43

*جھنگ(جاوید اعوان سے)پولیس کی وردی پہن کر ٹک ٹاک بنانے پر فوری پابندی لگائی جائے تاکہ وردی کا تقدس پامال نہ ہو وزیر اعلیٰ پنجاب آئی جی پنجاب ڈی آئی جی پنجاب آر پی اووز ڈی پی اووز سے مطالبہ*

*جھنگ(جاوید اعوان سے)پولیس کی وردی پہن کر ٹک ٹاک بنانے پر فوری پابندی لگائی جائے تاکہ وردی کا تقدس پامال نہ ہو وزیر اعلیٰ پنجاب آئی جی پنجاب ڈی آئی جی پنجاب آر پی اووز ڈی پی اووز سے مطالبہ* لیڈیز پولیس ھو یا مردانہ پولیس وردی پہن کر جو ٹک ٹاک بنائی جا رہی ہیں نہ کہ وردی کا تقدس پامال کیا جا رہا ہے بلکہ اعلی آفسران کی شرمندگی کا باعث بن رہا ھے اکثر خواتین پولیس کی ٹک ٹاک وائرل ھو جاتی ھے جس سے اعلی حکام سمیت ٹک ٹاکر کو بھی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ھے ڈیوٹی کے دوران ٹک ٹاک بنانے سے وقت کا ضیاع بھی ھو رہا ھے اور یہ غیر مناسب بھی ھے کہ آپ طرح طرح کے گانے لگا کر سٹائل مارتے دکھائی دیتے ھو اگر آپ کو ٹک ٹاک بنانے اور تفریح کرنے کا اتنا ہی شوق ھے تو خدارا پولیس کی وردی پہن کر ٹک ٹاک بنانے سے اجتناب کریں تاکہ وردی کا تقدس پامال نہ ھو دوسری طرف جھنگ میں زنانہ پولیس کی تعداد 300 بتائی گئ ہیں لیکن افسوس کہ ساتھ کہ ٹک ٹاک پر جو زنانہ پولیس دکھائی دیتی ہیں وہ کبھی ڈیوٹی کرتے شہر یا کسی تھانہ چوکی میں اپنی ڈیوٹی کرتے دکھائی نہیں دی ہیں آئی جی پنجاب سے مطالبہ ہے کہ خدارا پولیس کی وردی میں جو ٹک ٹاک بنائی جا رہی ہیں اس پر فوری طور پر پابندی عائد کی جائے اور خواتین پولیس کو فیلڈ میں کام کرنے کی ہدایت جاری کی جائیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں