26

*جھنگ (جاوید اعوان سے)جھنگ میں پنجاب انفارمیشن ٹرانسپرنسی ایکٹ ٹھس۔ ہیلتھ اتھارٹی جھنگ متعلقہ اہلکار کو ریکارڈ فراہم کرنے سے انکاری*

*جھنگ (جاوید اعوان سے)جھنگ میں پنجاب انفارمیشن ٹرانسپرنسی ایکٹ ٹھس۔ ہیلتھ اتھارٹی جھنگ متعلقہ اہلکار کو ریکارڈ فراہم کرنے سے انکاری*
تفصیلات کیمطابق خالد محمود سٹینو گرافر،عبد الستار سٹینو گرافر اور فرحت شاہ وغیرہ کا ریکارڈ محکمہ صحت جھنگ سے لینے کے لیے اعجاز احمد سلیمی اسسٹنٹ ڈی ایچ ڈی سی نے مورخہ 05/03/23 سے بمطابق پنجاب انفارمیشن کمیشن ایکٹ مجریہ 2013 ریکارڈ فراہی کی تحریری درخواستیں جمع کرائی گئی ھے۔ ذرائع کیطابق محکمہ صحت جھنگ میں سپریٹنڈنٹ کی آسامی پر اہل و قابل اہلکاران نے اپلائی کر رکھا ہے اور سینارٹی کے مطابق آرڈرز ہونے ہیں۔ لیکن محکمہ صحت جھنگ کی بااثر مافیاء کیجانب سے خالد محمود سٹینو گرافر کو سپرینٹنڈنٹ کے عہدے پر تعینات کروانے کا ہر غیر قانونی حربہ آزمایا جارہا ھے
یاد رہے 2018 بوگس بھرتی میں جعلی ریکارڈ تیار کروانے والے ماہر کرپٹ مایہ ناز دفتری آرڈر سپریٹنڈنٹ خالد محمود سٹینو گرافر کے تھے جس کی نگرانی میں تمام ریکارڈ,میرٹ لسٹیں وغیرہ مرتب ہوئیں اور اس ریکارڈ میں بڑے پیمانے پر خزانہ سرکار کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا گیا نئے سرے سے مافیا خالد محمود سٹینو گرافر کو سپریٹنڈنٹ بنوانے میں متحرک ھے اس عمل سے مقامی ڈومیسائل و سینارٹی کیمطابق پوزیشن رکھنے والے اہلکاران کی حق تلفی کا شدید خدشہ ھے۔
جسکی بابت ڈپٹی کمشنر جھنگ ایڈمنسٹریٹر ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی جھنگ کے پاس اعجاز احمد سلیمی اسسٹنٹ ڈی ایچ ڈی سی کی مدعیت میں اپیل زیر سماعت ھے ذرائع کیمطابق محکمہ صحت کے متحرک گروپ کیجانب سے خالد محمود سٹینو گرافر کو سپرینٹنڈنٹ کے عہدے پر تعینات کروانے کا ہر غیر قانونی طور پر فارمولا اپنایا جارہا ھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں