*جھنگ۔ سی ای او ایجوکیشن جھنگ سابقہ ٹوبہ ٹیک سنگھ عقیلہ انتخاب خان کے لاکھوں روپے کی خورد برد کا انکشاف۔ٹوبہ ٹیک سنگھ میں تعیناتی کے دوران کمپیوٹرز کی غیر قانونی خریداری پر 22 لاکھ سے زائد کی ریکوری کا حکم، عوامی حلقوں کا وزیر اعلیٰ سے معطلی کا مطالبہ*
*ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی جھنگ کی موجودہ چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) عقیلہ انتخاب خان سابقہ تعیناتی کے دوران مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور کرپشن کے سنگین الزامات کی زد میں آگئی ہیں۔ آڈٹ حکام نے لیپ ٹاپس اور کمپیوٹرز کی غیر قانونی خریداری پر 2.286 ملین (22 لاکھ 86 ہزار) روپے کی ریکوری کا پیرا بنا کر کارروائی کا حکم دے دیا ہے۔آڈٹ رپورٹ کے ہوشربا انکشافات*
*ذرائع کے مطابق میڈم عقیلہ انتخاب خان اکتوبر 2024 سے مئی 2025 تک ٹوبہ ٹیک سنگھ میں بطور سی ای او ایجوکیشن تعینات رہی تھیں۔ اس قلیل مدت کے دوران بڑے پیمانے پر سرکاری فنڈز میں خورد برد کے شواہد ملے ہیں۔ آڈٹ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ صرف لیپ ٹاپ اور کمپیوٹرز کی خریداری میں 22 لاکھ 86 ہزار روپے کا غبن کیا گیا۔خریداری کے عمل میں قواعد و ضوابط (PPRA Rules) کو پس پشت ڈال کر من پسند فرموں کو نوازا گیا*۔
*آڈٹ حکام نے ان اخراجات پر سخت اعتراضات اٹھاتے ہوئے مذکورہ رقم افسر سے فوری وصول کرنے کی سفارش کی ھے۔مذکورہ الزامات کی حقیقت جاننے اور موقف لینے کے لیے جب میڈیا ٹیم نے سی ای او ایجوکیشن جھنگ عقیلہ انتخاب خان سے ان کے موبائل نمبر پر رابطہ کرنے کی کوشش کی تو ان کا فون مسلسل بند پایا گیا*۔ *بعد ازاں دفتر جانے پر عملے نے بتایا کہ “میڈم فیلڈ وزٹ پر ہیں”، جس کے باعث ان کا سرکاری موقف سامنے نہیں آ سکا*۔
*وزیر اعلیٰ پنجاب سے فوری کارروائی کا مطالبہ*
*جھنگ اور ٹوبہ ٹیک سنگھ کے عوامی، سماجی اور تعلیمی حلقوں نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ شہریوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، چیف سیکریٹری، صوبائی وزیر تعلیم اور سیکریٹری ایجوکیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ عقیلہ انتخاب خان کے خلاف فوری طور پر اعلیٰ سطحی انکوائری شروع کی جائے*۔
*شفاف تحقیقات کے لیے انہیں فوری طور پر عہدے سے معطل کیا جائے تاکہ وہ ریکارڈ میں ردو بدل نہ کر سکیں۔تعلیم جیسے مقدس شعبے میں کرپشن کرنے والے عناصر کو نشانِ عبرت بنایا جائے۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ کے “کرپشن فری پنجاب” ویژن کا تقاضا ہے کہ ایسے افسران کا کڑا احتساب ہو جو عوامی ٹیکس کے پیسے کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال کر رہے ہیں*۔
191











