*جھنگ(جاوید اعوان سے)۔محکمہ زراعت (ایکسٹینشن) کی نگرانی میں کھجور فارم میں سنگین بے ضابطگیاں بے نقاب، سرکاری زمین پر قبضوں کا انکشاف*
ذرائع کے مطابق محکمہ زراعت (ایکسٹینشن) کی زیرِ نگرانی قائم سرکاری کھجور فارم جھنگ میں درجنوں سنگین بے ضابطگیاں منظرِ عام پر آ گئی ہیں۔ انکشاف ہوا ہے کہ سرکاری رقبہ کی حد بندی کے عمل میں مقامی افراد کے ساتھ مبینہ ساز باز کرتے ہوئے نہ صرف سرکاری زمین پر غیر قانونی طور پر شارعِ عام قائم کروائی گئی بلکہ کروڑوں روپے مالیت کے قیمتی سرکاری رقبہ پر قبضہ بھی کروایا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حد براری کے دوران قواعد و ضوابط کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے سرکاری حدود میں رد و بدل کیا گیا، جس کے باعث سرکاری خزانے کو بھاری مالی نقصان پہنچنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
مقامی بااثر عناصر کو فائدہ پہنچانے کے لیے سرکاری زمین کو دانستہ طور پر نجی استعمال میں لانے کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔
مزید یہ کہ سرکاری کھجور فارم میں سرکاری رقبہ پر نکالے گئے روڈز کے حوالے سے اجازت نامہ کمیٹی کی منظوری، این او سی اور منظور شدہ نقشہ جات کا ریکارڈ ایک شہری کی جانب سے باضابطہ طریقے سے طلب کر لیا گیا ہے، تاہم تاحال متعلقہ محکموں کی جانب سے مطلوبہ ریکارڈ فراہم نہ کیے جانے پر شکوک و شبہات میں اضافہ ہو رہا ہے۔معاملہ سامنے آنے کے باوجود ذمہ دار افسران و اہلکاروں کے خلاف اب تک کوئی واضح اور عملی کارروائی نہ ہو سکی، جس پر عوامی اور زرعی حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق اگر اس معاملے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی گئیں تو مزید چونکا دینے والے انکشافات سامنے آنے کا قوی امکان ہے۔
عوامی حلقوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس سنگین معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے مکمل تحقیقات کروائی جائیں، ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور سرکاری زمین کو ناجائز قبضوں سے واگزار کروا کر قومی مفاد کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔
74










