*خوابوں کا شہر*
میں ایک ایسے گاؤں میں رہتا تھا جہاں وقت آہستہ چلتا تھا اور زندگی سادگی کی تہذیب میں سانس لیتی تھی۔ وہ میرے بچپن کے دن تھے، جب خوشی کسی لمحاتی کیفیت کا نام نہیں بلکہ روزمرہ کا معمول ہوا کرتی تھی۔ ماں کی گود میری پہلی درسگاہ تھی اور باپ کا سایہ میری سب سے مضبوط فصیل۔ کچی اینٹوں اور مٹی سے بنے مکان شاہی محلات سے کم محسوس نہ ہوتے، اور میرے ننھے قدموں کے لیے پوری کائنات چند گلیوں اور کھیتوں تک محدود تھی۔
میں گاؤں کے پرائمری سکول میں تعلیم حاصل کر رہا تھا۔ ہمارے معلم، یعقوب صاحب، علم کے ساتھ تاریخ کا ذوق بھی رکھتے تھے۔ وہ بتایا کرتے کہ سیالکوٹ محض ایک شہر نہیں بلکہ تہذیبوں کی تہہ در تہہ تاریخ ہے، جو دس ہزار برس سے کشمیر کی اترائیوں میں آباد چلی آ رہی ہے۔ وہ بڑے وقار سے کہتے کہ اسی سرزمین نے علامہ محمد اقبال اور فیض احمد فیض جیسے صاحبانِ فکر کو جنم دیا، جن کے استاد مولوی میر حسن تھے۔ ان کے سبق نے میرے کم سن ذہن میں علم اور شعور کے چراغ روشن کر دیے۔
وہ ضلع کی تحصیلوں کے نام یاد کرواتے۔ سیالکوٹ، ڈسکہ، پسرور، نارووال اور شکرگڑھ۔ شکرگڑھ کو وہ ’’چڑھتے سورج کی سرزمین‘‘ کہا کرتے تھے۔ یہ نام میرے شعور میں کسی افسانوی شہر کی مانند اترتے۔ میں سوچتا کہ یہ بستیاں کہاں ہوں گی، کن راستوں پر آباد ہوں گی اور کیسی تاریخ اپنے دامن میں سمیٹے بیٹھی ہوں گی۔
جب میں پرائمری کی دہلیز پار کر کے ہائی اسکول میں داخل ہوا تو میرے اکثر اساتذہ کا تعلق نارووال اور شکرگڑھ سے تھا۔ وہ علم و عمل کے پیکر، خاموش مگر گہرے اثرات چھوڑ جانے والے لوگ تھے۔ جب وہ نارووال، شکرگڑھ، نیناں کوٹ، بڑا بھائی، چک آمرو، نورکوٹ، بستان، منظور پورہ پلاٹ، ظفروال اور بدوملہی کے نام لیتے تو یہ نام میرے دل میں کسی پرانے نقشے کی مانند ثبت ہو جاتے، جنہیں دیکھنے کی خواہش وقت کے ساتھ بڑھتی چلی گئی۔
میں نویں جماعت میں تھا جب نارووال کو ضلع کا درجہ دیا گیا۔ وقت نے کروٹ بدلی، اساتذہ اپنے اپنے علاقوں کو لوٹ گئے اور میں نے ہائی اسکول کی تعلیم مکمل کی۔ اس کے بعد زندگی نے روزگار اور تعلیم کی تلاش میں گوجرانوالہ اور لاہور کی جانب دھکیل دیا۔ شہر در شہر بھٹکتے ہوئے اس قدر مصروف ہوا کہ بچپن کے وہ خوابیدہ نام حافظے کے کسی کونے میں دب کر رہ گئے۔
پھر کئی برسوں بعد فکر معاش ہمیں کھینچ کر خوابوں کے انہیں چھوٹے چھوٹے شہروں میں لے گی۔
ضلع نارووال کو ضلع کا درجہ 1991ء میں ملا تھا۔ اس کی دو تحصیلیں تھیں۔ایک نارووال دوسری شکرگڑھ پھر 2009ء میں ظفروال کو تحصیل کا درجہ مل گیا۔اس ضلع کی آبادی آٹھارہ سے بیس لاکھ کے قریب ہے۔ تاریخ عالم کے مطالعہ سے جانکاری ملتی ہے کہ نارووال کی تہذیب اتنی ہی پرانی ہےجتنی سندھ ساگر کی تہذیب پرانی ہے۔ یہ شہر دریائے راوی کے کنارے شمال کی جانب آباد ہے۔ اس شہر کو ایک ہزار سال قبل بابا نارو باجوہ نے آباد کیا تھا۔ نارووال شہر اس ضلع کا صدرمقام ہے۔اس کے مشرق میں اس کی تحصیل شکرگڑھ اور انڈین بارڈر جبکہ بارڈر کے ساتھ پٹھانکوت واقع ہے۔ ہند کی تقسیم سے قبل شکر گڑھ ضلع گرداسپور کی تحصیل تھی۔ جو قیام پاکستان کے بعد ضلع سیالکوٹ کی تحصیل بنا دی گئی تھی۔
نارووال کے شمال میں پسرور اور سیالکوٹ شہر ہیں، شمال مشرق میں ظفروال کے اوپر مقبوضہ جموں کشمیر کا شہر سامبا ہے، جبکہ اس کے جنوب مشرق میں گرداس پور اور بلکل جنوب میں اجنالہ اور امرتسر شہر ہیں۔ جس کے مغرب میں ضلع شیخوپورہ کا علاقہ نارنگ منڈی ہے۔اور گوجرانوالہ کا قصبہ کالی صوبہ خاں جبکہ سیالکوٹ کا قصبہ قلعہ کالروالا ہے۔
بدوملہی نارووال کا پرانا میونسپلٹی قصبہ ہے۔ جو قدیمی غلہ منڈی ہے۔ جس کے ساتھ میرے بیج میٹ عرفان اشرف گل کا گاوں راوۤکے رتیاں ہے۔ بدوملہی میں ایک خوبصورت ریلوے اسٹیشن اور پولیس اسٹیشن واقع ہیں۔ یہ دریائے راوی کے قریب ہے۔ اس کے ساتھ ہی گاوں رعیہ خاص ہے جو رنجیت سنگھ کے زمانے میں امرتسر کی تحصیل تھی۔ تب نارووال بھی اس تحصیل کا حصہ تھا جہاں تھانہ رعیہ خاص ہے۔ آج بھی وہاں پرانی تحصیل کے کھنڈرات موجود ہیں جو میں نے بچشم خود بھی دیکھے ہیں۔ یہ دریائے راوی کے کنارے شمال میں واقع ہے۔ اس مقام سے جنوب میں امرتسر شہر پندرہ،سترہ کلومیٹر دریا پار واقع ہے۔ رعیہ خاص کا خوبصورت ریلوے اسٹیشن بھی موجود ہے۔ اِس کے ساتھ گاوۤں تھرپال ہے۔ جہاں پنجابی زبان کے معروف شاعر سید ہاشم شاہ کا مزار موجود ہے جس نے سسی پنوں کی محبت کی لازوال داستان پنجابی شاعری میں بیان کی ہے۔ جو اِس گاوۤں کے رہنے والے تھے۔ اس کے ساتھ ہی ڈیریانوالہ قصبہ ہے جبکہ کلاس گورائیہ کے جنوب میں دریائے راوی ہے۔ دونوں قصبوں میں چھوٹے چھوٹے ریلوے اسٹیشن ہیں۔ یہاں سے دریائے راوی کے ساتھ ساتھ مشرق کی طرف چلتے جائیں تو نارووال شہر آتا ہے۔ جو دریا سے چار کلومیٹر شمال میں آباد ہے۔ اس سے تھوڑا اوپر جائیں تو 1965ء کی جنگ کا محاز مشہور قصبہ ،،جسڑ،، آتا ہے۔
یہاں جسڑ کے مقام پر ایک چھوٹا سا ریلوے جنکشن موجود ہے۔ یہاں سے ایک لائن نارووال جبکہ دوسری شکرگڑھ ،چک آمرو، تیسری لائن دریائے راوی کراس کر کے امرتسر ،گرداس پور تک جاتی تھی۔اس مقام پر راوی کے اوپر ڈبل پۤل تھا جس پر نیچے ٹرین گزرتی تھی اوپر سے دوسری ٹرانسپورٹ۔ جو جنگ کے دوران یہ پل تباہ ہوگیا تھا۔ یہاں پر چھوٹی سی فوجی چھاونی بھی ہے۔ یہاں نالہ بسنتر ہے جو جموں کشمیر سے اکر راوی میں گرتا ہے۔ اِس کے ساتھ دربار صاحب بابا گرونانک کرتارپور کوریڈور واقع ہے۔ یہ دریا سرحد سے چار کلومیٹر دریائے راوی کے شمال میں واقع ہے۔ اس مقام پر ایک اور نالہ بئیں ہے۔ جو جموں کشمیر سے آتا ہے اور راوی میں مل جاتا ہے۔ یہاں سے ہندوستانی علاقہ میں ڈیرہ بابا نانک کا شہر ہے، دربار صاحب کرتارپور سے مشرق میں دریا کے ساتھ چلتے جائیں تو قصبہ بارہ منگا آتا ہے۔ اس علاقہ میں پنجابی پٹھان آبادی زیادہ ہے۔ بارہ منگا سے آگے جائیں تو نیناں کوٹ کا خوبصورت سر سبز زرخیز سرحدی قصبہ آتا ہے۔جو راوی کنارے آباد ہے۔اِس مقام پر پولیس اسٹیشن بھی ہے۔ اس مقام پر دریائے راوی انڈیا سے پاکستان میں داخل ہوتا ہے۔ایک چھوٹا سا دریا اَوج بھی شمال سے آکر راوی میں شامل ہو جاتا ہے۔ یہ دریا دو ممالک کے درمیان سرحدی لکیر کا کام دیتا ہے۔ یہاں سے پاکستان کاعلاقہ شمال کی طرف گھوم جاتا ہے۔ یہ تحصیل شکرگڑھ کے دیہات اور قصبات ہیں۔ یہ تحصیل پہلے ضلع گرداس پور کی تھی جس کو تقسیم کے بعد سیالکوٹ میں شامل کر دیا گیا۔ یہاں سے دریائے اوج کے ساتھ شمال کی طرف چلیں تو قصبہ جلالہ شریف ہے۔ جس کے پاس ہی قصبہ اخلاص پور ہے۔ جس کو قدرتی جنگل نے مزید خوبصورت بنا دیا ہے۔ اس کے سامنے سرحد کے پار پٹھانکوٹ کا شہراور جموں کا پہاڑی سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ اس جنگل کے ساتھ ہی گاوں گھروٹہ،عنایت پور،بھائی پور،بڑا بھائی مسرور آتا ہے۔۔اِس مقام سے پاکستان کا سٹینڈرڈ ٹائم لیا جاتا ہے۔ یہ گاوۤں دریائے اَوج کے کنارے سرحد کے ساتھ واقع ہیں۔ اِسی ،،بڑا بھائی مسرور،، میں مشہور دربار خواجہ عبدالسلام چشتی واقع ہے۔اِس مقام پر زمین سے میٹھے پانی کے چشمے نکلتے ہیں۔اِس سے شمال میں سکھو چک، چھمال، کے قصبے نالہ بئیں کے کناروں پر آباد ہیں جہاں چھوٹے چھوٹے خوبصورت جنگل بھی ہیں ۔ جب نالہ کراس کریں،دوسری جانب آخری قصبہ،آخری ریلوے اسٹیشن اور پولیس اسٹیشن چک امرو آتا ہے۔جس کے ساتھ دوسری طرف انڈین مقبوضہ جموں کشمیر کا علاقہ ہے۔ اس قصبہ سے آگے چھوٹا سا قصبہ ہرڑکلاں آتا ہے۔ یہاں پر نشان حیدر پانے والے ،،سوار محمد حسین شہید،، کی یادگار ہے۔اس کے قریب سرحدی قصبات ڈیلرہ،چتر،تارا پورٹیبہ،لہڑی،سکروڑ،سیکٹرز ہیں۔ یہاں پر مشہور زمانہ نالہ ڈیک انڈین جموں کشمیر کے شہر سامبا سے آتا ہے اور پاکستان میں داخل ہوتا ہے۔ جس کے سامنے پاکستان کی پہلی تحصیل اور شہر ظفروال پڑتا ہے. یہاں سے نالہ ڈیک سیالکوٹ،نارووال کے درمیان باؤنڈری لائن میں بہتا ہے۔ ظفروال کے قریب ہی روپوچک اور مراڑہ ہے جس کے قریب ہی قصبہ درمان ہے۔ یہاں سے قصبہ لوہارہ اور پنڈی بوڑھی کے درمیان نالہ بسنتر کے کنارے جنگل کے ساتھ قصبہ بڑا پنڈ جرپال ہے۔ پنجابی کے مشہور شاعر شوکمار بٹالوی یہاں کے رہنے والے تھے۔ اِس گاؤں میں پاکستان، انڈیا جنگ میں بہت سارے فوجی جوان شہید ہوئے تھے۔ جن کی یادگاریں یہاں موجود ہیں۔ان کی یاد میں ہرسال میلہ لگتا ہے۔ جہاں دودھ کا کنواں بھی چلتا ہے۔ اس کے قریب ہی قصبہ لیسرکلاں،سنیاریاں، ٹھیکریاں اورکلرشریف دربار والا چوڑا گاؤں ہے۔جس کے سامنے نالہ بسنتر کے کنارے قصبہ ددھوچک اورجنگل ہے۔ یہاں گمٹالہ قصبہ ہے جہاں کے معروف ادیب مشتاق احمد گمٹالوی رہنے والے ہیں۔
یہاں قریب ہی عیسیٰ چوک کے پاس شاہ غریب کا دربار ہے جس کے قریب ہی مشہور سیاستدان پروفیسر احسن اقبال اور احمد اقبال کا آبائی گاؤں فتووال راجپوتاں ہے۔
یہاں نالہ بسنتر کے کنارے نڈالہ سلہریاں اور قدیم قصبہ کنجروڑ واقع ہیں۔ یہاں کنجروڑ سے کرارانوالہ پھاٹک سے ایک لنک روڈ مشہور شاعر فیض احمد فیض کے گاؤں کالا قادر،مدوکاہلواں سے ہوتے ہوئے صدیوں پرانا قصبہ سنکھترہ جاتی کو ہے
کاکولیات اور پیچ وتاب زندگی کے مصنف بریگیڈئر ریٹائرڈ صولت رضا اور انڈین فلم انڈسٹری کے مایا ناز اداکار جتندر سنکھترہ کے رہنے والے تھے۔ جس کا گھر اب بھی قصبہ سنکھترہ میں موجود ہے۔
اس کے پاس ہی مشہور گلوکار ابرارالحق کا گاؤں بھٹی کاہلواں ہے۔ یہاں پاس شمال میں دھمتھل، مغرب میں ٹپیالہ اور نونار ہے۔ جس کے شمال مغرب میں ریلوے اسٹیشن قلعہ احمد آباد ہے۔
اسی قصبہ قلعہ احمد آباد کے قریب تحریکِ پاکستان کے سرگرم مذہبی رہنما اور قائد اعظم کے بے لوث ساتھی پیر سید جماعت علی شاہ کا دربار اور ان کا آبائی گاؤں علی پور سیداں ہے۔ جس کے مغرب میں تھانہ ندوکے ہے اور جنوب میں قصبہ ڈومالہ ہے۔میرے بیج میٹ دوست محمد اکرم جویندہ اس قصبہ سے ہیں۔ جس کے جنوب مشرق میں نارووال شہر ہے۔ جس کو کالجوں یونیورسٹیوں، ہسپتالوں کا شہرکہا جاتا ہے۔ انجینیرنگ ایند ٹیکنالوجی یونیورسٹی،یونیورسٹی آف نارووال، یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز،میڈیکل کالج ہیں۔ سہارا ہسپتال،سہارا میڈیکل کالج ہے۔ ایک ماڈل ریلوے اسٹیشن اور جدید سپورٹس کمپلیکس ہے۔ایک سڑک مشرق میں ناروال سے شکر گڑھ جاتی ہے۔ایک مغرب میں تلونڈی بھنڈراں،قلعہ کالروالہ، مریدکے جاتی ہے۔شمال میں پسرور سیالکوٹ اور ایک سڑک جنوب مغرب میں بدوملہی نارنگ منڈی جاتی ہے۔ جس کو نیو نارووال لاہور روڑ بولتے ہیں۔یہاں ایک خوبصورت ریلوے جنکشن ہے ایک ٹریک لاہور کو جاتا ہے ایک پسرور سیالکوٹ کو اور ایک جو اب بند ہو چکا ہے شکر گڑھ چک امرو کو۔ ضلع نارووال زرعی علاقہ ہے۔ جہاں کا چاول پوری دنیا میں مشہور ہے۔ یہاں دھان،گندم،باجرہ کی فصلیں زیادہ ہوتی ہیں۔اس ضلع میں جاٹ،گجر،ارائیں،انصاری،پٹھان، راجپوت برادریاں آباد ہیں۔اس کے پرانے قصبہ کنجروڑ کے نزدیک نالہ بسنتر کے دونوں کناروں پر میلوں میں آمرود کے باغات ہیں۔ضلع نارووال تعلیم کے شعبے میں پورے پاکستان میں پہلے نمبر پر ہے خاص طور پر اِس کی تحصیل شکر گڑھ میں تو لیٹریسی ریٹ پورے پاکستان میں ٹاپ پر ہے۔ یہ بڑا مردم خیز علاقہ ہے۔ اس کو دریا،ندی نالوں،شکراور گڑ، کی سرزمین بولا جاتا ہے۔ نارووال میں علم وادب اور فلم انڈسٹری کی نامور شخصیات نے جنم لیا۔ جن میں فیض احمد فیض، سسی پنوں کے نامور شاعر سید ہاشم شاہ،پنجابی زبان و ادب کے لازوال شاعر شیو کمار بٹالوی، باب بیٹا ،،حکیم ارشد شہزاد،، اور ،،حکیم احمد نعیم ارشد،، نسیم درمانوی، آصفہ مریم، حکیم اصغر بھٹی،، اردو کے شاعر ندیم اختر ندیم ، پروفیسر سرورارمان، کاکولیات والے برگیڈیر ریٹائرڈ صولت رضا، ،،مشتاق احمد گمٹالوی، فلمسٹار راجندر کمار، دیوآند، کیدار ناتھ شرما، شامل ہیں۔ سکھ مذہب کے بانی بابا گرونانک نے اپنی حیاتی کے آخری سال یہاں گزارے اور یہاں ہی کرتارپور میں اُن کی محبت کے مزار ہیں۔ میرا سوہنا نارووال ایسا ہے، شکرگڑھ ظفروال کا خطہ سرزمین جنت نظیر۔
شاہد محمود سیالکوٹ
07/12/2025










