہتے ہیں تو ان سے ہاتھ جوڑ کر کہتا ہوں
خدا را مجھے صحافی نہ کہو
کیونکہ
گھری ہوئی ہے میرے شہر کی صحافت تماش بینوں میں
اب میں کورونا کے بعد سے سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارم پر طبع آزمائی کرنے میں مصروف ہوں اور مجھے فخر ہے کہ میں نے سوشل میڈیا کی طاقت سے کئی مسئلے حل کروائے ہیں – آپ دوستوں کی طرف سے ملنے والی محبت میرے اس شوق کو مزید جلا بخش رہی ہے اور مجھے سماج میں چھپی کرپٹ اور بدعنوان کالی بھیڑوں کے خلاف لکھنے کا حوصلہ دے رہی ہے










