111

*جھنگ(جاوید اعوان سے)جھنگ میں کرپشن کے ‘بے تاج بادشاہ’ کا زوال: سابق تحصیلدار شوکت علی ساہمل کے خلاف مقدمہ درج*

*جھنگ(جاوید اعوان سے)جھنگ میں کرپشن کے ‘بے تاج بادشاہ’ کا زوال: سابق تحصیلدار شوکت علی ساہمل کے خلاف مقدمہ درج*
جھنگ کے عوامی حلقوں میں ‘رشوت کے بازار’ کے طور پر شہرت پانے والے سابق تحصیلدار و سب رجسٹرار شوکت علی ساہمل کے گرد قانون کا شکنجہ کس گیا ہے۔ اینٹی کرپشن جھنگ نے اختیارات کے ناجائز استعمال اور رشوت ستانی کے سنگین الزامات کے تحت سابق بیوروکریٹ شیخ ظفر اقبال کی درخواست پر باقاعدہ مقدمہ درج کر لیا ہے۔
بدعنوانی کی داستان جب فائلوں کو پہیے لگتے تھے
یاد رہے کہ شوکت علی ساہمل کی جھنگ میں تعیناتی کا دور کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہ تھا۔ ذرائع کے مطابق، موصوف نے اپنے دورِ اقتدار میں کرپشن کی وہ “نئی روایتیں” قائم کیں کہ عام آدمی کا اپنے جائز کام کے لیے دفتر جانا محال ہو گیا تھا۔ رشوت کے بغیر کوئی فائل حرکت نہیں کرتی تھی اور اختیارات کا ایسا ناجائز استعمال کیا گیا جس کی مثال نہیں ملتی۔
اس کرپشن کے نیٹ ورک کو توڑنے کا سہرا سابق بیوروکریٹ شیخ ظفر اقبال کے سر جاتا ہے، جنہوں نے سسٹم کے اندر موجود کالی بھیڑوں کے خلاف آواز بلند کی۔ ان کی ٹھوس شواہد پر مبنی درخواست پر اینٹی کرپشن نے ابتدائی تحقیقات کے بعد مقدمہ درج کر کے کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔
“دیر آید درست آید”
مقدمے کے اندراج کی خبر جنگل کی آگ کی طرح جھنگ میں پھیل گئی، جس پر عوامی و سماجی حلقوں نے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ شوکت علی ساہمل نے سائلین کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا اور میرٹ کی دھجیاں اڑائیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ایسے افسران سے لوٹی گئی پائی پائی کا حساب لیا جائے اور انہیں نشانِ عبرت بنایا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں