142

*مٹی سے جڑا درویش صفت دانشور*

*مٹی سے جڑا درویش صفت دانشور*
تیرہ چودہ سال قبل ان کا موٹیویشنل ویڈیو کلپ میری نظروں سے گزرا تو ان کی دلیل پر عقل حیراں تھی۔
یہ ویڈیو کلپ ان کا پہلا تعارف تھا جس میں وہ شیخ سعدی شیرازی کا واقعہ سنا کر مدلل بیان کے ذریعے قوم کے نوجوانوں میں ہمت ارداے کی پختگی اور صبر و استقامت کا درس دے رہے تھے ۔
یہ موٹیویشنل اسپیکر طالب علموں،سرکاری ملازمین سے لیکر اعلٰی سطح کے آفیسرز کو نئے راستے دکھا کر ان کی ذمہ داریوں سے نمبردآزما ہونے اور طرز زندگی کو بدلنے کی جہد میں تھے۔ اپنے بیانیات، لیکچروں سے قوم کی خاص طور پر نوجوانوں کی ذہن سازی کرنا اپنی زندگی کا مقصد بنا رکھا تھا۔
ویڈیو میں شیخ سعدی شیرازی کا ایک واقعہ کوٹ کرتے ہوئے بتارہے تھے کہ شیخ سعدی شیرازی کسی گرم مقام سے گزر رہے تھے کہ پاؤں میں جوتے نہیں تھے اور خریدنے کی سکت بھی نہیں تھی گرم زمین سے پاؤں جلنے لگے تو اوپر آسماں کی طرف دیکھا اور خدا سے شکوہ کیا یا اللہ تیرا بندہ ہوں اور پاؤں میں جوتے نہیں، تھوڑی دور گئے تو ایک شخص پر نطر پڑی جس کے دونوں پاؤں ہی نہیں تھے اور وہ گرم زمین پر لیٹتے ہوئے جا رہا تھا فوری طور پر اوپر دیکھا اور خدا کا شکر ادا کیا کہ جوتے نہیں ہیں تو کیا ہوا میرے پاؤں تو ہیں ان کا کہنا تھا کہ اصل میں وہ شکر کا مقام ہوتا ہے جو ہم شکوہ کرکے ضائع کردیتے ہیں وہ کہتے کہ ہمیں شکر ادا کرنا چاہیے کہ ہمارے ہاتھ، پاؤں سلامت ہیں ذہن دماغ سلامت ہے ہم کیا ہی کرلیتے اگر ان میں ایک بھی ٹھیک نہ ہوتا کہتے کبھی وقت ملے تو پیچھے کی طرف مڑ کے دیکھیں اور سوچیں کہ اس میں میرا کیا کمال تھا کہ مجھے ماحول اچھا مل گیا یار دوست اچھے مل گئے اس میں میرا کیا کمال تھا کہ مجھے کتابیں مل گئیں استاد اچھے مل گئے یہ بھی اللہ پاک کی طرف سے اس کی رحمت اور اس کا کرم ہے کہ میرا ذہن سلامت ہے جسم سلامت ہے، ورنہ تو دنیا میں بیشمار ایسے لوگ ہیں جو آپ کو میسر ماحول سے بھی نیچے زندگی گزار رہے ہوتے ہیں شکر گزاری آپ کو حوصلہ اور ہمت نوازتی ہے
آپ ایسی شخصیت ہیں کہ جو اپنی باتوں اور تحاریر کو اصلاف پیران رفتہ و کہنہ کے اقوال ذریں سے سجاتے ہیں وہ واصف علی واصف، ممتاز مفتی، پیر ابوالانیس صوفی برکت علی لدھیانوی،اشفاق احمد، شیخ سعدی شیرازی، رونڈا بائرن، اور اپنے استادِ محترم سید سرفراز شاہ کو ہر لیکچر میں کوٹ کرتے ہیں
ان کی ویڈیو کلپس دیکھنے کے بعد ان سے ملاقات کا اشتیاق تو ہوا لیکن کب اور کیسے ملاقات ہو اس کے اسباب پیدا نہ کر سکا۔
تقریباً دو تین سال بعد پولیس لائنز نارووال میں وہ ڈسٹرکٹ پولیس نارووال کو کریکٹر بلڈنگ اور پرسنیلٹی مینجمنٹ پر ایک اسپیشل موٹیویشنل لیکچر دینے آئے ان دنوں وہ تمام ڈسٹرکٹس میں پولیس اور جیل پولیس کے ساتھ ساتھ دیگر اداروں کو تبدیلی اور بدل دو کے عنوان سے لیکچر دینے کا کام کر رہے تھے ہم سب لوگ پولیس لائن میں جمع تھے قاسم علی شاہ صاحب مہمان خصوصی تھے وہ گاڑی میں آئے لیکچر دیا اور شاید جلدی میں تھے لیکچر کے فوری بعد وہ ظفروال کی طرف نکل گے میں ان سے پرسنلی نہ مل سکا لیکن ان کا لیکچر انتہائی دلچسپ رہا۔ ظفروال میں نوید الحسن صاحب اور تنویر الحسن صاحب کے “حسن اسکالر سکول” میں طلبہ طالبات سے بھی ان کا اسپیشل لیکچر اور ڈسکشن تھی۔ اسی دن کی شام میں جناب تنویر الحسن، قاسم علی شاہ کی کتب کا ایک سیٹ دینے کے لیے میرے پاس تشریف لائے، میری خوشی کی انتہا یہ تھی کہ چند ہی دنوں میں باردگر ان کتب کی ورق گردانی کر ڈالی۔
دن بدن ملاقات کا اشتیاق بڑھتا چلا گیا ان کے گھر کا پتہ کسی طور معلوم کر چکا تھا کہ آپ سائنس کالج کے قریب اقبال ٹاؤن لاہور رہتے ہیں ایک دن میں بیگم اور بیٹے ارسلان شاہد اور چھوٹی بیٹی ماہم شہزادی کے ساتھ ٹاؤن شپ جارہا تھا کہ حسن اتفاق سے وحدت روڈ سے گزر رہا تھا کہ اپنے بائیں ہاتھ سڑک کنارے قاسم علی شاہ فاؤنڈیشن کی بلڈنگ پر نظر پڑی تو گاڑی کو بریک لگایا اور میری بیٹی اور بیٹے کے ہمراہ فاؤنڈیشن کے دروازے پر پہنچ گئے وہاں ڈیوٹی پر تعینات گن مین سے معلوم ہوا کہ شاہ صاحب شاید اسلام آباد گئے ہوئے ہیں اور اتوار کو فاؤنڈیشن بند ہوتی ہے۔اس نے سوموار کو آنے کا کہا تو مایوسی اندر تک اتر آئئ لہذا دل کی تشفی کے لیے فاؤنڈیشن کے آگے یاداشتی تصویر بنوائی۔ قسمت میں نہ تھا وصال یار کہ مصدق ہم بے نیل و مرام واپس لوٹ آئے۔
میرا ایک دوست چوہدری ندیم بوبک جو ظفروال کے قریب گاؤں بوبک متر کے رہنے والا ہیں اور ہوٹل مینجمنٹ کا کام کرتا ہیں۔ نئے ریسٹورنٹ اوپن کرکے چلا کر مالکان کے حوالے کردینا ان کا کاروبار تھا بعد میں انہوں نے ظفروال میں اپنا گارمنٹس کا کاروبار شروع کر لیا چوہدری صاحب کے قاسم علی شاہ صاحب سے ذاتی مراسم تھے
چوہدری صاحب کے ساتھ سیالکوٹ کینٹ سیکنڈ کپ کیفے پر کافی پی رہا تھا باتوں باتوں میں قاسم علی شاہ صاحب سے ملاقات کی کوشش کا احوال سنایا تو ندیم صاحب نے اسی وقت فون کرکے ان سے ملاقات کا ٹائم لے کر مجھے حیران کر دیا۔
ان دنوں وہ الحمرا ادبی بیٹھک کے چیرمین تھے انہوں نے ہمیں الحمرا ہال اپنے آفس کا ٹائم دیا بدقسمتی سے مجھے اسی دن کام کے سلسلہ میں دوسرے شہر جانا پڑ گیا تو ملاقات پھر مؤخر ہوگئی جو کہ ندیم بوبک صاحب نے پھر سے ملاقات کا وقت ترتیب دیا تو وقت مقررہ پر میں میرا بیٹا ارسلان شاہد اور چھوٹی بیٹی ماہم شہزادی اور ندیم بوبک صاحب وحدت روڈ قاسم علی شاہ فاؤنڈیشن پہنچے تو ہماری آمد کی اطلاع پہنچنے پر دروازے پر خود ویلکم کرنے آئے اور ہم سب سے بڑی محبت سے ملے بچوں کے ساتھ بڑی اپنائیت اور شفقت سے پیش آئے ان کے اس رویے سے میں بڑا حیران ہوا کہ ندیم صاحب سے تو چلیں ان کی پرانی واقفیت تھی لیکن میں اور میرے بچے تو ان کے لیے اجنبی تھے لیکن ہمارے ساتھ ان کی محبت انسیت اور اپنائیت کا احساس ان میں جو میں نے دیکھا مجھے حیرت میں مبتلا کیے ہوئے تھا میرے دل دماغ میں خیالات کی رو چلنے لگی کہ خدا بھی جس شخص کے دل میں اپنی محبت رحمت ڈال دیتا ہے اور کرم نوازی سے نوازتا ہے تو اس کا ظرف بھی اتنا ہی وسیع کر دیتا ہے اس میں صلہ رحمی اور انسانیت بھی پیدا کر دیتا ہے وہ ایک علم دوست انسان دوست صاحب علم انسان ہیں قاسم علی شاہ صاحب کا ہی ایک فقرہ اکثر جو وہ اپنی تقاریر میں بولتے ہیں کہ بڑا آدمی وہ نہیں جس کے پاس دنیا کا مال ومتاع دولت بہت زیادہ ہو یا جس کا نام بڑا ہو جس کا عہدہ یا رینک بڑا ہو بلکہ بڑا آدمی وہ ہے جس کے پاس آپ بیٹھ کر خود کو چھوٹا محسوس نہ کریں میری بیٹی چھٹی کلاس کی طالبہ تھی اور بیٹا نویں کلاس کا سٹوڈنٹ تھا دونوں بچوں کے ساتھ قاسم علی شاہ صاحب کا جو انداز محبت و شفقت تھا وہ چھوٹے بچوں میں خود اعتمادی بڑھانے کا کمال طریقہ تھا انہوں نے بچوں کو جوس اور ہمیں چائے اور کافی پیش کی پھر اپنے آٹوگراف سے مجھے اور میرے دونوں بچوں کو اپنی کتابیں اونچی اڑان، اپنی تلاش ، کامیابی کا پیغام، ذرا نم ہو، بڑی منزل کا مسافر، سوچ کا ہمالیہ، بدل دو، اور آپ کا بچہ، گفٹ عنایت کیں اور بچوں کے ساتھ یادگاری تصویریں بھی بنوائیں اور فاؤنڈیشن کے کلاس رومز لائبریری کانفرنس ہال اور دوسرے رومز کا وزٹ کروایا ہر کمرے کی دیواروں کو علم وادب کی شخصیات کی تصاویر پورٹریٹ اور پینٹنگز سے بڑی خوبصورتی سے سجاکر بڑا ادب دوست ماحول بنایا ہوا ہے جن کو دیکھ کر دل خوش ہو جاتا ہے، قاسم علی شاہ صاحب سے ملکر دونوں بچوں کے چہروں پر جو خوشی اور رونق تھی وہ دیدنی تھی میری بیٹی انہیں کہتی انکل میں یہ کتابیں پڑھ کر آپ کو بتاؤں گی کہ ان میں آپ نے کیا لکھا ہے یہ کیا بولتی اور کہتی ہیں، اگرچہ میرا ان سے غائبانہ تعلق واسطہ ان کی تحریروں تقریروں ویڈیو کلپس کے زریعے سے کافی پرانا تھا تاہم ان سے ملکر یہ آپ کو قطعاً محسوس نہیں ہوتا کہ آپ ان سے پہلی بار مل رہے ہیں ان کا انداز گفتگو اور دوسرے سے بات کرنے کا طریقہ اور حسن سلوک ہی آپ کو ان کا گرویدہ بنا دیتا ہے میں تو ویسے بھی ہر علمی ادبی آدمی کو ماننے چاہنے والا شخص ہوں قاسم علی شاہ صاحب کو ملکر دیکھ کر ان کی مجلس میں بیٹھ کر میں محسوس کرتا ہوں بلکہ سمجھتا ہوں وہ ہمارے وقت کے بہت بڑے درویش صفت صوفی ماڈرن فلسفی دانشور ہیں بلکہ عہد حاضر کے اہل تصوف میں سے ہیں اس قحط الرجال کے دور میں ایسے شخص کا ہونا بھی غنیمت ہے ملاقات کے بعد ضجناب قاسم علی شاہ صاحب مجھے اور بچوں کو چھوڑنے خود باہر گیٹ تک آئے بچے ان سے ملکر اور فاؤنڈیشن کا وزٹ کرکے بہت خوش ہوئے پھر میں بھی کوئی سال دو سال کا عرصہ جھنگ شہر میں گزار کر شیخوپورہ ڈسٹرکٹ کے ایک دور افتادہ قصبہ صفدر آباد جو کسی زمانے میں منڈی ڈھاباں سنگھ کہلاتا تھا وہاں تعینات تھا کہ گرمیوں کی ایک دوپہر کو وہاں ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک سرکاری سکول میں توسیع بلڈنگ کا افتتاح کرنے تشریف لائے تو وہاں مجھے بھی ان سے دوبارہ ملاقات کا شرف حاصل ہوا میرے ایک اور ادبی دوست کہانی کار ادیب دو کتابوں آمو سے راوی تک اور کہانی تیری قلم میری، کے مصنف جناب سلیم اشرف صاحب ہیں جو صفدر آباد کے رہنے والے ہیں ان کی ملاقات بھی جناب قاسم علی شاہ صاحب سے کروائی جن سے ملکر وہ بہت خوش ہوئے اور اپنی کتاب آمو سے راوی تک بھی ان کی خدمت میں پیش کی جس پر بعد ازاں قاسم علی شاہ صاحب نے کتاب پڑھ کر ایک بیش بہا مضمون لکھ کر اپنی قیمتی رائے سے بھی نوازا میں سمجھتا ہوں ان میں انسان کو رکھنے اس کو اہمیت دینے اور اجنبی کو دوست بنانے کے جو درویشانہ صوفیانہ وصف ہیں وہ بہت کم لوگوں میں ہوتے ہیں ، وہ اپنے وطن کی مٹی سے محبت کرنے والے اور مٹی سے جڑے ہوئے درویش صفت صوفی اور وقت کے ولی ہیں جس طرح وہ اپنے قول و فعل علم وادب اور تقاریر و تحاریر سے نوجوان نسل کی تعلیم و تربیت کر رہے ہیں اصل میں اس وطن اور مٹی کے نمک یہی لوگ ہیں اور یہی لوگ اس مٹی کا حق ادا کر رہے ہیں خدا انہیں ہمیشہ صحت و سلامت رکھے آمین
شاہد محمود سیالکوٹ 05/01/2026

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں