*جھنگ(جاوید اعوان سے) ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی جھنگ میں ’اندھیر نگری چوپٹ راج‘، سنیارٹی لسٹوں میں سنگین بے ضابطگیاں بے نقاب۔قانون کی دھجیاں اڑا دی گئیں*، *ترقیوں کا معیار ’سنیارٹی‘ نہیں بلکہ ’افسران کی آشیرباد‘ ٹھہرا.اختیارات سے تجاوز: EST اساتذہ کی لسٹیں DEO ایلیمنٹری کے بجائے DEO سیکنڈری بنانے لگے*، *ملازمین سراپا احتجاج*
*ضلعی ایجوکیشن اتھارٹی جھنگ میں “سکہ شاہی” عروج پر پہنچ گئی، یہاں قانون اور میرٹ کو پسِ پشت ڈال کر من پسند افراد کو نوازنے کا انکشاف ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق محکمہ تعلیم میں عرصہ دراز سے کوئی مستند اور منظور شدہ سنیارٹی لسٹ موجود نہ ہونے کے باعث “جس کی لاٹھی اس کی بھینس” کا قانون نافذ ہے، جس سے حقدار ملازمین کی حق تلفی ہو رہی ہے*۔
*اختیارات کا ناجائز استعمال حیرت انگیز طور پر ضلعی نظامِ تعلیم میں “الٹی گنگا” بہنے لگی ھے*۔ *قانون کے مطابق EST اساتذہ کی بھرتی اور سنیارٹی کے معاملات ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (ایلیمنٹری) کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں، لیکن یہاں تمام ضوابط کو بالائے طاق* *رکھتے ہوئے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (سیکنڈری) کی جانب سے سنیارٹی لسٹیں مرتب کی جا رہی ہیں۔ یہ اقدام نہ صرف اختیارات سے تجاوز ہے بلکہ محکمے کے اندرونی نظم و ضبط پر بھی سوالیہ نشان ہے۔سنیارٹی لسٹوں کا فقدان اور من مانی انکشاف ہوا ہے کہ سال 2024-25 سے قبل محکمے میں کسی باقاعدہ سنیارٹی لسٹ کا نام و نشان تک نہ تھا، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے افسر شاہی نے مبینہ طور پر اپنے چہیتوں کو نوازنے کے لیے پسِ پردہ کھیل کھیلا۔ اب جو اعتراضات کی لسٹ سامنے آئی ہے، اس نے محکمے کے اندرونی خلفشار اور اقربا پروری کو پوری طرح بے نقاب کر دیا ہے.ملازمین کا مطالبہ اور ڈپٹی کمشنر سے اپیل*
*متاثرہ ملازمین اور اساتذہ نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترقیوں کا معیار سنیارٹی کے بجائے “افسران کی خوشنودی” بن چکا ہے۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنر جھنگ علی اکبر بھنڈر سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ*
*پچھلے کئی سالوں کے ریکارڈ کا کڑا احتساب کیا جائے۔سنیارٹی لسٹیں فوری طور پر متعلقہ اتھارٹی یعنی DEO ایلیمنٹری (میل/فیمیل) سے بنوائی جائیں۔ غیر قانونی طور پر بنائی گئی لسٹوں کو کالعدم قرار دے کر میرٹ کی بحالی یقینی بنائی جائے.ملازمین کا کہنا ہے کہ اگر اعلیٰ حکام نے فوری نوٹس نہ لیا تو وہ احتجاج کا دائرہ کار وسیع کرنے پر مجبور ہوں گے تاکہ “دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی” ہو سکے اور برسوں سے جاری اس بے انصافی کا خاتمہ ہو*۔
234











