82

*جھنگ(جاوید اعوان سے)ایجوکیشن اتھارٹی میں ہیڈ کلرکوں اور سپرینٹنڈنٹس کی تفصیلات طلب، شہری کا رائٹ ٹو انفارمیشن کا استعمال*

*جھنگ(جاوید اعوان سے)ایجوکیشن اتھارٹی میں ہیڈ کلرکوں اور سپرینٹنڈنٹس کی تفصیلات طلب، شہری کا رائٹ ٹو انفارمیشن کا استعمال*
ضلع جھنگ میں سرکاری محکموں میں شفافیت اور معلومات تک رسائی کے قانون (RTI) کے تحت شہریوں کی جانب سے سوالات اٹھانے کا سلسلہ تیز ہو گیا۔ جھنگ کے ایک مقامی شہری نے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی جھنگ میں تعینات انتظامی عملے کی تفصیلات اور سنیارٹی لسٹوں کے حصول کے لیے باقاعدہ درخواست جمع کروا دی ہے۔
تفصیلات کے مطابق، شہری نے چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) ایجوکیشن اتھارٹی جھنگ کو “رائٹ ٹو انفارمیشن” (Right to Information) ایکٹ کے تحت ایک درخواست دی ہے۔ اس درخواست میں محکمہ تعلیم کے انتظامی ڈھانچے کے حوالے سے درج ذیل معلومات طلب کی گئی ہیں:
ایجوکیشن اتھارٹی میں سپرینٹنڈنٹ اور ہیڈ کلرک کی کل کتنی سیٹیں منظور شدہ ہیں۔ اس وقت کتنے سپرینٹنڈنٹ اور ہیڈ کلرک اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں اور ان کے نام کیا ہیں۔
کتنے عہدے طویل عرصے سے خالی پڑے ہیں جن پر تاحال تعیناتی نہیں ہو سکی۔ مذکورہ بالا تمام ملازمین کی مکمل سنیارٹی لسٹ اور ریکارڈ فراہم کیا جائے۔درخواست گزار کا موقف ہے کہ سرکاری محکموں میں خالی آسامیوں اور سنیارٹی کے معاملات کو پبلک کرنا قانون کا تقاضا ہے تاکہ میرٹ کی بالادستی قائم رہ سکے۔ شہری نے مطالبہ کیا ہے کہ یہ تمام ریکارڈ فوری طور پر فراہم کیا جائے تاکہ عوام کو معلوم ہو سکے کہ ضلع کے سب سے بڑے تعلیمی انتظامی ڈھانچے میں انسانی وسائل (HR) کی کیا صورتحال ہے۔
ایجوکیشن اتھارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہو چکی ہے اور متعلقہ برانچ کو ریکارڈ کی تیاری کے لیے ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ محکمہ تعلیم یہ معلومات مقررہ قانونی مدت کے اندر فراہم کرتا ہے یا نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں