*جھنگ(جاوید اعوان سے)محکمہ صحت کا ’ڈپٹی آفس‘ یا درجہ چہارم کے ملازمین کی ’پناہ گاہ.سیکرٹری ہیلتھ کے احکامات ہوا میں اڑا دیے گئے؛ عارضی ڈیوٹیوں کا بازار گرم، عوامی حلقوں کی چیخیں نکل گئیں*
*ضلع جھنگ کے محکمہ صحت میں مبینہ طور پر اقربا پروری اور من مانیوں کا ایسا راج قائم ہے کہ قانون اور ضابطے صرف فائلوں کی زینت بن کر رہ گئے ہیں۔ ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (DHO) تحصیل جھنگ کا دفتر اس وقت ‘درجہ چہارم’ کے ملازمین کی محفوظ ترین آماجگاہ بن چکا ہے، جہاں مبینہ طور پر اصل ڈیوٹیوں سے جی چرانے والے ملازمین نے ‘عارضی تعیناتیوں’ کا سہارا لے کر قبضہ جما رکھا ہے*۔
*احکامات کی دھجیاں: ’صاحب‘ خاموش، ملازم مدہوش*
*ذرائع کا دعویٰ ہے کہ صوبائی سیکرٹری صحت پنجاب کی جانب سے تمام عارضی ڈیوٹیاں (Attachment) فی الفور ختم کرنے کے واضح احکامات جاری کیے گئے تھے، لیکن جھنگ کے اس مخصوص دفتر میں ان احکامات کو ردی کی ٹوکری کی نذر کر دیا گیا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہاں “سیاہ و سفید” کے مالک یہ چھوٹے ملازمین ہیں جنہوں نے اثر و رسوخ کے بل بوتے پر دفتر میں ڈیرے ڈال رکھے ہیں*۔
*عوامی سوال ھے کہ بنیادی صحت کے مراکز کا والی وارث کون؟*
*اس صورتحال پر عوامی حلقوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ اگر تمام فیلڈ اسٹاف اور درجہ چہارم کے ملازمین ڈپٹی آفس کی کرسیوں سے چمٹے ہوئے ہیں، تو ان کی اصل جائے تعیناتی (Original Posting) پر کام کون کر رہا ہے؟*
*دیہاتوں اور دور دراز علاقوں کے غریب عوام کو ان کا حق کیوں نہیں دیا جا رہا؟*
*کیا ان بااثر ملازمین کی سہولت کاری کے لیے عوام کو بنیادی طبی سہولیات سے محروم رکھنا جائز ہے؟سی ای او ہیلتھ سے فوری ایکشن کا مطالبہ.عوامی اور سماجی حلقوں نے چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیلتھ اتھارٹی جھنگ ڈاکٹر محمد یونس منیر سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس “درجہ چہارم راج” کا فوری خاتمہ کریں۔ مطالبہ کیا گیا ہے کہ تمام عارضی ڈیوٹیوں کے آرڈرز منسوخ کر کے ان ملازمین کو فی الفور ان کے اصل مراکزِ صحت پر بھیجا جائے تاکہ ہیلتھ سسٹم کا قبلہ درست ہو سکے*۔
*اب دیکھنا یہ ہے کہ ڈاکٹر محمد یونس منیر اس “مبینہ کرپشن اور من مانی” کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹتے ہیں یا یہ دفتر اسی طرح قانون سے بالا تر رھے گا؟*
68











