*جھنگ(جاوید اعوان سے)انسانی جانوں سے کھیلنے والا “موت کا کلینک” سیل، لیڈی ڈاکٹر بن کر حاملہ خاتون کا بڑا آپریشن کرنے والا اتائی گرفتار*
ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر مریم گل کا سٹی پھاٹک کے قریب چھاپہ، مہربان اشرف کلینک کو تالے لگ گئے
جعلی ڈاکٹر اصغر علی نے خاتون کی زندگی داؤ پر لگا دی، ریسکیو 1122 نے تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کیا
عوامی حلقوں کا زبردست خراج تحسین، ڈپٹی کمشنر اور سی ای او ہیلتھ سے مہم تیز کرنے کا مطالبہ
ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت جھنگ نے انسانی زندگیوں سے کھیلنے والے اتائیوں کے خلاف گھیرا تنگ کر دیا۔ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (DHO) ڈاکٹر مریم گل نے سٹی پھاٹک کے قریب واقع “مہربان اشرف کلینک” پر اچانک چھاپہ مار کر کلینک کو سیل کر دیا اور اتائی ڈاکٹر کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا۔ اتائی کا آپریشن تھیٹر میں “آپریشن”
تفصیلات کے مطابق، جھنگ سٹی پھاٹک کے قریب اصغر علی نامی شخص ڈاکٹر کا روپ دھار کر عرصہ دراز سے کلینک چلا رہا تھا۔ حد تو یہ ہو گئی کہ مذکورہ اتائی نے انسانیت اور قانون کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ایک حاملہ خاتون کا “بڑا آپریشن” (C-Section) خود ہی کر ڈالا۔ اناڑی ہاتھوں سے کیے گئے اس آپریشن کے نتیجے میں خاتون کی حالت غیر ہو گئی اور وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہو گئی۔ اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی ٹیم موقع پر پہنچی اور متاثرہ خاتون کو فوری طور پر سول ہسپتال منتقل کیا، یہاں ڈاکٹرز اس کی جان بچانے کی تگ و دو کر رہے ہیں۔ڈاکٹر مریم گل پرعزم
اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی ایچ او ڈاکٹر مریم گل نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ “کسی بھی اتائی کو انسانی جانوں سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یہ کلینک نہیں بلکہ ‘موت کے اڈے’ ہیں جن کا خاتمہ ہماری اولین ترجیح ہے”۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام اتائیوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے گی اور جو بھی قانون کی گرفت میں آئے گا اسے عبرت کا نشان بنایا جائے گا۔
عوامی ردعمل اور مطالبات
محکمہ صحت کی اس دلیرانہ کارروائی پر جھنگ کے سماجی اور عوامی حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ شہریوں نے ڈاکٹر مریم گل کی پیشہ ورانہ مہارت اور فرض شناسی کو بھرپور سراہا ہے۔ عوامی حلقوں نے ڈپٹی کمشنر جھنگ علی اکبر بھنڈر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) ہیلتھ اتھارٹی ڈاکٹر محمد یونس منیر سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے “سفید پوش قاتلوں” کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے تاکہ آئندہ کوئی کسی کی زندگی سے کھیلنے کی جرات نہ کر سکے۔
107










